Home / کالم / عتیق صدیقی / ڈائریکٹر ایف بی آئی کی سبکدوشی

ڈائریکٹر ایف بی آئی کی سبکدوشی

گزشتہ سال کی انتخابی مہم کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ کوپسند کرنے والوں کا خیال تھا کہ صدر امریکہ بن جانے کے بعد وہ نارمل ہو جائیں گے اور اگر ایسا نہ ہوا تو ریپبلکن پارٹی کے با اثر لوگ انہیں راہ راست پر لے آئیں گے اس میں حیرانگی کی بات یہ نہیں کہ لوگوں نے اس خوش گمانی کی بنیاد پر کیوں ووٹ دئے حیران کن بات تو یہ ہے کہ اب اتنا کچھ ہو جانے کے بعد بھی صدر ٹرمپ کے حمایتی یہ آس لگائے بیٹھے ہیں کہ وہ سنبھل جائیں گے حلف اٹھانے کے چوبیس دنوں بعد انہوں نے اپنے متعین کردہ نیشنل سیکورٹی ایڈوائیزر مائیکل فلن کو برخواست کر دیا اسکی وجہ انکا واشنگٹن میں روس کے سفیرSergy Kislyakسے خفیہ ملاقاتیں تھیں ان ملاقاتوں میں ہونے والی گفتگو کو ایف بی آئی نے ریکارڈ کیا تھااس کے بعد نئے اٹارنی جنرل Jeff Sessionکو ٹرمپ کی انتخابی مہم کے سینئر اراکین کے روس کے ساتھ خفیہ تعلقات کو دانستہ طور پر چھپانے کے الزام میں یہ اعلان کرنا پڑا کہ وہ اس معاملے میں ہونے والی تحقیقات سے الگ تھلگ رہیں گے ملک میں قانون نافذ کرنے والے ادارے کے سربراہ کا خود مشکوک ہو جانا ایک بہت بڑی بات تھی مگر صدر ٹرمپ کے طوفانی دور صدارت میں یہ حادثہ بھی بہت جلد بھلا دیا گیا اب نو مئی کو ایف بی آئی کے ڈائریکٹر جیمز کومی کی اچانک سبکدوشی نے واشنگٹن میں ایک نئی ہلچل مچا دی ہے اس نئے ہنگامے کے بعد صدر ٹرمپ کے سنبھلنے اور سدھرنے کے بارے میں بہ زبان شاعر یہی کہا جا سکتا ہے۔

دن بدن بڑھتی گئیں اس حسن کی رعنائیاں
پہلے گل، پھر گل بدن پھر گل بداماں ہو گئے
ایف بی آئی کے ڈائرکٹر کا عہدہ صدر امریکہ کی کابینہ میں اسلئے دوسرے تمام عہدوں سے زیادہ ممتاز ہوتا ہے کہ اسکی میعاد دس برس ہوتی ہے حکومتیں بدلتی رہتی ہیں مگر اس دفتر میں بیٹھے ہوئے شخص کو برخواست نہیں کیا جاتاگزشتہ پچاس برس کی تاریخ میں صرف دو مرتبہ ایسا ہوا کہ صدر امریکہ کو اپنے اٹارنی جنرل کو سبکدوش کرنا پڑا ایک مرتبہ صدر نکسن نے واٹر گیٹ سکینڈل کے عروج کے دنوں میں اپنے تحفظ کی خاطر اس کھائی میں چھلانگ لگائی وہ اس کی تاریکیوں میں استعفیٰ دینے کے بعد ہمیشہ کے لئے روپوش ہو گئے اسکے بعد صدر بل کلنٹن نے ایک جنسی سکینڈل کے دوران اپنے اٹارنی جرنل کو فارغ کیا تھا وہ خوش قسمت ثابت ہوے اور مواخذے کے باوجود بچ نکلے اب صدر ٹرمپ نے اس جرات رندانہ کا مظاہرہ کیا ہے ان تینوں واقعات میں قدر مشترک یہ ہے کہ ہر مرتبہ صدر امریکہ نے یہ کہا کہ ڈائرکٹر ایف بی آئی میرا اعتماد کھو چکے تھے مجھے انکی غیر جانبداری پر شک تھا اسلئے انہیں سبکدوش کرنا پڑا صدر ٹرمپ نے جیمز کومی پر جو حیران کن الزام لگایا ہے وہ یہ ہے کہ انہوں نے انتخابات کے دنوں میں ہیلری کلنٹن کی ای میل کے معاملے کو بڑی غیر ذمہ داری سے برتا تھا ہیلری کلنٹن یہ الزام جیمز کومی پر بہت پہلے لگا چکی ہیں سابقہ خاتون اول نے تو یہاں تک کہہ دیا ہے کہ انتخابات نو نومبر کی بجائے اگر ستائیس اکتوبر کو ہو جاتے تواب وہ صدر امریکہ ہوتیں جیمز کومی نے چند نئی ای میلز ہاتھ آنے کے بعد اٹھائیس اکتوبر کو انکشاف کیا تھا کہ وہ ہیلری کلنٹن کے خلاف نئی تحقیقات کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں پھر چار نومبر کو انہوں نے یہ کہا کہ نئی ای میلز میں ملنے والا مواد اتنا بھرپور نہیں کہ اسکی بنیاد پر ایک مضبوط مقدمہ قائم کیا جا سکے مگر اسوقت تک ووٹروں کی ایک بڑی تعداد ہیلری کلنٹن سے بدظن ہو چکی تھی اب صدر ٹرمپ کا اس فساد کی بنیاد پر اپنے ڈائریکٹر کو فارغ کرنا اگر چہ محیرالعقول بات ہے مگر لوگ اب ان حیرانگیوں کے عادی ہو چکے ہیں۔

