بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / خیبر پختونخوا میں ذہنی مریضوں کیلئے اتھارٹی قائم

خیبر پختونخوا میں ذہنی مریضوں کیلئے اتھارٹی قائم

پشاور۔خیبر پختونخوا اسمبلی نے ذہنی مریضوں کی کفالت کیلئے صوبے کی سطح پر علیحدہ اتھارٹی کے قیام اور سول کورٹ میں دیوانی مقدمات میں جرمانوں کی شرح میں اضافے کیلئے پیش ہونے والے 2بلوں کی منظوری دیدی ہے پہلا بل خیبر پختونخوامینٹل ہیلتھ بل 2017ء کو صوبائی وزیر صحت شہرام خان نے ایوان میں پیش کیا جبکہ دوسرا بل خیبرپختونخوا سول کورٹ ترمیمی بل 2017صوبائی وزیر قانون امتیاز شاہد قریشی نے پیش کیا صوبائی اسمبلی اجلاس میں پیر کے روز جب اجلاس سپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت شروع ہوا تو دونوں بلوں کو منظوری کیلئے ایوان میں پیش کیا گیا جس کی ایوان نے اتفاق رائے سے منظوری دی خیبر پختونخوا مینٹل ہیلتھ بل 2017کے تحت صوبہ بھر میں ذہنی امراض پر قابو پانے اور خودکشی کے واقعات میں شرح اموات پر قابو پانے کیلئے ایک خصوصی اتھارٹی کا قیام عمل میں لایا جائیگااور اس اتھارٹی کے چیئر مین سیکر ٹری ہیلتھ ہونگے ۔

جبکہ اسکے علاوہ ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سمیت دیگر پانچ ممبران اس اتھارٹی کا حصہ ہونگے بل کے تحت پورے ضلع میں صحت کے خصوصی مراکز قائم کئے جائینگے اور ذہنی امراض میں مبتلا شخص میں بیماری کیلئے خصوصی طور پر نگران مقرر کیا جائیگا اس بل کے تحت ذہنی معذوری کے تعین ہونے پر اتھارٹی اس شخص کے علاج کی مکمل طور پر پابند ہوگی، بل کے تحت اپنے آپ کسی خاص مقصدیا جرم کو چھپانے کیلئے خود کو ذہنی معذور قرار دینے والے شخص کیلئے سزا بھی تجویز کی گئی ہے۔

جسکے تحت کم سے کم ایک سال اور زیادہ سے زیادہ پانچ سال قید اور ساتھ ہی 50ہزار روپے جرمانے کی سزا بھی دی جائیگی ، اسی طرح ایوان میں پیش ہونے والے دوسرے بل خیبر پختونخوا سول کورٹ ترمیمی بل کے تحت سول ججوں کے اختیارات میں اضافہ کر دیا گیاہے اس بل کے تحت سول ججز کے پاس پہلے دیوانی مقدمات میں صرف 10لاکھ روپے جرمانے عائد کرنے کا اختیار حاصل تھا تاہم اب اس بل کی منظوری کے بعد سول جج کو ایک کروڑ روپے جرمانہ بھی لگانے کا اختیار مند بنا دیا گیا۔