بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / سرمایہ کاری کیلئے سازگار ماحول کی ضرورت

سرمایہ کاری کیلئے سازگار ماحول کی ضرورت

وزیراعظم نواز شریف نے چین میں ون بیلٹ ون روڈ فورم کے موقع پر گول میز کانفرنس سے خطاب میں سی پیک اوراقتصادی تعاون میں اضافے کے علاقائی اور معیشت پر مرتب ہونیوالے اثرات کا احاطہ کیا ہے وزیراعظم کا کہنا ہے کہ اقتصادی تعاون میں اضافے سے علاقائی کشیدگی اور تنازعات میں کمی ہو گی جبکہ ریلوے ٹریک ‘ شاہراہوں ‘ بندرگاہوں اور ہوائی اڈوں کی تعمیر معاشی انقلاب کا باعث ہو گی ‘ وزیراعظم کا کہنا ہے کہ چین کے سنکیانگ‘ گوادر اور کراچی کو آپس میں منسلک کیا جا رہا ہے جبکہ سی پیک منصوبے کے تحت پاکستان بھر میں شاہراہوں کا نیٹ ورک قائم کیا جا رہا ہے ‘ دوسری جانب پاکستان اور چین کے درمیان ریلوے ٹریک کی اَپ گریڈیشن کیلئے فریم ورک معاہدہ طے پاگیا ہے اور ایم ایل ون منصوبے کی اَ پ گریڈیشن کے ابتدائی ڈیزائن کیلئے تجارتی سمجھوتے پر دستخط ہو گئے ہیں ‘ وزیراعظم کے مشیر سرتاج عزیز کا بھی کہنا ہے کہ سی پیک سے خطے کے لاکھوں افراد کی غربت ختم کرنے میں مدد ملے گی۔

‘ پاک چین میڈیا فورم کے سربراہ کا کہنا ہے کہ چین نے ون بیلٹ ون روڈ کی تعمیر کیلئے دس کھرب چینی ین سرمایہ لگانے کا فیصلہ کیا ہے ‘ امن وامان کے حوالے سے شدید چیلنجوں کیساتھ توانائی بحران اور کھربوں روپے کے بیرونی قرضوں تلے دبی وطن عزیز کی معیشت کیلئے ساری صورتحال انتہائی حوصلہ افزاء ہے اس سب کیساتھ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہمارے اپنے ادارے اس سارے بدلتے منظر نامے کو ثمر آور بنانے کیلئے ہوم ورک کر چکے ہیں سی پیک کی سڑکیں اپنی جگہ ان تک پہنچنے کیلئے رابطہ سڑکوں کی تعمیر پر کام ضروری ہے کسی بھی سرمایہ کاری کیلئے بجلی بحران کا خاتمہ ناگزیر ہے کسی بھی صنعتی یونٹ کیلئے ہنر مندافرادی قوت کی ضرورت ہے ‘ سرمایہ کاروں کو خدمات کی فراہمی کیلئے مربوط نظام چاہئے‘ یہ سب اس بات کا متقاضی ہے کہ مرکز اور صوبے مل کر ایک جامع حکمت عملی ترتیب دیں اور تمام سہولیات باتوں اور کتابوں سے نکال کر عملی صورت یقینی بنائیں جس کی تفصیل آن لائن ہو تاکہ لوگ زیادہ سے زیادہ استفادہ کر سکیں۔

سکولز ریگولیٹری اتھارٹی بل

خیبر پختونخوا حکومت نے پرائیویٹ سکولز ریگولیٹری اتھارٹی بل کیخلاف احتجاج کرنیوالے سکولوں کی رجسٹریشن منسوخ کرنے پر غور شروع کر دیا ہے‘ اس مقصد کیلئے متعلقہ بورڈز کو ہدایات بھی جاری کر دی گئی ہیں‘ اس سب کیساتھ بل کو منظور کرانے کی تیاریاں بھی مکمل کر لی گئی ہیں صوبے کی حکومت کے ذرائع کا کہنا ہے کہ بل کا مقصد فیسوں پر کنٹرول اور اساتذہ کے استحصال کا خاتمہ بھی ہے‘ ایجوکیشن سیکٹر میں نجی شعبے کا کردار اہمیت کا حامل ہے جسے ہر سطح پر سراہا بھی جاتا ہے اس کیساتھ اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کہ بعض ادارے قاعدے قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے معیار تعلیم کو بھی متاثر کر رہے ہیں جس کا اثر اچھے اداروں کی ساکھ پر بھی پڑتا ہے اس ساری صورتحال میں اچھے اداروں کی سپورٹ اور غیر معیاری انسٹی ٹیوٹس کیخلاف کاروائی ایڈمنسٹریشن کی ذمہ داریوں کا حصہ ہے اسی احساس کیساتھ ریگولیٹری اتھارٹی قائم کی جا رہی ہے تاہم چونکہ ایجوکیشن سیکٹر میں نجی ادارے اہم سٹیک ہولڈر ہیں اسلئے ان سے مشاورت اور ان کی تجاویز پر غور بھی ضروری ہے کیا ہی بہتر ہو کہ اس اہم مرحلے پر مشاورت کا راستہ اختیار کیا جائے تاکہ پورا سیکٹر قاعدے قانون کا پابند ہوکر معیاری تعلیم کے فروغ میں کردار ادا کر سکے۔