بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / ہر دور میں کوئی نہ کوئی ڈگڈگی بجانے والا سامنے آجاتا ہے،وزیراعظم

ہر دور میں کوئی نہ کوئی ڈگڈگی بجانے والا سامنے آجاتا ہے،وزیراعظم


اسلام آباد۔وزیراعظم محمد نوازشریف نے کہا ہے کہ 2013اور آج کے پاکستان میں زمین آسمان کا فرق ہے،2013میں حکومت سنبھالی تو کئی چیلنجز ملک کو درپیش تھے،دہشتگردی عروج پر تھی،لوڈشیڈنگ 16گھنٹے تک تھی اور پاکستانی معیشت کا پہیہ جام ہوکر رہ گیا تھا،ہم نے تین برس نیک نیتی سے کام کیا،نیک نیتی کے باعث ترقی کی منازل حاصل کیں،قوم کے پیسہ کو امانت سمجھ کر خرچ کیا،ہر دور میں کوئی نہ کوئی ڈگ ڈگی بجانے والا سامنے آجاتا ہے،ہم ان کی ڈگ ڈگی سے گھبرانے والے نہیں ہیں،ڈگ ڈگی بجانے والے آج بھی اپنا سارا وقت کنٹینر اورر ناچ گانے میں گزارتے ہیں،ڈگ ڈگی بجانے والے کو عوام ڈھونڈ رہی ہے نیا پاکستان بنانے والا کہاں گیا ہے،اسلام آباد بند کرنے والے سڑکیں ناپتے ہیں اور ہم سڑکیں بناتے جائیں گے،ہم لوگ گالی گلوچ کا جواب گالی میں نہیں دیتے نہ یہ ہمارا شیوہ ہے،وہ گالیاں دیتے رہیں مجھے کوئی فرق نہیں پڑتامیں ان کی باتوں کا جواب دینا بھی اپنی توہین سمجھتا ہوں۔منگل کو مسلم لیگ ن کی مرکزی کونسل کا چھٹا اجلاس کنونشن سنٹر اسلام آباد میں ہوا،پارٹی انتخابات میں وزیراعظم محمدنوازشریف مسلم لیگ ن کے بلامقابلہ صدر منتخب ہوئے۔اس موقع پر مسلم لیگ ن کے صدر وزیراعظم محمد نوازشریف نے مرکزی کونسل کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ ن کے نومنتخب عہدیداروں کو مبارکباد دیتا ہوں۔

کارکن مجھے گذشتہ30سال سے منتخب کرتے چلے آرہے ہیں،کارکن پارٹی کا سرمایہ ہیں مجھے جان سے پیارے ہیں،میرے نزدیک پارٹی کارکنوں کا بہت اہم مقام ہے اور پارٹی کارکن عہدیداروں سے بھی اہم ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کارکنوں کی محبت کی بدولت پارٹی کا بار بار صدر بنا،میں انشاء اللہ کارکنوں کی امیدیں پوری کرنے کیلئے پوری جستجو کروں گا۔وزیراعظم نے کہا کہ کوشش ہے کہ کارکنوں اور عوام کی توقعات پر پورا اتروں،آپکی بدولت مجھے تیسری مرتبہ وزیراعظم بننے کا اعزاز حاصل ہوا،کارکنوں اور عوام کی محبت پر انشاء اللہ پورا اتروں گا،کارکنوں کی توقعات پر پورا اتر کر ان کے اعتماد کا حق ادا کرونگا،2013اور آج کے پاکستان میں زمین آسمان کا فرق ہے اور 2013تک پاکستان دہشتگردی کا شکار تھا،16.16گھنٹے لوڈشیڈنگ ہورہی تھی اور پاکستان کی معیشت تباہی کے دھانے پر کھڑی تھی۔انہوں نے کہا کہ 2013میں زرمبادلہ کے ذخائر3ارب ڈالر اور آج 24ارب ڈالر ہیں،تین برس میں نیک نیتی کے باعث ترقی کی منازل حاصل کیں،قوم کے ایک ایک پیسے کو امانت سمجھ کر خرچ کیا،ملکی تاریخ کو خوش قسمتی میں بدلنے کیلئے عوام نے کردار ادا کرنا ہوگا۔وزیراوعظم نے کہا کہ ہردور میں کوئی نہ کوئی ڈگ ڈگی بجانے والا سامنے آجاتا ہے ہم ان کی ڈگ ڈگی سے گھبرانے والے نہیں ہیں،ڈگ ڈگی بجانے والے آج بھی جھوٹ بول کر عوام کو دھوکہ دے رہے ہیں۔

