بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / نومبر تک لوڈشیڈنگ کے خاتمے کا دعویٰ

نومبر تک لوڈشیڈنگ کے خاتمے کا دعویٰ


کراچی ۔ وفاقی وزیر پڑولیم اور قدرتی وسائل شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے نومبر 2017 ء تک ملک بھر میں لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ کردیا جائے گا،آئندہ سال 10 ہزار میگا واٹ مزید بجلی سسٹم میں شامل ہو جائے گی،کے الیکٹرک کو گیس کی فراہمی میں کمی نہیں کی گئی ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کے روز کراچی کے علاقے ڈیفنس میں پی ایس او کی پہلی جدید”ریٹیل فیسلیٹی شاپ اسٹاپ” کا افتتاح کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) کسٹمرز کو جدید سہولیات مہیا کرنے کی ہر ممکن کوشش کررہی ہے اورپی ایس کے پٹرول پمپس کو ماڑنائز کیا جا رہا ہے۔ ایم ڈی پی ایس او کا مشکور ہوں جن کی کاوشوں سے اس منصوبے پر کام شروع ہوچکا ہے ملک کے دیگر حصوں میں بھی پی ایس او پمپس پر بہترین سپر اسٹور، اے ٹی ایم مشین اورمعقول سیکورٹی مہیا کی جائیگی۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں گیس کی پیداور کو بڑھائے بغیر توانائی کے مسئلہ پر قابو نہیں پایا جاسکتا ،توانائی کے بحران کے حل کے لیے گیس درآمد کر نا ٖضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ گیس کی قلت کو پورا کرنے کے لیے ہم ٹھوس اقدامات کررہے ہیں جس کے کچھ ثمرات سامنے آنا شروع ہوچکے ہیں اور کچھ آنے والے وقتوں میں سامنے آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم کوشش کررہے ہیں کسٹمر کو جس مقصد کے لیے گیس درکار ہو خواہ وہ سی این جی اسٹیشن، انڈسڑی یا کسی اور شعبہ میں اسے مہیا کی جائے۔ انہو ں نے کہا ہم چاہتے ہیں حکومت کسٹمر اور گیس مہیا کرنے والی کمپنی کے درمیان صرف سہولت کار کا کردار ادا کرے دنیا کی بڑی گیس کمپنیا ں پاکستان میں کام شروع کرنے کے لیے تیار ہیں۔

انہو ں نے کہا کہ پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ایران پر پابندیوں کی وجہ سے ہم چاہیے بھی تو ایران سے گیس نہیں منگوا سکتے اورایران چاہتے ہوئے بھی بیچ نہیں سکتا۔ شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ کراچی میں لوڈ شیڈنگ کے دورانیہ میں اضافہ گیس کی قلت کی وجہ سے نہیں، کے الیکٹرک کو آج بھی انتی گیس مہیا کی جارہی ہے جتنا ماضی میں کی جاتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ پی ایس او آئل ریفائنری کراچی میں بہترین کام کررہی ہے ہم چاہتے کسمٹر کی سہولت اور سپلائی چین کو مزید موثربنانے کیلئے ملک کے وسطی علاقے میں ایک نئی آئل ریفائنری قائم کی جائے اس منصوبہ پر چھ ارب ڈالر لاگت آئی گی جس کو پبلک پرائیوٹ پاٹنرشپ کے زریعے شروع کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ لوڈ شیڈنگ کو معجزاتی طور پر ختم نہیں کیا جاسکتا تھا اس کے لیے موثر حکمت عملی کی ضرورت تھی انہوں نے کہا 2018 ء میں 10 ہزار میگا واٹ بجلی سسٹم میں شامل کردی جائے گی اور نومبر 2017 ء سے ملک بھر میں لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ کردیا جائے گا۔ انہو ں نے کہا مسلم لیگ ن کی حکومت توانائی کے لانگ ٹرم منصوبوں پر بھی کام کررہی ہے اور مزید 15ہزار میگا واٹ بجلی سسٹم میں شامل کرنا ہماری لانگ ٹرم پالیسی کا حصہ ہے۔اس موقع پر ایم ڈی پی ایس او شیخ عمران الحق نے کہا کہ ’’نئی باسہولت ریٹیل شناخت کی مد میں صارفین کے لیے سہولتوں کی تجدید کا افتتاح کمپنی کے فیولنگ بزنس کے ساتھ نان فیول بزنس کو بھی جدید بنانے کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔

اس طرز کی سہولیات کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا اور پی ایس او کے آؤٹ لیٹس پر جولائی میں مزید ماڈرن شاپس قائم کی جائیں گی اور یہ سلسلہ آنے والے مہینوں میں جاری رہے گا۔ یہ پی ایس او کے ریٹیل بزنس کی بہتری کے بہت سے اقدامات میں سے ایک ہے۔ اس کے ساتھ ہی پی ایس او کے ملک بھر میں 3600سے زاؤ آؤٹ لیٹس پر اعلیٰ معیار کی فیول پراڈکٹس اور خدمات کی بلاتعطل فراہمی کو یقینی بنانا بھی ہماری اولین ذمہ داری ہے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پی ایس او کے ہیڈ آف نان فیول ریٹیل مرتضیٰ نے کہا کہ ’’ہم پی ایس او کے ملک بھر میں قائم فیولنگ اسٹیشنز پر نئی مصنوعات اور خدمات فراہم کریں گے۔ عہد حاضر کی ضرورتوں کے مطابق اس نئے قدم کے تحت فیول اسٹیشنز پر سہولت اسٹور، خودکار وینڈنگ مشینیں ، موجودہ دور میں تیز رفتار سروس کے حامل ریسٹورانٹس، مالیاتی سہولتیں بشمول برانچ لیس بینکاری اور مائکرو انشورنس جیسی تمام سہولتیں ایک چھت کے نیچے مہیا کی جائیں گی۔ یہ تمام اقدامات اپنے صارفین کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو بہتر انداز میں پورا کرنے کی مہم کا حصہ ہیں۔