بریکنگ نیوز
Home / کالم / اسی عطار کو لونڈے سے دوا لیتے ہیں

اسی عطار کو لونڈے سے دوا لیتے ہیں

سیاسی رہنماؤں کے لب و لہجے میں تلخی بڑھ رہی ہے اگلے روز پشاور میں اپنی پارٹی کے ورکروں سے خطاب کر تے ہوئے ایک سیاسی لیڈر نے یہاں تک ان کو تلقین کر دی کہ وہ اگلے الیکشن میں پولنگ کے دن پولنگ سٹیشنوں پر قبضے کریں اور اس وقت وہاں سے اٹھیں کہ جب تک ان کو الیکشن رزلٹ ہاتھ میں نہیں تھما دیا جائے الیکشن کے روز ہر سیاسی پارٹی کا پولنگ ایجنٹ تو بہر حال پولنگ سٹیشن میں موجود ہوتا ہے تو پھر یہ سرکاری عمارت پر قبضے کرنے والی بات کرنے کی بھلا کیا ضرورت تھی ؟یہ راستہ تو تشدد کی جانب جاتا ہے اس سے تو انارکی پھیلنے کا خدشہ ہے دکھ اس بات کا ہے کہ کوئی بھی ایشوز پر بات نہیں کررہا سب دشنام طرازیوں میں لگے ہوئے ہیں ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچی جارہی ہیں جب بھی الیکشن نزدیک ہوتا ہے ان لوگوں کو غریب یاد آنے لگتے ہیں کسان اور مزدور کو جو مسائل درپیش ہیں ان کا یکدم یہ لوگ ذکر کرنا شروع کر دیتے ہیں الیکشن کیلئے پرکشش دلفریب اور جاذب نظر سیاسی نعرے بنانا آج کل ایک آرٹ بن چکا ہے۔

جس طرح کہ صنعتکار اپنی مصنوعات کو عوام میں پاپولر بنانے کیلئے کروڑوں روپے ان مصنوعات کی پبلسٹی پر خرچ کر دیتے ہیں تاکہ وہ لوگوں کے دلوں میں گھر کر جائیں بالکل اسی طرح سیاستدان اپنا سیاسی چورن فروخت کرنے کیلئے عوام کو مختلف نعروں کے ذریعے راغب کرتے ہیں کوئی لسانیت پر مبنی اپنی سیاست کی دکان چمکا رہا ہے تو کوئی روٹی کپڑے اور مکان کے نعرے لگا رہا ہے تو کوئی اسلامی مساوات کے قیام کے وعدے و عید قوم سے کررہا ہے تو کوئی وطن پرستی کی ڈگڈگی بجا رہا ہے دوسری طرف عوام ہیں کہ جو اتنے سادہ لوح ہیں کہ بار بار جھانسے میں با آسانی آجاتے ہیں بقول میر تقی میر ۔
میر کیا سادہ ہیں بیمار ہوئے جس کے سبب
اسی عطار کے لونڈے سے دوا لیتے ہیں

اخلاقیات سے گری ہوئی زبان کا استعمال پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں کے اندر بھی ہو رہا ہے اگلے روز سندھ کے ایک وزیر صاحب کے منہ سے خواتین کے بارے میں نازیبا الفاظ نکلے ان کو جونہی اپنی غلطی کا احساس ہوا تو فوراً انہوں نے یہ جواز پیش کرکے معافی مانگ لی کہ لوڈ شیڈنگ سے چونکہ وہ گزشتہ رات نہیں سو سکے تھے اس لئے ان کا دماغ چل گیا انہوں نے اول فول بک دیا بھئی یہ تو عجیب بات ہوگئی پہلے آپ جان بوجھ کر اپنی زبان سے کسی کی دل آزاری کریں اور پھر آئی ایم سوری کہہ کر اپنی جان چھڑا لیں ہمارے سیاسی رہنماؤں کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ وہ کتاب کو ہاتھ نہیں لگاتے کتابوں سے لگتا ہے ان کی دیرینہ دشمنی ہے اگر ان کو کتابوں سے محبت ہوتی تو غالباً ان کی زبان اور سوچ و فکر میں شائستگی کی جھلک نظر آتی کسی زمانے میں اس ملک میں اگر کسی کی سب سے بڑی نجی لائبریری ہوا کرتی تھی تووہ میاں ممتاز خان دولتانہ کی ہوا کرتی تھی یہی صورتحال حسین شہید سہروردی کی تھی مولوی فرید بھی خاصے لکھے پڑھے شخص تھے سردار عبدالرب نشتر تو شاعر بھی تھے بھٹو مرحوم بھی کتابوں کے رسیا تھا اور ایک اچھے لکھاری بھی وہ کتابیں خود لکھا کرتے ایوب خان کی طرح کسی اور سے لکھاتے نہ تھے یہی وجہ ہے ان کے ادوار میں ہونے والی اسمبلیوں کی کاروائی کی روئیداد اگر آپ پڑھیں اور پھر اس کا موازنہ آج کل کی اسمبلیوں میں ہونے والے بحث و مباحث کیساتھ کریں ۔

تو آپ کوان میں زمین آسمان کا فرق محسوس ہوگا کبھی کبھی ہم سوچتے ہیں کہ ہماری قومی اسمبلی کے کسی سپیکر یا سینٹ کے کسی چیئرمین کو اب تک یہ خیال کیوں نہیں آیا کہ جس طرح برطانیہ کے دارالعوام یعنی ہاؤس آف کامنز اور ہاؤس آف لارڈز میں ہونے والی تقاریر کو ایک رسالہ کی شکل میں ہر ماہ شائع کیا جاتا ہے بالکل اسی طرح ہماری پارلیمنٹ میں ہونے والی تقاریر کو بھی ہر ماہ ایک رسالے کی شکل میں شائع کیا جائے برطانیہ میں اس رسالے کوHANSARDکہا جاتا ہے اور وہ واقعی ایک ادبی شاہکار کی حیثیت رکھتا ہے پڑھے لکھے لوگوں کی آپس میں نوک جھونک میں بھی لٹریچر کی جھلک نظر آتی ہے گلیڈ سٹون لیبر پارٹی اور ڈسٹرائیلی کنزرویٹو پارٹی کا لیڈر تھا دونوں ایک دوسرے پر بھبتیاں کستے تھے انگریزی زبان کے لفظ Misfortune کا مطالب ہے ’’ بدقسمتی‘‘ اور Catostrophe کا مطلب ہے ’’ تباہی ‘‘ ایک مرتبہ کسی نے ڈسٹرائیلی سے پوچھا کہ بدقسمتی اور تباہی میں کیا فرق ہے تو انہوں نے کہا ’’ مثال کے طور پر اگر گلیڈ سٹون دریائے ٹیمز میں گر جائے تو یہ ’’ بدقسمتی ‘‘ ہوگی پر اگر کوئی اسے ڈوبنے سے بچا لے تو یہ ’’ تباہی ‘‘ کے مترادف ہوگا اب اس قسم کی بحث یا ڈیبیٹ کا معیار تواپنے ہاں موجود نہیں ہمارے پارلیمانی اداروں میں بھی بعض اراکین معیاری گفت و شنید کرلیتے ہیں پر وہ بات کہاں مولوی مدن کی سی ؟