بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / پانامہ لیکس کیس کے فیصلے کا اردو ترجمہ شائع

پانامہ لیکس کیس کے فیصلے کا اردو ترجمہ شائع

اسلام آباد ۔پاکستان تحریک انصاف نے پاناما لیکس کیس پر سپریم کورٹ کے فیصلے کا اردو ترجمہ شائع کر دیا ہے 275صفحات پر مشتمل اردو ترجمے میں سب سے پہلے جسٹس آصف سعید کھوسہ، جسٹس اعجاز افضل، جسٹس گلزار احمد، جسٹس عظمت سعید شیخ اور آخر میں اعجاز الاحسن کے فیصلوں کا ترجمہ شائع کیا گیا ہے جبکہ ترجمے کا عنوان “پاناما سکینڈل سپریم کورٹ آف پاکستان کا تاریخی فیصلہ 20اپریل 2017بروز جمعرات” رکھا گیا ہے اردو ترجمہ گذشتہ روز نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں فواد چودھری، مراد سعید، سینیٹر شبلی فراز نے پریس کانفرنس کے دوران جاری کیا۔

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے فواد چودھری نے کہا کہ تحریک انصاف کے میڈیا سیل نے پاناما کیس فیصلے کا اردو ترجمہ شائع کر لیا ہے اب اس فیصلے کا سندھی ، بلوچی ، پشتو ترجمہ بھی شائع کیا جائے گا تا کہ عوام کو اس فیصلے کی حقیقت سے آگاہ کیا جا سکے اور فیصلے کے اردو ترجمے کی کاپیاں وزیر اعظم ہاؤس ، مریم نواز، دانیال عزیز، طلال چودھری چاروں وزراء اعلٰی کو بھی بھجوا رہے ہیں تا کہ فیصلے پر مٹھائیاں بانٹنے والوں کو حقائق کا علم ہو سکے اس موقع پر انہوں نے فیصلے کے مختلف مندرجات بھی پڑھ کر سنائے فواد چودھری نے کہا کہ منی لانڈرنگ میں ملوث شخص پاکستان کا حالیہ بجٹ پیش کرے گا۔

وزیر اعظم پاکستان ، چیئرمین نیب نے سپریم کورٹ کی آبزرویشن کے بعد بھی استعفے نہ دے کر ڈھٹائی کی نئی مثال قائم کی ہے اور استعفے دینے کو تیار نہیں انہوں نے کہا کہ تمام ججز فیصلے میں متفق ہیں کہ وزیر اعظم پاناما دستاویزات کے حوالے سے اپنے اوپر لگنے والے الزامات کا دفاع نہیں کر سکے پاناما کی دلچسپ کہانی ہے ہم چاہتے ہیں کہ یہ پاکستانی عوام تک پہنچے انہوں نے کہا کہ پاکستان کے خزانے سے کروڑوں روپے نکلتے ہیں لیکن وہاں نہیں لگتے جن منصوبوں کے لیے یہ جاری ہوتے ہیں بلکہ یہ لندن، دبئی اور پاناما بھیجے جا رہے ہیں اسی کی وجہ سے لوڈ شیڈنگ، مہنگائی، ہسپتالوں کی خستہ حالی ہے جو وسائل ان مسائل کو حل کرنے کے لیے لگنے تھے ان پر چند افراد نے قبضہ کر رکھا ہے انہوں نے کہا کہ ہم نے سپریم کورٹ کی انہی ابزرویشنز کی بنیاد پر ہائیکورٹ میں چیئرمین نیب کے خلاف ریفرنس دائر کیا ہے جس کی سماعت کل ہو رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کی انکوائری کھلے عام نہیں ہو رہی صرف ذرائع سے خبریں آرہی ہیں جس پر ہم تبصرہ نہیں کر سکتے جے آئی ٹی نے 22مئی کو اپنی پہلی رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کرنا ہے ہم پہلے دن سے کہہ رہے ہیں کہ یہ ہمارا ذاتی نہیں بلکہ عوام کا مقدمہ ہے سپریم کورٹ سے امید کرتے ہیں کہ وہ جے آئی ٹی کی رپورٹ کو عوام کے ساتھ بھی شیئر کرے گی جے آئی ٹی کی تحقیقات گہرے بادلوں میں چھپی ہوئی ہے انہوں نے کہا کہ جے آئی ٹی کے لیے 60دنوں کی مدت بہت ہے ان دنوں میں وہ بآسانی حتمی نتیجے پر پہنچ سکتی ہے ہم نے ن لیگ کو بے شمار دفعہ مشورہ دیا ہے کہ وہ قومی اسمبلی میں نیا قائد ایوان لے آئیں اگر انہوں نے ہمارا مشورہ نہ مانا تو پھر ہم جے آئی ٹی کی تحقیق کے بعد نئے انتخابات کا مطالبہ کریں گے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ ترجمہ ہم نے بہت محنت کے ساتھ کیا ہے اگر کسی لفظ کے بارے میں کنفیوژن تھی تو وہاں پر انگریزی کا لفظ ہی استعمال کیا گیا ہے امید ہے اس سے جے آئی ٹی کو بھی فائدہ ہو گا اس فیصلے کی وجہ سے الیکشن ہونے جا رہا ہے انہوں نے کہا کہ ہم 22تاریخ کو جے آئی ٹی کی پہلی رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش ہونے پر پارٹی کا آئندہ لائحہ عمل بنائیں گے شفاف تحقیقات چاہتے ہیں اس طرح کی جے آئی ٹی نہیں چاہتے جس کی رپورٹ منظر عام پر نہ لائی جائے جے آئی ٹی کی تحقیقات سے پاکستان کے مستقبل کا تعین ہو گا اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے مراد سعید نے کہا کہ جس ملک کا وزیر اعظم جھوٹا ہو اس کا کیا حال ہو گا پانچ اداروں کے بارے میں سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں ابزرویشنز دی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نیشنل بینک کا صدر سعید احمد کو لگایا گیا ہے جو حکمرانوں کے لیے منی لانڈرنگ کرتا تھا اور اسکی تنخواہ چھ کروڑ روپے سالانہ رکھی گئی ہے جبکہ دیگر مراعات علاوہ ہیں ہم قومی اسمبلی میں اس پر توجہ دلاؤ نوٹس لا رہے ہیں کہ اسحاق ڈار کے رائٹ ہینڈ کو اتنی مراعات کیوں دی جا رہی ہیں ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ 2013 کے اسی مہینے میں بجلی کا شارٹ فال 3000میگاواٹ تھا اور آج یہ 6000میگاواٹ ہو چکا ہے خیبر پختونخوا میں تبدیلی آئی ہے وہ زرداری جو اپنے پانچ سال میں خیبر پختونخوا میں نہ آسکے اور اسفند یارولی خان جو اپنی حکومت کے باوجود بیرون ملک بیٹھے تھے آج خیبر پختونخوا میں آرہے ہیں وہاں پر یہ تبدیلی آئی ہے سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ ہم نے ڈان لیکس کی رپورٹس قومی اسمبلی اور سینیٹ میں پیش کرنے کی قراردادیں جمع کرائی ہیں اگر عوامی نمائندوں پر ہی اسطرح کی رپورٹس کے حوالے سے اعتماد نہیں ہے تو جمہوریت کا کیا مقصد ہے۔