بریکنگ نیوز
Home / کالم / پاک چین تعلقات کا مستقبل!

پاک چین تعلقات کا مستقبل!


ون بیلٹ‘ ون روڈ فورم ترقی کا ایک ایسا تصور ہے جس کی جامعیت سے انکار ممکن نہیں۔ وزیراعظم‘ چاروں وزرائے اعلیٰ اور وفاقی وزراء بیجنگ میں ہیں جہاں دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس میں ستائیس ممالک کے سربراہان مملکت اور اعلیٰ حکام شرکت بھی کررہے ہیں۔ چین کی قیادت سے ملاقاتوں میں مسئلہ کشمیر پیش کیا گیا اور چین نے پاکستان کے مؤقف کی کھل کر تائید کی جبکہ اس موقع پر پاکستان اور چین میں باہمی تعاون کے سات معاہدوں اور مفاہمت کی یاداشتوں پر دستخط بھی ہوئے۔ ان معاہدوں کے تحت دونوں ممالک سلک روڈ اکنامک بیلٹ کے فریم ورک کے تحت تعاون کریں گے۔ چھ دہائیوں سے زیادہ عرصے پر محیط پاکستان چین دوستی بلاشبہ ضرب المثل کی حیثیت رکھتی ہے جسے شہد سے میٹھی‘ ہمالیہ سے بلند اور سمندر سے گہری دوستی محض رسماً نہیں کہا جاتا بلکہ اس بے مثال دوستی کے عملی مظاہرے بھی دنیا کی نگاہوں کے سامنے آچکے ہیں۔خطے میں رونما ہونیوالی اہم تبدیلیوں کے تناظر میں اب پاکستان چین دوستی کی اہمیت اور بھی بڑھ گئی ہے اور سی پیک کے حوالے سے پوری دنیا کی توجہ اس خطے پر مرکوز ہوئی ہے تو اس میں سی پیک کے ذریعے علاقائی اور عالمی سطح پر دنیا کے مختلف ممالک کے مابین تعلقات کی پیدا ہوتی ہوئی نئی جہتوں اور خطے میں اقتصادی و معاشی ترقی کے ہموار ہوتے راستوں سے پاکستان چین دوستی مزید اُجاگر اور مستحکم ہوتی نظر آرہی ہے اس وقت پاکستان کو بھارت کی سازشوں کے باعث سلامتی کے خطرات لاحق ہیں جبکہ گھمبیر ہوتے توانائی بحران کے باعث جن چیلنجوں کا سامنا ہے۔

ان کے پیش نظر چین کی ارض وطن پر نظر عنایت ہمارے لئے کسی نعمت غیرمترقبہ سے کم نہیں۔ چین نے پہلے بھی بیرونی جارحیت کے خطرات‘ اندرونی مسائل اور قدرتی آفات بشمول زلزلہ اور سیلاب کی تباہ کاریوں پر درپیش چیلنجز سے عہدہ برا ہونے کے لئے پاکستان کا دست و بازو بن کر ہمیشہ اس کا بے لوث ساتھ نبھایا ہے اور بھارت کے ساتھ جاری دیرینہ تنازعہ کشمیر پر پاکستان کے مؤقف کی اس سے بھی بڑھ کر حمایت کی ہے جبکہ سلامتی کونسل کی مستقل رکنیت اور نیوکلیئر سپلائرز گروپ کی رکنیت کے معاملہ میں بھی چین نے بھارت کے مقابل ہمیشہ پاکستان کا ساتھ نبھایا جس نے ان دونوں فورموں پر ویٹو پاور استعمال کرکے جہاں بھارت کے لئے سلامتی کونسل کی مستقل رکنیت عملاً ناممکن بنائی وہیں بھارت کی نیوکلیئر سپلائر گروپ کی رکنیت پاکستان کی رکنیت کے ساتھ مشروط کرکے اس خطے میں بھارتی بالادستی کی راہ ہموار کرنیوالے امریکہ اور بھارت نواز دوسری عالمی طاقتوں کو مسکت جواب دیا ہے۔ پاکستان کو دو دہائیوں سے توانائی کے جس سنگین بحران کا سامنا ہے اس سے عہدہ برا ہونے کیلئے چین نے توانائی کے شعبوں میں تعاون کی بھی فراخدلانہ پیشکش کی چنانچہ آج چین کے تعاون سے پاکستان میں توانائی کے کئی منصوبوں پر کام جاری ہے جو توانائی کا بحران ختم کرنے میں ممدومعاون ہوں گے تو پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کے راستے بھی کھل جائیں گے۔ مسلم لیگ نواز کو داخلی محاذ کئی چیلنجز کا سامنا ہے حکومت کو زیر کرنے کیلئے پانامہ لیکس اور نیوز لیکس کی شکل میں دو مؤثر ہتھیار عمران خان اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کے ہاتھ آگئے ہیں۔

جن کے ذریعے اپوزیشن نے حکومت کو زچ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہی۔ حکومت اور عسکری ادارے میں ڈان لیکس کا معاملہ خوش اسلوبی سے طے ہونے اور پانامہ لیکس میں سپریم کورٹ کے فیصلہ کے تحت مزید تحقیقات کے لئے جے آئی ٹی تشکیل کے بعد حکومت خود کو محلاتی سازشوں سے محفوظ تصور کررہی ہے تو اس پرسکون ماحول میں وزیراعظم چاروں وزرائے اعلیٰ کو ساتھ لے کر چین پہنچ گئے ہیں جہاں صرف چین کیساتھ ہی نہیں‘ بین الاقوامی کانفرنس میں شریک ترکی اور دیگر ممالک کی قیادتوں کے ساتھ بھی پاکستان کی ترقی کے حامل ممکنہ منصوبوں کو عملی قالب میں ڈھالنے کیلئے مذاکرات کی راہ ہموار ہوئی ہے۔ چین کی طرح ترکی بھی پاکستان کا قابل اعتماد دوست ملک ہے جس کیساتھ توانائی اور ٹرانسپورٹ کے مختلف منصوبوں پر پہلے ہی معاہدے طے پاچکے ہیں جبکہ اب چین کے ساتھ سی پیک کے علاوہ توانائی کے منصوبوں میں بھی عملی پیش رفت ہو رہی ہے۔ (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: امجد ظہور۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)