بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / متروکہ وقف املاک بورڈ میں خرد برد کا انکشاف

متروکہ وقف املاک بورڈ میں خرد برد کا انکشاف

اسلام آباد۔پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کے اجلاس میں متروکہ وقف املاک بورڈ کے اندر خرد برد سمیت دیگر مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے ،متروکہ وقف املاک کی جانب سے سرمایہ کاری کے لئے اربوں روپے غیرقانونی طور پر جاری کیے گئے جبکہ کمیٹی نے ذمہ داران کے خلاف کاروائی کی تفصیلات 15دنوں کے اندر طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ تفصیلات کا جائزہ لینے کے بعد معاملہ نیب یا ایف آئی اے کو بھیجنے کا فیصلہ کرینگے۔تفصیلات کے مطابق پی اے سی کا اجلاس کمیٹی کے چیئرمین سید خورشید شاہ کی زیر صدارت ہوا ۔کمیٹی کا اجلاس شروع ہوا تو محمود خان اچکزئی اور خورشید شاہ کے درمیان دلچسپ جملوں کا تبادلہ ہوا ۔ محمود اچکزئی نے کہا کہ آج تو پورا ایجنڈا خورشید شاہ کے خلاف ہے،آج وزارت مذہبی امور ایجنڈہ ہے اور آپ مذہبی امور کے وزیر رہے ہیں۔

آج تو ہم سخت نوٹس لیں گے جس پر خورشید شاہ نے جواب دیا کہ میں اجلاس شروع کر کہ آپکے حوالے کر جاوں گا، آپ سخت نوٹس لیں،میں اجلاس میں بیٹھا رہا تو ممکن ہے آپ نوٹس نہ لے سکیں۔اس پر جنید انوار چوہدری نے خورشید شاہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ بیٹھے رہیں تو آسانی ہوگی، آپکی غیر موجودگی میں مروت میں مارے جائینگے۔کمیٹی اجلاس میں حاجی کیمپ لاہور کی نیلامی کا معاملہ بھی اٹھایا گیا جس پر پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے حاجی کیمپ لاہور کو نیلام کرنے سے روک دیا اور چیئرمین کمیٹی سید خورشید شاہ نے کہا کہ حاجی کیمپ لاہور پرائیویٹ ڈولپرز کو دینے کا مقصد سب کو سمجھ میں آ رہا ہے،حاجی کیمپ کی زمین عوام کے پیسوں سے خرید کی گئی ہے،زمین بیچنے سے حاجیوں کے لییے مشکلات پیدا ہونگی۔پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے حاجی کیمپ لاہور کے تمام تفصیلات طلب کرلی۔کمیٹی کو آڈٹ حکام کی جانب سے متروکہ وقف املاک بورڈ میں مالی بے ضابطگیوں کے حوالے سے بتایا گیا کہ ایک ارب تیس کروڑ سے زائد کی بے قاعدگیاں کی گئیں اور متروقہ وقف املاک نے کیش بک آڈٹ کو نہیں دی اور نہ ہی کیش بک کو مکمل کیا گیا ہے ،کیش بک مکمل نہ ہونے کے باعث رقم کی منتقلی کی تفصیلات میسر نہیں ہیں اورکیش بک کے بہت سے صفحات خالی چھوڑے گئے ہیں۔جس کمیٹی کی جانب سے برہمی کا اظہار کیا گیا ۔

اس موقع پر کمیٹی ممبر سردار عاشق گوپانگ نے کہا کہ محکمانہ انکوائری نہیں چلے گی،ڈی اے سی کی میٹنگ میں ریکارڈ لایا جائے ،۔کمیٹی ممبر شفقت محمود کا کہنا تھا کہ متروکہ وقف املاک بورڈ نے ایلسیم ہولڈنگ کمپنی کو ایک ارب سے زائد رقم سرمایہ کاری کے لیے جاری کی جس کمپنی کو رقم جاری کی گئی اسکے مالک کا نام کیا ہے جس پر حکام نے بتایا کہ کمپنی کے مالک سے متعلق تفصیلات میسر نہیں ہیں ،شفقت محمود نے کہا کہ شرم کی بات ہے کہ جس کمپنی کو اربوں روپے جاری کیے گئے اسکے مالک کا پتہ تک نہیں۔پی اے سی نے پندرہ دنوں میں انکوائری رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ تفصیلات کا جائزہ لینے کے بعد معاملہ نیب یا ایف آئی اے کو بھیجنے کا فیصلہ کرینگے۔اجلاس کے دوران اجلاس کے دوران اعظم سواتی کا کہنا تھا کہ حج کے اندر اب بھی کرپشن ختم نہیں ہوئی۔

حاجیوں کو دیئے جانے والے کھانے اور ٹرانسپورٹ سے کرپشن پکڑی جا سکتی ہے، شیخ رشید احمد نے کہا کہ سعودیہ میں گمشدہ پاکستانیوں کو ڈھونڈنے کے لئے کوئی جگہ نہیں،گمشدہ لوگوں کو پاکستان ہاؤس میں رکھا جائے۔جس کا جواب دیتے ہوئے وزارت مذہبی امور کے حکام نے بتایا کہ حجاج ٹرانسپورٹ کے لیئے بھی بہتر انتظامات کیئے گئے ہیں،حجاج کے لیئے 3 وقت کھانے کا انتظام کیا گیا ہے،ہارڈ شپ کوٹہ کے سوا کوئی کوٹہ نہیں اوراراکین پارلیمنٹ کے لیئے کوئی کوٹہ نہیں۔