بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / خیبر پختونخوا کے اضلاع میں پولیس ایکسس سروس کا قیام

خیبر پختونخوا کے اضلاع میں پولیس ایکسس سروس کا قیام


پشاور۔انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبر پختونخوا صلاح الدین خان محسود نے کہا ہے کہ ایک ہفتے کے اندر اندر صوبے کے تمام اضلاع میں پولیس ایکسس سروس (PAS) کا قیام عمل میں لایا جائیگا۔یہ بات انہوں نے آج کوہاٹ پولیس لائن میں نئی قائم شدہ پولیس ایکسس سروس کے افتتاح کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ تقریب میں کوہاٹ تنازعات کے حل کے کونسلوں کے ارکان، عمائدین علاقہ اور منتخب قومی و صوبائی اسمبلی کے ممبران نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔
واضح رہے کہ سنٹرل پولیس آفس پشاور کے بعد کوہاٹ پہلا ضلع ہے۔ جہاں پر عوامی شکایات کے لیے پولیس ایکسس سروس کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔ آئی جی پی نے کہا کہ پولیس ایکسس سروس عوامی شکایات کے ازالے کے لیے ایک موثر نظام ہے جہاں کہیں سے بھی شکایت کنندہ ایس ایم ایس کے ذریعے ریجنل پولیس افیسر اور ضلعی پولیس کے نوٹس میں اپنی شکایات بروقت لاسکتا ہے۔ آئی جی پی نے مزید کہا کہ یہ نظام ایسے طریقے سے وضع کیا گیا ہے جس میں کوئی بھی ایس ایم ایس شکایت ضائع یا گم نہیں ہوسکتی بلکہ ہر ایک شکایت اپنی نوعیت کے مطابق خود بخود اس کے لیے مختص شدہ کمپیوٹر میں درج ہوگی۔

آئی جی پی نے کہا کہ ریجنل پولیس آفیسر اور ضلعی پولیس آفیسر اس نظام کے تحت معاشرے میں جرائم، دہشت گردی اور دیگر سماجی برائیوں کی ذاتی شکایات بر بذات خود اسی روز جواب دہی کرے گی۔ پولیس ایکٹ کا ذکر کرتے ہوئے آئی جی پی نے کہا کہ نیا پولیس ایکٹ 2017 پر عمل درآمد کیا جارہا ہے۔ دو تین مہینوں کے اندر اندر صوبائی/ضلعی سیفٹی کمیشن، ریجنل کمپلینٹس اتھارٹی قائم کئے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ نئے ایکٹ کے تحت پولیس کے خلاف انکوائری ریجنل کمپلینٹس اتھارٹی کرے گی۔ جن کے ممبران کا چناؤ معاشرے کے انتظامی اُمور کے تجربے کے حامل افراد سے کیا جائیگا۔ انہوں نے کہا کہ کہیں بھی حبس بے جا کی شکایت کی صورت میں سیفٹی کمیشن کے ممبران پولیس اسٹیشن پر چھاپہ مارے گی۔ آئی جی پی نے کہا کہ نئے پولیس نظام میں ریجنل کمپلینٹ اتھارٹی، پبلک سیفٹی کمیشن اور دیگر اقدامات سے پولیس میں شفافیت بڑھے گی اور بداعنوانی کی شکایت میں کمی ہوگی اور آئی جی پی، ڈی آئی جی اور ڈی پی اُوز ہروقت عوام کے ساتھ براہ راست رابطے میں رہیں گے۔

آئی جی پی نے کہا کہ ہم سب کو ملکر نئے نظام کو کامیاب بنانا ہوگا۔ اس سلسلے میں پولیس کو مزید بہتر بنانے کے لیے عوام کے تعاون اور مشوروں کا خیبر مقدم کیا جائیگا۔ آئی جی پی نے کہا کہ مذہبی اور حساس نوعیت کے واقعات میں عوام قانون ہاتھ میں نہ لینے سے سختی سے گریز کریں۔ پولیس قانون کے مطابق بھر پور کاروائی عمل میں لاکر انصاف کے تقاضوں کو ہر قیمت پر پورا کرے گی۔تنازعات کے حل کے کونسلوں کا ذکر کرتے ہوئے آئی جی پی نے کہا کہ ڈی آر سی خیبر پختونخوا کی روایت کی منظم صورت ہے جسمیں مسائل کو باہمی مشاورت سے حل کیا جاتا ہے۔ ڈی آر سی نے لوگوں کے ہزاروں مسائل حل کئے ہیں اور اسے مزید فعال اور مضبوط بنایا جائیگا۔ قبل ازیں آئی جی پی نے تختی کی نقاب کشائی کرکے پولیس ایکسس سروس کوہاٹ کا باقاعدہ افتتاح کیا۔