بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / عالمی عدالت کا دائرہ اختیار

عالمی عدالت کا دائرہ اختیار

پاکستان نے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کی سزائے موت کیخلاف بھارتی اپیل کو چیلنج کرتے ہوئے جو جاندار موقف اپنایا ہے اس پر بھارتی میڈیا سیخ پا ہو گیا ہے خود بھارتی ذرائع ابلاغ مودی سرکار کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے عالمی عدالت جانے کو بڑی غلطی قرا ر دے رہے ہیں‘ میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان نے موقف اپنایا ہے کہ کلبھوشن کا مقدمہ ہنگامی نوعیت کا حامل ہرگز نہیں ‘ ویانا کنونشن کے تحت یہ مقدمہ عالمی عدالت میں چلایا ہی نہیں جا سکتا نہ ہی عالمی عدالت کو کلبھوشن کا مقدمہ سننے کا کوئی اختیار ہے پاکستان کا یہ ٹھوس موقف ہے کہ بھارتی جاسوس کو بلوچستان سے گرفتار کیا گیا گرفتاری پر بھارت کو آگاہ بھی کیا گیا تھا ‘ بھارت نے اس وقت کوئی رد عمل نہیں دیا اس بات سے انکار بھی نہیں کیا جاسکتا کہ بھارتی جاسوس نے اپنے بیان میں پاکستان کے اندر دہشتگردی کرانے کا اعتراف بھی کیا اس کی ویڈیو بھی موجود ہے جہاں تک بھارت کی جانب سے آرٹیکل41 کے حوالے کا تعلق ہے ۔

تو خود اس شق کے تحت صرف ہنگامی نوعیت کے مقدمات ہی عالمی عدالت میں دائر کئے جا سکتے ہیں اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ بھارت مقبوضہ کشمیر سے متعلق اقوام متحدہ کی قرار دادوں پر عملدرآمد سے گریز کر رہا ہے انکار اس بات سے بھی نہیں کہ بھارت میں انسانی حقوق کیلئے ترتیب دیئے گئے عالمی قوانین کی دھجیاں بکھیری جا رہی ہیں مقبوضہ وادی میں ہونیوالی کاروائیاں سب کے سامنے ہیں اس ساری صورتحال سے دنیا کی توجہ ہٹانے کی غرض سے بھارت کے پاکستان کیخلاف بے بنیاد الزامات بھی ریکارڈپر ہیں عالمی عدالت انصاف میں کلبھوشن کا کیس ایک جانب عالمی برادری کو مقبوضہ کشمیر سے متعلق اقوام متحدہ کی قرار دادوں پر عملدرآمد کیساتھ مقبوضہ وادی میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا نوٹس لینا چاہئے‘ ویانا کنونشن کے حوالے دینے والوں کو عالمی ادارے کی قرار دادوں کے احترام کا بھی کہا جائے اس سب کیساتھ سارے منظر نامے میں پورے خطے کے امن کیلئے پاکستان کی کاوشوں کو بھی سامنے رکھنا ہو گا۔

محکمہ صحت کی کارکردگی رپورٹ

خیبر پختونخوا میں محکمہ صحت کی کارکردگی سے متعلق اعداد وشمار انتہائی قابل اطمینان ہی سہی خدمات کی فراہمی سے متعلق عوامی شکایات سے آنکھیں بند کرنا کسی طور ممکن نہیں محکمے کی کارکردگی رپورٹ کے مطابق 22 ہزار آسامیاں تخلیق ہوئیں چار در جاتی فارمولے نے پروموشنز کیلئے راستے کھولے وظائف میں اضافہ ہوا بعض کیڈرز کے ملازمین کو اَپ گریڈیشن بھی دی گئی اس سب کے باوجود کسی سرکاری ہسپتال میں عام شہری کیلئے روٹین میں معائنہ کرانا ابھی تک مشکل ترین کام ہے آپریشن کیلئے ٹائم ملنا ابھی تک اتنا ہی دشوار ہے جتنا پہلے تھا مریضوں کی بڑی تعداد اب بھی مشکل مالی حالات میں بھی پرائیویٹ کلینکس کا رخ کرتی ہے حکومت کے اقدامات اور خصوصاًصحت انصاف کارڈ کا اجراء قابل تعریف ضرور ہے تاہم اپنے اقدامات کے نتائج بر سرزمین لانا ایک بڑا چیلنج ہے اس کیلئے ذمہ دار شعبوں کے ذمہ داروں کو دفتروں سے باہر نکل کر موقع پرجانے اور حقائق پر مبنی رپورٹس کا پابندبنانا ہو گا بصورت دیگرہیلتھ سیکٹر کے لئے حکومت کے سارے اقدامات ‘ اصلاحات اور مراعات رائیگاں ہی تصور ہوتی رہیں گی۔