بریکنگ نیوز
Home / بزنس / بجٹ کا کل حجم 4800 ارب روپے رکھنے کی تجویز

بجٹ کا کل حجم 4800 ارب روپے رکھنے کی تجویز

اسلام آباد۔مالی سال 2017-18ء بجٹ کا کل حجم 4800 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے صوبوں اور وفاق کا ترقیاتی بجٹ دو ہزار ارب روپے رکھا جائے گا آئندہ مالی سال کا بجٹ 26 مئی کو پیش کیا جائے گا بجٹ تقریباً 1500 ارب روپے خسارے کا ہوگا۔آئندہ مالی سال کے دوران 4020 ارب روپے کی ٹیکس آمدنی متوقع ہے، نجی ٹی وی کے مطابق کابینہ ڈویژن اورا س کے 9 محکموں اور 12 کارپوریشنوں کے لیے آئندہ مالی سال کے دوران 37 ارب روپے کا بجٹ مختص کیا جا رہا ہے، ایوی ایشن کے لیے گیارہ ارب ،وزارت کیڈ کے لیے اٹھارہ ارب روپے ،وزارت تجارت کے دس محکموں اور چھ کارپوریشنوں کے لیے 33 ارب روپے،وزارت مواصلات اور اس کے پانچ محکموں اور این ایچ اے کے لیے 298 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہیے۔

وزارت داخلہ کے 26 محکموں اور کارپوریشنز کے لیے 94 ارب روپے کا بجٹ رکھنے کی تجویز ہے۔کشمیر اور گلگت بلتستان کے لیے 83 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے۔وزارت قانون، سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کے لیے چھ ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے جبکہ تنخواہوں اور پنشن کی مد میں دس سے پندرہ ارب روپے اضافہ کی تجویز ہے جبکہ اس حوالے سے حتمی فیصلہ وفاقی کابینہ کرے گی اور وہ اس میں مزید اضافہ بھی کر سکتی ہے آئندہ مالی سال میں واپڈا کے لیے 60 ارب 61 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز ہے۔

،سی پیک منصوبوں کے لیے 27 ارب روپے اور وفاق کے خصوصی منصوبوں کے لیے 50 ارب روپے شامل ہوں گے ۔وفاقی وزارتوں کے لیے 352 ارب 67 کروڑروپے کا ترقیاتی بجٹ رکھنے کی تجویز ہے۔پانی وبجلی ڈویژن کے لیے 36 ارب 33 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز ہے قومی صحت کے لیے 48 ارب21 کروڑ اور ریلوے کے لیے 42 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے جبکہ دفاعی پیداوار کے لیے چار ارب ایک کروڑ روپے،پاکستان اٹامک انرجی کے لیے 14 ارب 78 کروڑ روپے اور آئی ڈی پیز کے لیے 45ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