Home / کالم / سی پیک ماسٹر پلان؟

سی پیک ماسٹر پلان؟

سی پیک منصوبے کے حتمی پلان میں شامل تفصیلی معلومات کے مطابق آئندہ پندرہ برس میں چین کے پاکستان کے حوالے سے ارادے اور ترجیحات لائق توجہ ہیں۔ مثال کے طور پر اس عرصے میں ہزاروں ایکڑ زرعی اراضی چینی کمپنیوں کو لیز پر دی جائیگی جہاں بیجوں کی اقسام سے لیکر زرعی ٹیکنالوجی کے مظاہرے کے منصوبے تشکیل دیئے جائیں گے پشاور تا کراچی مانیٹرنگ اور نگرانی کا مکمل نظام قائم کیا جائیگا جہاں امن و امان کو یقینی بنانے کے لئے سڑکوں اور اہم بازاروں میں چوبیس گھنٹے ویڈیو ریکارڈنگ کی سہولت موجود ہوگی۔ قومی فائبرآپٹک کا ڈھانچہ تشکیل دیا جائے گا جو نہ صرف ملک کے انٹرنیٹ ٹریفک بلکہ براڈکاسٹ ٹیلی ویژن کی مقامی علاقوں میں ڈسٹری بیوشن یقینی بنائے گا‘ یہ ٹیلی ویژن چینی کلچر سے متعلق آگاہی بڑھانے کے لئے چینی میڈیا سے بھی تعاون کرے گا۔ طویل المدتی اس منصوبے کے 2 مرحلے ہیں‘ جس میں سے ایک چین کے ڈویلپمنٹ بینک اور نیشنل ڈویلپمنٹ ریفارمز کمیشن نے تیار کیا ہے‘ جس کی تفصیل دوسو اکتیس صفحات پر مبنی ہے۔ مختصر دورانیے کے دوسرے منصوبے کی تفصیل صرف تیس صفحات پر مشتمل ہے‘ جس پر فروری دوہزار سترہ کی تاریخ درج ہے‘ جبکہ اس میں صرف تعاون کے علاقوں کی تعارفی معلومات دی گئی ہیں یہ صرف صوبائی حکومتوں کی جانب سے منظوری کے لئے تیار کیا گیا ہے‘ جبکہ جس صوبائی حکومت کو منصوبے کا مکمل خاکہ دیا گیا وہ صرف پنجاب حکومت ہے۔ یہ پلان پاکستانی معیشت کے مختلف شعبوں اور معاشرے میں چینی کمپنیوں اور تہذیب کی وسیع تر رسائی کی پیش گوئی کرتا ہے‘ اس منصوبے کے متوقع نتائج کی پاکستانی تاریخ میں اس حوالے سے کوئی مثال نہیں ملتی کہ پاکستان کی مقامی معیشت میں غیر ملکی کمپنیوں کی شراکت رہی ہو۔

