بریکنگ نیوز
Home / کالم / وہی حالات ہیں فقیروں کے

وہی حالات ہیں فقیروں کے

جوں جوں موجود ہ حکومت کی اقتدار میں آئینی مدت کا دورانیہ ختم ہوتا جا رہا ہے ملک کے متحارب بڑے سیاسی گروپس خصوصاً بڑی سیاسی جماعتیں باالفاظ دیگر پی پی پی ‘ پی ٹی آئی اور (ن )لیگ اندرون خانہ کوشاں نظر آتی ہیں کہ وہ ریجنل سطح کی سیاسی پارٹیوں کو اپنے اپنے جال میں پھنسائیں انہیں اپنی زلفوں کا اسیر کریں اس لئے وہ ان سے مختلف قسم کے وعدے وعید بھی کر رہی ہیں اب دیکھئے ان میں کونسی بڑ ی سیاسی پارٹی کامیابی سے ہمکنار ہوتی ہے یہ بات تو طے ہے کہ موجودہ بڑی سیاسی پارٹیوں میں ذوالفقار علی بھٹو جیسا کرشماتی اور سیاسی طور پر پرکشش سیاست دان تو موجود نہیں کہ جو تن تنہا2018ء کے الیکشن میں اپنی سیاسی پارٹی کو بھاری اکثریت سے جتوا سکے کہ جس طرح بھٹو مرحوم نے 1970ء کے الیکشن میں جھاڑو پھیرا تھا لا محالہ ان کو مرکزاور بعض صوبوں میں بھی چھوٹی سیاسی پارٹیوں یا دھڑوں کی حکومتیں بنانے میں معاونت درکار ہو گی ‘ ویسے ان بڑی پارٹیوں نے اپنا پورا زور پنجاب پر لگا رکھا ہے کہ کسی نہ کسی طریقے سے وہ وہاں اتنی بھاری اکثریت میں نشستیں جیت لیں کہ ان کو مرکز میں حکومت بنانے کیلئے کسی چھوٹی سیاسی پارٹی کی محتاجی نہ کرنا پڑے سندھ میں ایم کیو ایم کے مختلف دھڑے پختونخوا میں اے این پی جے یو آئی (ف)‘ جماعت اسلامی اور بلوچستان میں جے یو آئی (ف) اور وطن پرست نیشنلسٹ پارٹیاں جس بڑی سیاسی پارٹی کے پلڑے میں اپنا وزن ڈالیں گی وہی مقدر کا سکندر کہلائے گی یہی وجہ ہے کہ چونکہ ان سیاسی جماعتوں کی اہمیت زرداری صاحب‘ وزیراعظم صاحب اور عمران خان صاحب کی نظر میں زیادہ ہے وہ اپنے اپنے انداز میں ان کو رام کرنے کی کوشش میں مشغول ہیں ایک امریکی کہاوت ہے کہ جس کا ترجمہ اردو میں کچھ اس طرح کا ہے کہ کوئی شخص بھی کسی کو لنچ بغیر پیسے وصول کئے مفت نہیں دیتا اس کی قیمت وصول کرتا ہے ظاہر ہے ان چھوٹی سیاسی پارٹیوں کے رہنما جب کسی بڑی سیاسی پارٹی سے معاملہ کریں گے اس کے عوض وہ اس سے بھاری فوائد حاصل کریں گے اور یہ فائدے جیتنے کی صورت میں سینٹ میں چند نشستیں بھی ہو سکتی ہیں۔

یا پھرمرکزاور صوبوں میں وزارتیں بھی‘ مخلوط حکومتیں دو دھاری تلوار کی مانند ہوتی ہیں اگر ایک لحاظ سے وہ اچھی ہوتی ہیں تو دوسری جانب مرکزی حکومت کے لئے ایک مستقل درد سر اور بوجھ بھی‘ اچھی اس لئے کہ ان کی موجودگی میں حکومت وقت کوئی غیر قانونی کام کرنے کی جسارت نہیں کر سکتی اور بری اس لئے کہ وہ اکثر اپنی ہر جائز اورناجائز بات منوانے کیلئے مرکزی حکومت کو بلیک میل کر تی رہتی ہیں اگر مخلوط حکومت شاطر قسم کے Coalition Partners پر مشتمل ہو تو وہ ہر وقت حکومت کے اعصاب پر بری طرح سوار رہتے ہیں ذوالفقار علی بھٹو نے بعض بہت اچھے کام کئے تھے اور وہ اس لئے ہوا کہ قومی اسمبلی میں ان کے پاس واضح اکثریت تھی وہ غریبوں کیلئے اور بھی بہت کچھ کر سکتے تھے لیکن عوامی توقعات پر وہ سو فیصد پورا نہ اترے تھے تب ہی تو حبیب جالب نے اپنا گلہ ان الفاظ میں کیا تھا۔
دن پھرے ہیں فقط وزیروں کے
وہی حالات ہیں فقیروں کے
ہر بلاول ہے دیس کا مقروض
پاؤں ننگے ہیں بے نظیروں کے