بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / پولنگ ڈے کے قانونی معاملات کو حتمی شکل دیدی گئی

پولنگ ڈے کے قانونی معاملات کو حتمی شکل دیدی گئی


اسلام آباد۔انتخابی اصلاحات ذیلی کمیٹی نے عام انتخابات کے پولنگ ڈے کو قانونی معاملات کو حتمی شکل دے دی ،انتخابی افسران تمام امیدواروں کوہر پولنگ سٹیشن کا دستخط شدہ نتیجہ دینے کے پابند ہونگے ،پولنگ اسٹیشنوں اور پولنگ بوتھز پر ووٹرز کی حد مقرر کردی،ایک پولنگ سٹیشن کیلئے زیادہ سے زیادہ بارہ سورائے دہندگان کی قانونی شرط عائدکردی گئی نامکمل انتخابی امور کے طے کرنے کے بارے میں مرکزی کمیٹی کی ہدایات سے بھی ذیلی کمیٹی کو آگاہ کردیا گیا ہے تاہم تحریک انصاف نے بائیومیٹرک اور الیکٹرانک ووٹنگ کی بنیادپر عام انتخابات کے بارے میں اپنی تجاویز کے حوالے سے قدم پیچھے ہٹانے سے انکارکردیا ہے۔

بجٹ سیشن کے دوران انتخابی قانون قومی اسمبلی میں پیش کیے جانے کا امکان ہے ۔جمعرات کو انتخابی اصلاحات کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس وفاقی وزیر قانون وانصاف وکنوینئر زاہد حامد کی صدارت میں پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا ،انتخابی اصلاحات ذیلی کمیٹی نے پولنگ اسٹیشنوں اور پولنگ بوتھز پر ووٹرز کی حد مقرر کردی جس کے مطابق ایک پولنگ اسٹیشن پر زیادہ سے زیادہ 12سو ووٹرز ہونے چاہئیں ،ایک پولنگ بوتھ پر تین سو ووٹرز کا ہونا لازم ہوگا۔کاغذات نامزدگی سمیت 27 انتخابی فارمز کا جائزہ مکمل کرلیا ہے۔ پریذائڈنگ آفیسر ہر پولنگ اسٹیشن پر تمام امیدواروں کو دستخط شدہ نتیجہ دینے کا پابند ہوگا۔

اجلاس کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے وزیرقانون و انصاف زاہد حامد نے کہا کہ دستخط شدہ نتیجہ امیدواروں کو نہ دینے والے پریذائیڈنگ افسران کے خلاف کارروائی ہوگی ۔ کاغذات نامزدگی میں کی جانے والی تبدیلی کا اطلاق تمام سیٹوں کے انتخابات پر ہوگا،امیدواروں کے کاغذات نامزدگی کی تصدیق گریڈ 17 یا اس اوپر کا سرکاری آفیسر کرسکے گا، آئندہ انتخابات میں ٹینڈرز ووٹوں کی گنتی کی جا سکے گی،ٹینڈرز ووٹ کی گنتی اصل ووٹر کو ووٹ کا حق دینے کے لئے دیا ہےؒ ۔