بریکنگ نیوز
Home / انٹرنیشنل / پاکستانی طیارے سے منشیات کی برآمدگی کا دعویٰ

پاکستانی طیارے سے منشیات کی برآمدگی کا دعویٰ


لندن۔ برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی نے ہیتھرو ایئرپورٹ پر تلاشی کے دوران پی آئی اے کے طیارے سے منشیات کی برآمدگی کا دعویٰ کیا ہے ۔اطلاعات کے مطابق لندن کے ہیتھرو ایئر پورٹ پر برطانوی اہلکاروں نے پاکستان سے آنے والی پی آئی اے کی پرواز پی کے 758 کی تلاشی لی تھی ٗ یو کے بارڈر ایجنسی کے 30 اہلکاروں نے طیارے کی تلاشی میں حصہ لیا اور اس دوران خصوصی تربیت یافتہ کتوں کی بھی خدمات حاصل کی گئی تھیں۔

تلاشی کے تمام عمل کی باقاعدہ وڈیو بنائی گئی۔ اس دوران طیارے میں موجود 13 رکنی کریو کو زیر حراست رکھا گیا اور ان سے 5 گھنٹے تک تفتیش کی جاتی رہی۔ذرائع کے مطابق طیارے کے عملے کے تیرہ افراد ہوٹل میں موجود ہیں اور ان کے پاسپورٹس ضبط کر لئے گئے ہیں اور انہیں ہدایت کی گئی ہے کہ وہ بغیر بتائے کہیں سفر نہیں کریں۔برطانوی امیگریشن حکام نے پی آئی اے حکام کو 16پاسپورٹ واپس کیے ،پاسپورٹ ملنے کے بعد پی آئی اے کریو (آج) بدھ کو طیارہ لے کرپاکستان کیلئے روانہ ہوگا۔اس سے قبل پی آئی اے کے ترجمان مشہود تاجور نے کہا تھا کہ پولیس نے پائلٹ سمیت عملے کے 13 افراد کو حراست میں لیا تھا تاہم اب پی آئی اے کے عملے کو رہا کردیا گیا ہے ۔

انہوں نے کہاکہ پی آئی اے حکام نے واقعے پر برطانوی حکام سے وضاحت طلب کر لی ہے، اس کے علاوہ لندن میں پی آئی اے کے اسٹیشن منیجر ساجد اللہ سے واقعہ کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ واقعہ پر پائلٹ حامد گردیزی کا مؤقف اور لاگ بک میں لکھے اپنے تاثرات سے آگاہ کیا جائے۔نجی ٹی وی کے مطابق لندن میں روکے گئے پی آئی اے کے عملے نے بتایا کہ 8 گھنٹے تک روکے جانے کے بعد رات بھر سو نہیں سکے ، طیارہ لینڈنگ سے قبل 15 منٹ تک فضا میں چکر لگاتا رہا تھا۔انہوں نے بتایا کہ کسٹم حکام نے ایک ایک چیز کی تلاشی لی جس کے دوران جہاز کو ادھیڑ کر رکھ دیا گیا ٗ جہاز کو ایسی تلاشی کے بعد فوراً بھیج دینا خطرناک بھی ہوسکتا تھا۔

عملے نے شکوہ کیا کہ پی آئی اے کے اعلیٰ حکام نے خیریت تک دریافت نہیں کی ٗخیال تھا کہ اس اذیت سے گزرنے پر حکام اظہار ہمدردی کریں گے۔پی آئی اے عملے کے مطابق کسٹم حکام نے ہم سے صرف طیارے میں ڈیوٹی سے متعلق سوالات کیے۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان واپس جانا ہے، واپسی سے قبل پاسپورٹ دینے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے، تاہم سمجھ نہیں آیا کہ ایسا سلوک کیوں کیا گیا۔طیارے پر مجموعی طور پر عملے کے 16 ارکان موجود تھے ٗعملے نے مطالبہ کیا کہ غلط اطلاعات دے کر قومی ایئر لائن کو بدنام کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