ڈگ ڈگی والوں کو ایک صوبے میں موقع ملا،کام کرکے دیکھاتے،ڈگ ڈگی بجانے والوں نے تو تمام وقت اپنا کنٹینر پر کھڑے ہوکر اور ناچ گانے میں گزاردیا،ڈگ ڈگی بجانے والوں کوعوام ڈھونڈ رہے ہیں کہ نئے پاکستان کے نام پر ووٹ لینے والا کہاں گیا ہے،کے پی کے کے عوام ترقی کے منتظر ہیں لیکن وہ نظر نہیں آتے عوام وہاں جائیں گے جہاں عوام کی ترقی کا سفر ہورہا ہے۔وزیراعظم محمد نوازشریف نے کہا کہ ہم نے سب کچھ برداشت کیا،صبر اورخاموشی اختیار کی،فضول اور تلخ باتوں کا کبھی جواب نہیں دیا،یہ ہمارا شیوہ نہیں ہے،مسلم لیگ ن نے صرف اور صرف کام پر توجہ دی،دنیا کہہ رہی کہ پاکستان بدل رہا ہے یہ نوازشریف،اسحاق ڈار نہیں کہہ رہے ساری دنیا کہہ رہی ہے،پاکستان بدل رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ آج پاکستان دنیا میں تیزی سے ترقی کرنیوالے ملکوں میں شامل ہوگیا ہے۔پاکستان کے متعلق مثبت مضامین لکھے جارہے ہیں جو آج سے پہلے کبھی نہیں پڑھے،پاکستان میں ماضی کے مقابلے میں آج مہنگائی بہت کم ہوگئی ہے،پاکستان ان 5ممالک میں شامل ہے جن کی سٹاک مارکیٹ عروج پر ہے،2013کے مقابلے میں سبزیوں کی قیمتیں بھی نیچے آچکی ہیں،پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بھی کمی آئی ہے، 2018تک بجلی کی قلت اور لوڈشیڈنگ کو ہمیشہ کیلئے ختم کردیں گے۔وزیراعظم منتخب ہوا تو سب سے بڑی پریشانی بجلی کی کمی کی تھی،حکومت سنبھالی تو بجلی کا ایک کارخانہ لگانے کیلئے بھی پیسے نہیں تھے۔

نوازشریف نے کہا کہ بجلی کے کارخانے لگنے پر دوست ملک چین کے شکرگزار ہیں،چین نے پاکستان میں بجلی کے کارخانے لگانے پر رضامندی ظاہر کی،آج ملک میں بجلی کے درجنوں کارخانے لگ رہے ہیں،2018تک 10ہزار میگاواٹ اضافی بجلی قومی نظام میں شامل ہوجائے گی،آئندہ چند سالوں میں کئی ہزار میگاواٹ بجلی نظام میں شامل ہوگی،عمران خان جس انداز میں کام کر رہے ہیں وہ 2018میں کے پی کے سے بھی ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔وزیراعظم نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے ساتھ سستی بجلی فراہم کرنا چاہتے ہیں،بجلی 18روپے فی یونٹ سے کم ہوکر 10روپے پر آچکی ہے اور توقع ہے کہ بجلی کی قیمت آئندہ برسوں میں 7روپے یونٹ آجائے گی،کم قیمت اور تیز رفتاری سے کارخانے لگ رہے ہیں،شفافیت اور ایمانداری کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑیں گے،مختلف توانائی منصوبوں میں100ارب روپے کی بچت کی ہے،کمیشن کھانے والی حکومت ان منصوبوں پر 200ارب روپے اور خرچ کردیتی۔توقع ہے کہ 2018تک وعدہ پوراکرنے میں کامیاب ہوجاؤں گا۔وزیراعظم نوازشریف نے کہا کہ سندھ بھر میں تھر کے کوئلے سے 4ہزار میگاواٹ کے منصوبے لگ رہے ہیں،تھر کے کوئلے کو گذشتہ 70سال میں کسی نے استعمال میں نہیں لایا،ملک میں موٹرویز اور ایکسپریس ویز بن رہی ہیں،ہم لاہور سے کراچی تک موٹروے بنارہے ہیں،لاہور،ملتان اور ملتان سے سکھر موٹروے بھی بنائیں گے،حیدرآباد سے سکھر موٹروے پرکام آئندہ تین ماہ میں شروع ہوجائیگا،تبدیلی کا نعرہ لگانے والوں کے علاقے میں ہم موٹروے بنا رہے ہیں،اقتصادی راہداری منصوبہ پاکستان کو چین سے ملارہا ہے۔

بلوچستان میں ایک ہزار کلومیٹر سڑکوں پر کام ہورہا ہے،سڑکوں کی تعمیر کا 80فیصد کام رواں سال مکمل ہوجائے گا،ملک بھر میں 45جدید ہسپتالوں کا کام شروع کر رہے ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ راولپنڈی اسلام آباد میٹرو بس سے روزانہ ہزاروں افراد مستفید ہوتے ہیں،منفی باتیں کرنے والوں کو غریب عوام کا کوئی درد نہیں ہے،کراچی گرین لائن بس منصوبے پر 18ارب روپے خرچ کر رہے ہیں،پینے کے صاب پانی کی فراہمی کے منصوبے پر 100ارب روپے خرچ کریں گے۔وزیراعظم نوازشریف نے کہا کہ بچیوں کی بہتر تعلیم کیلئے سکول تعمیر کریں گے،ریلوے کا نظام جدید بنانے کیلئے ساڑھے پانچ سو ارب روپے خرچ کر رہے ہیں،ٹرینوں کے معیار کے ساتھ ساتھ ان کی رفتار میں بھی اضافہ کیا جارہا ہے اور پی آئی اے کو دنیا کی بہترین ایئرلائن بنانے کیلئے دن رات کام کر رہے ہیں۔وزیراعظم محمد نوازشریف نے کہا کہ سڑکیں ناپنے والے وہیں کھڑے ہیں اور ہم ترقی کا سفر جاری رکھیں گے،سڑکیں بند کرنے والوں کی بات کرنا بھی میں اپنی توہین سمجھتا ہوں،ترقی،خوشحالی اور عوام خدمت کی سیاست پر یقین رکھتا ہوں۔