بریکنگ نیوز
Home / کالم / عالمگیر آفریدی / خیبر پختونخوا کا سیاسی درجہ حرارت

خیبر پختونخوا کا سیاسی درجہ حرارت

پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے اپنے حالیہ دورہ پشاور میں مختلف پارٹی اجلاسوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ سب کا شو ختم ہونے والا ہے، آنے والا دور پیپلز پارٹی کا ہے۔ میاں نواز شریف کی طرح عمران خان کو بھی 2018کے انتخابات میں اپنی کارکردگی اور عوام سے کئے ہوئے وعدوں کا جواب دینا ہوگا۔ پیپلز پارٹی اگلے انتخابات میں وفاق سمیت چاروں صوبوں میں حکومت بنائیگی دوسری طرف پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان نے ایبٹ آباد میں ایک بڑے جلسہ عام سے خطاب کے دوران وزیراعظم نواز شریف اور آصف زرادری کو ہدف تنقید بنانے کے علاوہ مولانا فضل الرحمن کو بھی نشانے پر رکھتے ہوئے آئندہ عام انتخابات میں ان تینوں سیاسی قوتوں کو سٹیٹس کو کی نشانی قرار دیتے ہوئے انہیں ایک ہی بال سے آؤٹ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ خیبر پختونخوامیں پچھلے کئی ہفتوں سے جاری سیاسی ہلچل میں قومی وطن پارٹی نے بھی اپنی خاموشی توڑتے ہوئے بٹگرام میں ایک بڑا جلسہ منعقد کیا جس سے پارٹی کے چیئرمین آفتاب شرپاؤ سمیت دیگر قائدین نے خطاب کیا۔واضح رہے کہ صوبے میں اے این پی ‘جماعت اسلامی اور مسلم لیگ(ن) کی سیاسی سرگرمیاں تو کا فی عرصے سے جاری ہیں لیکن پچھلے دنوں جمعیت (ف) کی جانب سے اپنے تین روزہ عالمی اجتماع کے ذریعے طاقت کے مظاہرے کے بعد صوبے کی صرف دوایسی قابل ذکر سیاسی جماعتیں رہ گئی تھیں جن کی جانب سے عوامی سطح پر کوئی خاص ہلچل نظر نہیں آرہی تھی ،ان میں ایک پیپلز پارٹی تھی جو نہ صرف ماضی میں خیبر پختونخوا میں اقتدار میں رہ چکی ہے بلکہ اس کا ماضی میں یہاں اچھا خاصا ووٹ بینک بھی رہا ہے جبکہ دوسری جماعت قومی وطن پارٹی ہے جو ملک کی بڑی اور پرانی سیاسی جماعتوں کے شور اور ہنگامے میں اپنے وجود اور بقاء کی جنگ لڑنے کیلئے نہ صرف یہ کے پریشان ہے بلکہ اس ضمن میں وہ حتی الوسع ہاتھ پیر بھی مار رہی ہے اوراسے اس حوالے سے کئی بڑے اور سنگین چیلنجز بھی درپیش ہیں اسلئے اسے اپنا آپ منوانے اور آنیوالے عام انتخابات میں کوئی بڑا بریک تھرو کرنے کیلئے سخت جدوجہد کرناہوگی ۔

دوسری جانب قومی وطن پارٹی کیلئے یہ بات بھی یقیناًپریشانی کا باعث ہوگی کہ اب تک کسی بھی دوسری جماعت سے کسی بھی بڑی شخصیت نے قومی وطن پارٹی کوجوائن نہیں کیا ہے حالانکہ دیگر جماعتوں بالخصوص اے این پی ‘ مسلم لیگ (ن)‘ جماعت اسلامی ‘پیپلز پارٹی اورپی ٹی آئی میں شمولیتوں کا سلسلہ پچھلے کچھ عرصے سے نہ صرف کافی زور شور سے جاری ہے بلکہ اس ضمن میں یہ تمام جماعتیں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے اور ایک دوسرے سے زیادہ سے زیادہ سیاسی ہیوی ویٹس کو شکار کرنے کی کوششیں بھی کر رہی ہیں خیبر پختونخوا میں مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے سیاسی قوت کے مظاہروں میں جو جماعت سب سے زیادہ پرجوش اور متحرک نظر آ رہی ہے وہ جماعت اسلامی ہے۔ اس تحرک کے پیچھے جہاں اس کی سیاسی جمع پونجی کا پچھلے انتخابات میں خیبرپختونخوا تک سمٹنے کو قرار دیا جاتا ہے وہاں چونکہ اس کے مرکزی امیر سراج الحق کا تعلق بھی اسی صوبے سے ہے اور صوبے کے دو مرتبہ وزیر خزانہ رہنے کے باوجود چونکہ ان کا دامن پہلے کی طرح اجلا اور بے داغ ہے نیز چونکہ وہ سادہ طرز زندگی گزارنے کے علاوہ عوام کے جذبات اور احساسات کی ترجمانی کرتے ہوئے ان کی زبان میں بات کرنے کے سلیقے سے آشنا ہیں اس لئے ان کو ان کے اس عوامی سٹائل سے خیبرپختونخوا میں جو پذیرائی مل رہی ہے وہ اس ٹیمپو کوبرقرار رکھتے ہوئے اسے آئندہ عام انتخابات میں کیش کرانا چاہتے ہیں۔

اس ضمن میں پچھلے چندماہ کے دوران یوتھ انٹرپارٹی انتخابات کیساتھ ساتھ پشاور میں ایک گرینڈ یوتھ کنونشن کے علاوہ پچھلے دنوں ایک بڑے علما ء اورمشائخ کانفرنس کا انعقادبھی دراصل اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں اگلے ہفتہ دس دنوں بعد چونکہ رمضان المبارک شروع ہو رہا ہے اس لئے سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ صوبے کا سیاسی درجہ حرارت رمضان المبارک سے پہلے جس نقطہ عروج پر پہنچ چکا ہے اسکے اس نقطے سے فی الحال آگے بڑھنے کے امکانات تقریباً نہ ہونے کے برابر ہیں کیونکہ رمضان المبارک میں اس ٹیمپو کوبرقرار رکھنا کسی بھی جماعت کے لئے عملاً ممکن نہیں ہوگا البتہ رمضان المبارک کے بعداس سیاسی ہلچل میں نہ صرف مزید اضافے کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا بلکہ روزوں کے بعد شروع ہونے والا یہ ممکنہ سیاسی ہلہ گلہ کسی بڑی عوامی احتجاجی تحریک پر بھی منتج ہو سکتا ہے۔ ایسا ہوسکے گایا پھر یہ خیال محض ایک مفروضہ ثابت ہو گا اس نتیجے پرپہنچنے کیلئے ہمیں فی الحال رمضان المبارک کی آمد اور اس کے اختتام تک کا انتظار کر نا پڑے گا۔