بریکنگ نیوز
Home / کالم / عالمگیر آفریدی / گلبدین حکمت یار کا مستقبل

گلبدین حکمت یار کا مستقبل


افغانستان کی تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال کا ایک مثبت اور تعمیری منظروہ ہے جسمیں سوویت یونین کے خلاف جہاد کرنے والی سب سے بڑی اور منظم جہادی تنظیم حزب اسلامی کے سربراہ انجینئرگلبدین حکمت یارکا گزشتہ سال ستمبر میں حکومت کے ساتھ امن معاہدے کے بعد اپنی خود ساختہ رو پوشی ختم کرتے ہوئے کابل میں ایک بڑے عوامی اجتماع سے خطاب کرناہے۔ واضح رہے کہ مذکورہ امن معاہدے کے حوالے اس وقت خدشات نے جنم لینا شروع کر دیا تھا جب گلبدین حکمت یار کے نام کی اقوام متحدہ کی بلیک لسٹ سے نکالے جانے کے حوالے سے افغان حکومت کی جانب سے لکھے جانے والے مکتوب کی ترسیل میں بعض رکاوٹیں پیش آ رہی تھیں جس سے حکمت یار کی رو پوشی کے خاتمے کا معاملہ کچھ مزید عرصے کیلئے لٹک گیا تھا لیکن اب جب حکمت یار نہ صرف کابل میں قدم رنجہ فرما چکے ہیں بلکہ وہاں انکو حکومت کے ساتھ ساتھ عوامی سطح پر جو پر جوش پذیرائی ملی ہے اور حکمت یار نے ایک بڑے عوامی جلسے سے خطاب کے دوران جولب و لہجہ اختیار کیاہے اور وہ افعانستان میں قیام امن کیلئے جس موقف کا برملااظہارکر رہے ہیں اسکا حکومتی اور سیاسی حلقوں میں تو زبردست خیر مقدم کیا جارہاہے لیکن مسلح مزاحمت سے متعلق انکے موقف کی اس تبدیلی کواگر ایک جانب بعض جہادی حلقے شدید تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں تو دوسری طرف بعض انتہائی سیکولر اور لبرل مغرب نواز طبقے ان کے ماضی کوکریدتے ہوئے انکی کردارکشی کی منظم کوششیں بھی کررہے ہیں‘۔

یاد رہے گلبدین حکمت یار کے افغانستان میں امریکی اور اتحادی افواج کی موجودگی نیز موجودہ سیاسی سیٹ اپ کے خلاف سخت گیر اور غیر لچکدار موقف کی وجہ سے حزب اسلامی پچھلے ڈیڑھ عشرے سے کئی دھڑوں میں بٹی ہوئی تھی جن میں ایک دھڑاحکمت یار کی قیادت میں مسلح جدوجہد میں مصروف تھا جبکہ ایک اورسیاسی دھڑا ارغندیوال کی سربراہی میں موجود سیاسی سیٹ اپ کا حصہ بنتے ہوئے موجود آئین کو تسلیم کر کے پارلیمانی اور صدارتی انتخابات میں حصہ بھی لے چکا ہے۔ حزب اسلامی کا ایک دھڑاجمعیت اصلاح کے نام سے وجود میں آچکا ہے جو نہ صرف یہ کہ مسلح جدوجہد کے روایتی تصور سے دستبردار ہو چکا ہے بلکہ وہ مین سٹریم سیاست کا حصہ بھی نہیں بنا اور اس نے ان دونوں راستوں کے درمیان کا راستہ منتخب کر تے ہوئے غیر عسکری اور غیر سیاسی جدوجہد پرمبنی دعوت وتبلیغ کے ذریعے پر امن انداز میں اسلامی معاشرے اور اسلامی حکومت کی تشکیل کا راستہ چنا ہے۔ گلبدین حکمت یار کو کابل میں داخلے پر ملنے والے پر جوش استقبال اور خاص کر صدارتی محل میں افغان صدر ڈاکٹر اشرف غنی ،چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر عبداللہ عبد اللہ ،سابق صدر حامد کرزئی ،شیعہ راہنما استاد محقق اورسابق جہادی راہنما پروفیسر عبدالرب رسول سیاف کی جانب سے انکی میزبانی اور خاص پذیرائی نے اگر ایک طرف افغان جہاد کے عروج کے زمانے میں حزب اسلامی اور گلبدین حکمت یار کی عوامی مقبولیت کی یا د تازہ کردی ہے تودوسری جانب اکثر سیاسی مبصرین حزب اسلامی اورحکمت یار کی پالیسی میں اس تبدیلی کو افغانستان کے مجموعی سیاسی منظر نامے میں ایک بہت بڑی تبدیلی سے بھی تعبیر کررہے ہیں۔

حکمت یار کی افغان نیشنل آرمی کے جلومیں واپسی اوران کی جانب سے افغان نیشنل آرمی پر اعتماد کے اظہار نیز طالبان سمیت تمام عسکریت پسند گروپوں کو ہتھیار پھینک کر پرامن اورسیاسی جدوجہدکے ذریعے اقتدار تک رسائی کاجوپیغام دیا ہے گو بعض حزب اورحکمت یار مخالف سیکولر اورلبرل حلقے اس پر تنقید کرتے ہوئے ان سے پابندیاں اٹھانے اور افغان سیاسی عمل میں ان کی واپسی اور کے ممکنہ کردار پر اعتراضات بھی اٹھا رہے ہیں لیکن بحیثیت مجموعی افغان قوم اور بین الاقوامی قوتوں نے حکمت یار کے اس فیصلے کانہ صرف خیر مقدم کیاہے بلکہ انکے اس فیصلے کو بڑے پیمانے پر سراہابھی جارہاہے۔ گوکہ بعض حلقوں کادعویٰ ہے کہ حکمت یار کو مین سٹریم سیاست میں آگے لانے کے پیچھے اصل ہاتھ امریکہ کاہے لیکن اس ضمن میں پاکستان کی خواہش اورکوششوں کو بھی نظر اندازنہیں کیا جاسکتا ہے کیونکہ افغانستان کے رستے ہوئے زخم کو مندمل کرنے میں کوئی ایسی ہی شخصیت کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے جوپاکستان اور ایران سمیت افغانستان کے تمام پڑوسی ممالک کے لئے قابل قبول ہولہٰذا اس فارمولے کے تحت گلبدین حکمت یار ہی ایک موزوں چوائس ثابت ہوسکتے ہیں۔