ساتھ ہی پلان کے تحت کچھ علاقوں میں مارکیٹوں میں چینی کمپنیوں کا قیام یقینی بنانا ہے‘ جس طرح گھریلو استعمال کے آلات میں ہائر‘ ٹیلی کمیونیکشن کے شعبے میں چائنا موبائل اور ہواوے جبکہ کان کنی اور معدنیات چائنا میٹالرجیکل گروپ کارپوریشن اپنی پہچان بنا چکے ہیں۔ دیگر شعبے جیسے کہ ٹیکسٹائل و ملبوسات‘ سیمنٹ و تعمیری مٹیریل‘ فرٹیلائزر و زرعی ٹیکنالوجی میں نئی آمد کیلئے ’’انفراسٹرکچر کی تعمیر‘‘ اور سازگار پالیسی ماحول بنانے کی ضرورت ہے۔ پلان کے مطابق اس حوالے سے ایک اہم اقدام صنعتی پارکس یا خصوصی معاشی زونز کا قیام ہے جو ’پانی کی فراہمی‘ بہترین انفراسٹرکچر‘ توانائی کی مطلوبہ فراہمی اور سیلف سروس پاور کی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بناسکے۔‘‘تاہم سی پیک کے بظاہر اہم ترین صنعتی‘ ٹرانسپورٹ‘ پاور پلانٹ اور شاہراہوں کے عمومی تاثر کے اس پلان کا اہم ترین حصہ زراعت ہے اور اس پلان کے تحت زراعت کے کئی منصوبوں پر کام شامل ہے۔ زراعت کے شعبے کے لئے منصوبے میں سپلائی چین کے ایک سرے سے دوسرے تک کی رابطہ کاری کے بارے میں خلاصہ شامل ہے‘ بیجوں کی اور دیگر چیزوں جیسے کھاد‘ پیسے اور کیڑے مار دواؤں کی فراہمی تک‘ چینی کمپنیاں اپنے فارمز اور پھلوں‘ سبزیوں اور اناج کی پروسسنگ کیلئے قائم ہونے والے مراکز کا کام خود سنبھالیں گی جبکہ لاجسٹک کمپنیاں زرعی پیداوار کے لئے بڑے ذخیروں اور ترسیلات کے انتظامات سنبھالیں گی۔ یہاں اِن مواقع کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو کئی مسائل سے گھرے پاکستان کے زرعی شعبے میں چینی کمپنیوں کی آمد سے حاصل کئے جا سکیں گے مثلاً ’’کولڈ چین لاجسٹک اور پراسسنگ مراکز کی کمی کے باعث‘ کٹائی اور ترسیلات کے دوران پچاس فیصد زرعی پیداوار خراب ہو جاتی ہیں۔‘

‘ منصوبے کی نگرانی کے لئے کراچی سے پشاور تک چوبیس گھنٹے ویڈیو ریکارڈنگ کا سکیورٹی سسٹم بنایا جائے گا‘ جو سڑکوں سمیت مصروف کاروباری مقامات اور امن و امان کی صورتحال کی ریکارڈنگ کرے گا۔ زراعت میں آنے والی چینی کمپنیوں کو چینی حکومت کی جانب سے غیرمعمولی سطح پر مدد کی پیشکش کی جائے گی۔ ان کی چینی حکومت کی مختلف وزارتوں اور چائنا ڈویلپمنٹ بینک سے زیادہ تر آزاد سرمایہ اور قرضے حاصل کرنے کے لئے حوصلہ افزائی کی گئی ہے۔ پلان میں مال مویشیوں (لائیو سٹاک) کی افزائش نسل اور دیگر جدید تقاضوں کو متعارف کرنے اور آبپاشی کے نظام کو بہتر بنانے کیلئے مشینوں اور سائنسی طریقوں کو پاکستان میں لانے کیلئے ژن جیانگ پروڈکشن اینڈ کنسٹرکشن کورس سے خدمات لینے کی تجویز دی گئی ہے۔مارکیٹ سے سترہ خصوصی منصوبوں سمیت دس اہم منصوبوں کو بھی واضح کیا گیا ہے‘ جن میں ابتدائی طور پر ’آٹھ لاکھ ٹن کے سالانہ پیداوار والے‘ ایک این پی کے فرٹیلائزر پلانٹ کی تعمیر شامل ہے۔ کمپنیوں کو‘ کھیتوں میں کام کرنے کے لئے ضروری ساز و سامان جیسے ٹریکٹرز‘ پودوں کے مؤثر تحفظ کی مشینری‘ کم توانائی استعمال کرنے والے پمپ کے سازوسامان‘ ڈرپ آبپاشی کے ذریعے فصل اگانے کے نظام کا سازوسامان اور فصل کی بوائی اور کٹائی کی مشینری کرائے پر دینے کے لئے قائم کیا جائے گا۔ سکھر میں دو لاکھ ٹن کی سالانہ پیداوار دینے والے گوشت پروسسنگ پلانٹس اور ہر سال دو لاکھ ٹن دودھ پروسس کرنے والے دو نمائشی پلانٹس کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ کاشتکاری کی بات کریں تو‘ زیادہ پیداوار دینے والے بیجوں اور آبپاشی کے نمائشی منصوبوں کے لئے چھ ہزار پانچ سو ایکڑ سے زیادہ زمین‘ زیادہ تر پنجاب میں مختص ہوگی۔ (بشکریہ: ڈان۔ تحریر: خرم حسین۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)