بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / فاٹا اصلاحات ، قومی اسمبلی میں بحث

فاٹا اصلاحات ، قومی اسمبلی میں بحث


قومی اسمبلی میں فاٹا اصلاحات کے عمل میں تاخیر پر گرما گرم بحث ہوئی ہے قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ کا کہنا ہے کہ حکومت قبائلی عوام کو لولی پوپ دے رہی ہے ایک طرف بل ایوان میں پیش ہوتا ہے تو دوسری جانب اپنے ہی اتحادی سے مخالفت کروائی جاتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فاٹا پاکستان کا حصہ ہے اسے خیبر پختونخوامیں ضم کرنا ہوگا۔ ریاستوں اور سرحدی امور کے وزیر لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ کا کہنا ہے کہ حکومت پر اس حوالے سے کسی قسم کا دباؤ نہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ فاٹا اصلاحات پر صرف ایک پوائنٹ کے علاوہ حکومت اور اس کے اتحادیوں میں کوئی اختلاف نہیں۔ اس سے پہلے میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیراعظم نواز شریف نے اپنی وطن واپسی تک فاٹا انضمام سے متعلق آئینی ترمیم موخر کرنے کا کہا ہے۔ یہ ہدایت انہوں نے جمعیت علماء اسلام(ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن سے رابطے کے بعد جاری کی ہے رپورٹس کے مطابق فاٹا کے منتخب اراکین نے بل موخر کرنے پر کوئی بھی سمجھوتہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک کا کہنا ہے کہ دستور میں 30 ویں ترمیم اور فاٹا میں رواج ایکٹس بلز سے فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام اور اس کو قومی دھارے میں لانے کے مقاصد حاصل نہیں ہوسکتے۔

ان کا کہنا ہے کہ اس سے خیبر پختونخوا اور فاٹا کے عوام ایک دوسرے کے سامنے کھڑے ہوجائینگے حکومت کی جانب سے فاٹا اصلاحات کے حوالے سے ٹائم فریم طویل المدتی ہے اس کے ساتھ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کے گزشتہ روز ہونے والے اجلاس میں بھی رواج بل پر اتفاق نہ ہوسکا وزیراعظم آئینی ترمیم موخر کرنے کا کہہ رہے ہیں۔ قومی اسمبلی میں معاملے پر گرما گرمی ہوئی ہے۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا بھی اپنا موقف دے رہے ہیں یہ سارا منظرنامہ معاملات کو بات چیت کے ذریعے فوری طورپر طے کرنے کا متقاضی ہے تاکہ اصلاحات کا عمل عوام کیلئے ریلیف کا ذریعہ بن سکے بصورت دیگر اس مقصد کے لئے اب تک کی ساری ایکسر سائز بے ثمر ہوکر رہ جائیگی۔

لوڈ شیڈنگ کے خلاف احتجاج

تحریک انصاف کے کارکنوں نے گزشتہ روز بجلی کی لوڈ شیڈنگ اور اضافی بلوں کیخلاف شدید احتجاج کیا۔ مشتعل مظاہرین نے واپڈا ہاؤس کا گیٹ بھی توڑ ڈالا۔ احتجاج پیسکو حکام کے ساتھ بات چیت کے بعد ختم ہوا۔ پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ شوکت افضل کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا میں کہیں بھی اضافی لوڈ شیڈنگ نہیں کی جا رہی۔ بجلی ریکوری کے اعداد وشمار کی مناسبت سے بند کی جاتی ہے۔ تحریک انصاف کی رکن قومی اسمبلی عائشہ گلالئی کا کہنا ہے کہ فارمولے کے مطابق بجلی میں خیبر پختونخوا کا حصہ2100 میگاواٹ ہے جو پورا نہیں مل رہا۔ پانی و بجلی کے وزیر مملکت عابد شیر علی کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا میں لوڈ شیڈنگ بجلی چوری والے علاقوں میں ہوتی ہے تاہم انہوں نے مسئلے کے پائیدار حل کیلئے کسی لائحہ عمل کی تفصیل نہیں بتلائی۔ اس بحث میں پڑے بغیر کے بجلی چوری روکنا اور بلوں کی بروقت وصولی یقینی بنانا کس کی ذمہ داری ہے۔ بعد از خرابی بسیار سہی اس سارے کام میں اب کمیونٹی کو بھی شریک کیا جائے۔ اس سب کے ساتھ بجلی کی ترسیل کے نظام کو بہتر بنانا اور اضافی بلوں کی روک تھام بھی ناگزیر ہے تاکہ لوڈشیڈنگ کیساتھ دیگر مسائل بھی شامل نہ ہوں۔