صدر ٹرمپ کی صدارت کے بارے میں یہ مقولہ اب پرانا ہو چکا ہے کہ There is never a dull day یہاں ہر روز کسی نئے فساد کا کھڑا ہو جانا کوئی حیران کن بات نہیں رہی اس وقت ٹرمپ روس کنکشن کے بارے میں تین کمیٹیاں تحقیقات کر رہی ہیں ایک ہاؤس، ایک سینٹ اور ایک ایف بی آئی کی اپنی کمیٹی اس معاملے کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش کر رہی ہے کہ انتخابی مہم کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ کے نائبین کی روس کی حکومت کیساتھ تعلقات کی اصل نوعیت کیا تھی اس تعلق میں پیسوں کا لین دین ہوا تھا یا نہیں اور دونوں نے ملکر انتخابات پر اثر انداز ہونے کیلئے کوئی ساز باز کیا تھا یا نہیں ان تمام معاملات کی چھان بین ہو رہی ہے اسوقت تک صدر ٹرمپ اس تحقیق میں شامل نہیں مگر انکے اس گھیرے میں آ جانے کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا واقفان حال جیمز کومی کی برخواستگی کی اصل وجہ یہ بتا رہے ہیں کہ انہوں نے چند روز پہلے اپنے باس اٹارنی جنرل جیف سیشن کو خط لکھا تھا کہ انہیں صدر ٹرمپ کے نائبین کے روس کیساتھ تعلقات کی چھان بین کیلئے مزید سٹاف کی ضرورت ہے اس خط کو پڑھ کر صدر ٹرمپ کو یہ خطرہ لاحق ہو گیا ہو گا کہ جیمز کومی انکے گرد گھیرا تنگ کر رہے ہیں اس صورت میں انکے پاس دو راستے باقی بچے تھے ایک یہ کہ وہ اپنے ڈائریکٹر کو یہ کام جاری رکھنے دیتے اور دوسرا یہ کہ وہ اسے برخواست کر دیتے جیمز کومی کے بارے میں سب جانتے ہیں کہ وہ نہایت ہٹ دھرم اور سخت مزاج واقع ہوئے ہیں دوسری طرف صدر ٹرمپ اپنے تمام نائبین سے مکمل وفاداری کی توقع رکھتے ہیں ڈائریکٹر کومی بعض اطلاعات کے مطابق صدر ٹرمپ سے کہہ چکے تھے کہ وہ امریکی عوام کے مفادات کو مقدم سمجھتے ہیں نظر یہ آ رہا ہے کہ صدر ٹرمپ نے صدر نکسن کی طرح ایک ہٹ دھرم اور طاقتور ڈائرکٹر کے مقابلے میں اپنا دفاع کرنے کیلئے یہ اقدام کیاہے‘ جیمز کومی کی سبکدوشی نے جس نئے بحران کو جنم دیا ہے۔

اسے آسانی سے وائٹ ہاوس کے نئے حادثات و فسادات کے ملبے میں چھپایا نہ جا سکے گا امریکی صدر کی سب سے بڑی ذمہ داری ملک میں قانون کے نفاذ کو یقینی بنانا ہوتا ہے صدر امریکہ پر اگر خود قانون کی پابندی نہ کرنے کا الزام لگ جائے تو پورے نظام کے متاثر ہونے کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے صدر ٹرمپ اس نظام کو نقصان تو پہنچا سکتے ہیں مگر وہ اسے ملیا میٹ نہیں کر سکتے امریکی ریاست کے ادارے اتنے مضبوط اور توانا ہیں کہ انہیں تلپٹ کرنا آسان نہیں صدر ٹرمپ اپنی ناتجربہ کاری اور اضطراری طبیعت کی وجہ سے ہنگامہ خیز انداز میں حکومت کرتے رہیں گے امریکہ کی جگ ہنسائی ہوتی رہے گی مگر فی الحال انکے مواخذے کے امکانات نظر نہیں آ رہے اسکی ایک وجہ یہ ہے کہ ریپبلکن پارٹی ہاؤس اور سینٹ دونوں ایوانوں میں اکثریت رکھتی ہے وہ اپنے صدر کا مواخذہ کر کے سیاسی خودکشی نہیں کرے گی دوسرا یہ کہ ڈیموکریٹک پارٹی بھی چاہتی ہے کہ وائٹ ہاؤس میں یہ ہنگامہ آرائی لگی رہے تا کہ میڈیا صدر ٹرمپ اور ریپبلکن پارٹی کی خوب خبر لیتا رہے اس شور شرابے میں ڈیموکریٹس کیلئے اگلے سال کے وسط مدتی انتخابات جیتنا بھی آسان ہو گا اورچار سال بعد ہونے والے صدارتی انتخابات میں بھی صدر ٹرمپ جیسے کمزور امید وار کو شکست دینا مشکل نہ ہو گا جہاں تک صدر ٹرمپ کی آشفتہ سری کا تعلق ہے تو اسکے بارے میں ظفر اقبال صاحب کے اس شعر سے رجوع کیا جا سکتا ہے ۔
گرد رسوائی ابھی جھاڑ کے بیٹھا ہوں ظفر
دل ہے کیا جانے کوئی اور حماقت کر دے