بریکنگ نیوز
Home / کالم / چین: اقتصادی اثر ورسوخ میں اضافہ

چین: اقتصادی اثر ورسوخ میں اضافہ


کیا عوامی جمہوریہ چین دنیا کا سب سے زیادہ ’سخی ملک‘ ہے یا اپنے اقتصادی و تجارتی مفادات کیلئے وہ ایک ایسی منصوبہ بندی کئے بیٹھا ہے جس میں ہر ملک کے کشکول میں کچھ نہ کچھ ڈال دیا جائے لیکن یہ پورا عمل سب سے زیادہ سودمند چین ہی کیلئے ہو گا‘ جو دنیا کی ترقی کا ایک ایسا خواب دیکھ رہا ہے جس میں سب ایک دوسرے کے ’دست و بازو‘ بنیں! چین کے صدر شی جن پنگ نے ’’ون بیلٹ اینڈ ون روڈ‘‘ نامی عالمی کانفرنس کے آغاز پر 124‘ ارب ڈالر کے ترقیاتی منصوبوں کا عہد کیا۔ چین کی میزبانی میں اُنتیس ممالک کے سربراہ گول میز کانفرنس میں شریک ہوئے اور باہمی دلچسپی کے امور پر مذاکرات کئے گئے‘ عوامی جمہوریہ چین خطے میں اقتصادی ترقی اور اقوام عالم میں ربط باہم کے لئے جو مثبت پیش رفت کر رہا ہے وہ علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کو لاحق ان سنگین خطرات کا بہترین توڑ ہے جو بھارت اور اقوام عالم میں ایٹمی ہتھیاروں اور ٹیکنالوجی کو اپنے مقاصد کے تحت فروغ دینے کے جنون میں مبتلا سپرپاور امریکہ کے ہاتھوں علاقائی اور عالمی برادری کو لاحق ہیں۔ چین نے پاکستان کی سلامتی مضبوط کرنے کی خاطر ایٹمی دفاعی تعاون کے متعدد معاہدے کئے جو اس وقت روبہ عمل ہیں۔ یہ معاہدے امریکہ کے اس طرزعمل کا بھی جواب ہیں جو اس نے بھارت کے ساتھ ایٹمی دفاعی معاہدے کرکے اور ایسے ہی معاہدے ہمارے ساتھ کرنے سے انکار کرکے اختیار کیا تھا۔ بھارت کو پاک چین دوستی کے حوالے سے سب سے زیادہ تکلیف گوادر پورٹ اور اقتصادی راہداری منصوبے کی تکمیل سے ہے۔

چین کے تعاون سے پایۂ تکمیل کو پہنچنے والے سی پیک نے امن و سلامتی اور اقتصادی ترقی و خوشحالی کے حوالے سے دنیا کی سوچ بدل کر رکھ دی ہے چنانچہ جنونیت اور اسلحہ کے زور پر دنیا پر غالب آنے والی سوچ پر چین کی مثبت اور تعمیری سوچ کو غلبہ حاصل ہورہا ہے اور برصغیر جنوبی ایشیاء‘ وسطی ایشیاء‘ افریقہ اور یورپ سمیت دنیا کے کم و بیش تمام ممالک اپنی اپنی اقتصادی ترقی کی خاطر خود کو ’سی پیک‘ سے منسلک کرنے کی خواہش کا اظہار کرچکے ہیں جن میں سے بیشتر ممالک کی جانب سے ’سی پیک‘ کے ساتھ منسلک ہونے کے معاملہ میں پیش رفت بھی ہوچکی ہے۔ اس تناظر میں ’سی پیک‘ علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کی ضمانت بھی فراہم کررہا ہے کیونکہ اس سے وابستہ ہونے والا کوئی بھی ملک اپنی اقتصادی ترقی کی خاطر اب اس منصوبے کو کسی جنونیت کے ہاتھوں سبوتاژ نہیں ہونے دے گا۔ پاکستان کے لئے پاک چین دوستی کا بندھن اس لئے بھی اہمیت کا حامل ہے کہ اقتصادی راہداری منصوبے کے علاوہ ہمارا دوست چین اپنے ’’ون بیلٹ ون روڈ‘‘ منصوبے کے تحت بھی پاکستان میں تقریباً پانچ سو ملین ڈالر کی مزید سرمایہ کاری کا عندیہ دے چکا ہے جس کے لئے ’عالمی کانفرنس‘ کے موقع پر چین نے پاکستان کے ساتھ مزید سات اہم ترقیاتی منصوبوں کے معاہدے طے کئے ہیں جن کی تکمیل کے لئے چین مالی اور تکنیکی تعاون فراہم کرے گا۔

وزیراعظم میاں نوازشریف کے دورہ چین کے حوالے سے یقیناًیہ اہم اور مثبت پیش رفت ہے کہ سی پیک کے علاوہ چین بھاشا ڈیم‘ گوادر ائرپورٹ‘ حویلیاں ڈرائی پورٹ کی تعمیر‘ ایم ایل ون شاہراہ کی اپ گریڈیشن اور ایسٹ بے ایکسپریس وے‘ ریلوے ٹریک اور مختلف دوسرے منصوبوں کے لئے رعایتی قرضوں کی فراہمی کے لئے بھی ہمارے ساتھ تعاون میں پیش پیش ہے چنانچہ برادر چین کے تعاون سے پاکستان فی الواقع معاشی انقلاب سے ہمکنار ہورہا ہے‘ جس سے ملک کے عوام کا مقدر بھی سنور جائے گا۔ اسی طرح چین‘ روس‘ ترکی اور پاکستان کے تعاون سے اس خطے کا امن و سلامتی کی جانب سفر شروع ہوگا تو یہ علاقائی ہی نہیں عالمی امن و سلامتی کی بھی ضمانت بن جائیگا‘ جس کے اشارے ابھی سے ملنا شروع ہوگئے ہیں۔ اس تناظر میں روس کے صدر ولادی میر پیوٹن نے درست نشاندہی کی ہے کہ چین کے ون بیلٹ ون روڈ منصوبے کیساتھ دنیا کا مستقبل وابستہ ہے۔ چین نے سلک روڈ فنڈ میں مزید ’ایک کھرب یوآن‘ فراہم کرنے کا بھی اعلان کیا ہے جس سے پاکستان اور چین کے ساتھ دنیا کے روابط استوار کرنے والی شاہراہ ریشم اقتصادی راہداری کے لئے بہترین معاون بن جائے گی۔ اس لحاظ سے شہد سے میٹھی‘ ہمالیہ سے بلند اور سمندر سے گہری پاک چین دوستی اس خطۂ ارضی کو امن و آشتی کا گہوارا بنانے کی ضمانت بھی فراہم کررہی ہے‘ چنانچہ جو بھارت اپنی جنونیت اور انتہاء پسندی کے زور پر پاکستان کو دنیا میں تنہاء کرنے کی سازشوں میں مگن تھا‘ وہ بہتر حکمت عملی پر مبنی پاک چین دوستی کے باعث خود عالمی تنہائی کا شکار ہوتا نظر آرہا ہے۔ (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ماہین ظفر۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)