بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / ولی خان یونیورسٹی کو مرحلہ وار کھولنے کا فیصلہ

ولی خان یونیورسٹی کو مرحلہ وار کھولنے کا فیصلہ

مردان۔13 اپریل کو مشال قتل کیس کے بعد سے بند ہونے والی عبدالولی خان یونیورسٹی کو 22 مئی سے مرحلہ وار طور پر کھولنے کا فیصلہ ہوا ہے یہ فیصلہ جمعہ کو یونیورسٹی کے سنڈیکیٹ کے اجلاس میں کیا گیا اجلاس عبدالولی خان یونیورسٹی کے پرووائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر جہانزیب خلیل کے زیر صدارت منعقد ہوا جس میں سنڈیکیٹ کے ممبران سابق جسٹس پشاور ہائی کورٹ محمد اعظم خان رجسٹرار شیر عالم خان ڈائریکٹر فنانس عرش الرحمان سیکریٹری ہائیر ایجوکیشن سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ اور سیکریٹری فنانس کے نمائندوں گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج مردان اور گرلز کالج نوشہرہ کے پرنسپلوں اور دیگر نے شرکت کی یونیورسٹی ذرائع کے مطابق اجلاس میں متفقہ طور پر فیصلہ ہوا کہ 22 مئی سے مردان میں یونیورسٹی کا مین کیمپس اور دیگر اضلاع کے کیمپسز کھول دیئے جائینگے ۔

جبکہ 24 مئی کو شنکر کیمپس مردان اور 25 مئی کو گارڈن کیمپس مردان جہاں پر مشال کے قتل کا واقعہ پیش آیا تھا کھول دیا جائے گا اجلاس میں اس بات کی بھی منظوری دیدی گئی کہ عبدالولی خان یونیورسٹی کے بونیر اور چترال کیمپس جنہیں پہلے ہی یونیورسٹی کا درجہ دیا جاچکا ہے سے عبدالولی خان یونیورسٹی کا سٹاف اور منقولہ وغیر منقولہ اثاثہ جات واپس نہیں لئے جائینگے اور قومی مفاد میں انہیں دونوں نئی یونیورسٹیوں کے نام وقف کردیا جائے یاد رہے کہ تیرہ اپریل کو عبدالولی خان یونیورسٹی میں توہین مذہب کے الزام میں جرنلزم کے طالب علم مشال خان کو فائرنگ اور تشدد کے ذریعے قتل کرنے کے بعد یونیورسٹی کے تمام کیمپسوں میں تدریس کا عمل معطل کرکے یونیورسٹی کو غیر معینہ مدت کے لئے بند کردیا گیا تھا جس کے بعد اب تک اس واقعے میں یونیورسٹی کے بارہ ملازمین اور طلباء سمیت 56 ملزمان کو گرفتار کیا جا چکا ہے اور دو ملزمان فی الحال روپوش ہیں۔