بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / ازخود نوٹس کیس‘ سپریم کورٹ نے مردم شماری مارچ، اپریل 2017میں کرانے کی رپورٹ مسترد کردی

ازخود نوٹس کیس‘ سپریم کورٹ نے مردم شماری مارچ، اپریل 2017میں کرانے کی رپورٹ مسترد کردی


اسلام آباد۔ مردم شماری میں تاخیرسے متعلق ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے مردم شماری مارچ، اپریل 2017میں کرانے کی رپورٹ مسترد کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ قانونی طور پر مردم شماری کیلئے فوجی اہلکاروں کا ساتھ ہونا ضروری نہیں۔مردم شماری سے متعلق حکومتی رپورٹ متاثر کن نہیں اس لئے آئندہ سماعت پر مردم شماری کے منصوبے کی ٹھوس تجویز پیش کی جائے۔

عدالت نے کہا ہے کہ مردم شماری وقت پر نہ ہوئی تو 2018 کے انتخابات کیسے ہونگے، یہ بڑا سنجیدہ معاملہ ہے جس کا فیصلہ آئین و قانو ن کے مطابق کیا جائے گا۔چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس خلجی عارف حسین پر مشتمل عدالت عظمی کے تین رکنی بینچ نے ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی۔ اٹارنی جنرل اشتر اوصاف نے پیش ہوکر موقف اختیار کیا کہ آئندہ سال مارچ اپریل میں مردم شماری کیلئے فوج دستیاب ہوگی اور میں یقین دلاتا ہوں کہ آئندہ سال اپریل تک مردم شماری مکمل کرلی جائے گی۔

مردم شماری میں تاخیر کی موجودہ حکومت ذمہ دار نہیں،چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اس تاخیر سے ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا اس سے عوام اور جمہوری نظام کو فرق پڑتا ہے،مردم شماری نہ ہو تو آئندہ انتخابات کیسے ہونگے،یا حکومت پھر سٹیٹس کو کو جاری رکھنا چاہتی ہے۔اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ اس میں بدنیتی کوئی نہیں ہے مسئلہ لاجسٹکس کا ہے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ہمیں تو بدنیتی نظر آرہی ہے ہم صرف اس حکومت کو الزام نہیں دیتے گذشتہ حکومت نے بھی اس حوالے سے کانہیں کی ا گر نیت ہو تو اس ملک میں منصوبہ کا افتتاح پہلے ہوجاتا ہے اور پی سی ون بعد میں تیار ہوجاتا ہے ،ہمیں اپنا بھر م بھی رکھنا ہے ۔ چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کا کہنا تھا کہ جن لوگوں کا مفاد ہے وہ تو یہی چاہتے ہیں کہ معاملات یونہی چلتے رہیں۔

تاخیر کا ملبہ موجودہ حکومت پر بھی نہیں ڈالیں گے، مردم شماری میں تاخیر کی ذمہ دار ماضی کی حکومتیں بھی ہیں،موجودہ حکومت کو بھی ساڑھے تین سال ہو گئے ہیں، چیف جسٹس نے کہا کہ کام کی نیت ہو تو پی سی ون بعد میں بنتا ہے، آن گراؤنڈ کام شروع ہوجاتا ہے، پھرایسے منصوبے پھرعدالتوں میں چیلنج اور کالعدم قرار دیئے جاتے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ پہلے مردم شماری کیلئے 2016 کی تاریخ دی گئی،پھر فوج کی عدم دستیابی کو جواز بنا لیا گیا ہے، حالانکہ قانونی طور پر مردم شماری کیلئے فوجی اہلکاروں کا ساتھ ہونا ضروری نہیں، چیف جسٹس نے کہاکہ پورے ملک میں مردم شماری ایک دن میں تو نہیں ہو جائے گی، ان کا کہنا تھاکہ1998 کے دس سال بعد جو کام ہونا تھا 18 سال بعد بھی نہیں ہوا،کاغذی کام کرنا کوئی بڑا کام نہیں متعلقہ ادارے کاغذات کے دو ٹرک بھر کر لے آئیں تو اس سے کیا ہوگا؟ چیف جسٹس نے کہا کہ اصل معاملہ مردم شماری کے آغاز اور آئینی ذمہ داری کا ہے، عدالت نے مقدمے کی سماعت دو ہفتوں کیلئے ملتوی کرتے ہوئے حکومت سے مردم شماری سے متعلق دو ہفتوں میں جامع رپورٹ پیش کی جائے۔