بریکنگ نیوز
Home / کالم / سجاد حیدر / بہت دیر کی مہرباںآتے آتے

بہت دیر کی مہرباںآتے آتے

پی پی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کے حالیہ دورہ سیاسی اہمیت اپنی جگہ تاہم اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ انھوں نے پشاور آتے آتے بڑی دیر کر دی ۔ 2008ء کے عام انتخابات کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ پشاور کے جیالوں کو بالخصوص اور خیبر پختونخوا کے پارٹی ورکرز کو بالعموم اپنے قائد سے ملاقاتوں کے موقع ملا اگرچہ ان ملاقاتوں کے دوران پی پی پی کے کارکنوں نے اپنا دل کا حال براہ راست اعلیٰ پارٹی قیادت تک پہنچایااوروہ گلے شکوے جو سالہا سال سے دلوں میں انگاروں کی طرح دہک رہے تھے زبانوں پر آئے تاہم تشنگی باقی ہے ۔ 2008ء کے عام انتخابات کے بعد وفاقی سطح پر پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت کے قیام اور خیبر پختونخوا میں پی پی پی کی اے این کے زیر سایہ مخلوط حکومت کی تشکیل کے بعدپیپلز پارٹی خیبرپختونخوا کے کارکنوں نے جو توقعات وابستہ کی تھیں وہ مذکورہ دور حکومت میں تشنہ رہیں۔مرکزی قیادت وفاقی حکومت کے معاملات سنبھالنے کے چکر میں ایسی پھنسی کہ اسے کارکنوں پر توجہ مرکوز رکھنایاد نہ رہا زرداری کے قصر صدارت میں جا بیٹھنے کے بعد پیپلز پارٹی کو ایک سیاسی جماعت کی حیثیت سے متحرک ومنظم رکھنے کا عمل اسلئے بری طرح متاثر ہوا کہ پارٹی میں وہ موثر متبادل سیٹ اپ متعارف نہ کیا جاسکا جو ایک ملک گیر سیاسی قوت کی حیثیت سے پیپلز پارٹی کا نظم و نسق چلا تا اور اسے اندرونی طور پر شکست و ریخت سے محفوظ رکھتا خیبر پختونخوا میں پی پی پی کے غیر مستحکم ہو نے کی ایک وجہ صوبائی قیادت کا بحران بھی رہا، مذکورہ عام انتخابات کے موقع پر پارٹی کے صوبائی صدر رحیم داد خان تھے ، صوبائی حکومت میں پی پی پی کی شمولیت کے بعد انھیں اس بنیاد پر پارٹی صدارت سے ہٹایا گیاکہ انکا پارٹی صدارت اور صوبائی وزارت بیک وقت چلانا پارٹی مفاد میں نہیں تھا تاہم انکی جگہ عہدہ صدارت سنبھالنے والے سید ظاہر شاہ صوبائی صدارت اور صوبائی وزارت ساتھ ساتھ چلاتے رہے۔

یہ تضاد پارٹی کارکنوں اور رہنماؤں میں بددلی پیدا کرنے کا باعث بنا،2008ء سے 2013ء کے دوران پیپلز پارٹی کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے رہنما اور عام کارکن تسلسل کے ساتھ صوبائی مخلوط حکومت کی کارکردگی کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کرتے رہے ، انھیں ایک طرف یہ گلہ رہا کہ مخلوط حکومت میں شامل انکی جماعت، عوامی نیشنل پارٹی سے حکومت میں اپنا جائز حصہ لینے میں ناکام رہی ہے تو دوسری طرف یہ شکایت لاحق رہی کہ پی پی پی کو حکومت میں جو حیثیت ملی ہے اسے بھی پارٹی کے وزراء صوبے کے عوام، پارٹی کارکنوں اور نچلی قیادت کی توقعات کے مطابق استعمال میں لانے کے بجائے مخصوص مفادات و اہداف کے حصول کیلئے استعمال میں لارہے ہیں ، پیپلزپارٹی کے کارکن ان پانچ سالوں کے دوران تسلسل کیساتھ مختلف پلیٹ فارمز پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے اور شکوے شکایتیں ریکارڈ پر لاتے رہے لیکن صوبائی اور اعلیٰ قیادت کی جانب سے انکی تسلی و تشفی کی جانب توجہ نہیں دی گئی ، نتیجتاً یہ ناراضگیاں اور گلے شکوے دلوں کے آئینوں پر نقش ہوتے رہتے جس کا خمیازہ پیپلز پارٹی کو 2013ء کے عام انتخابات میں بھگتنا پڑا،یہ جو کہا جا تا ہے نا کہ دہشت گردی کی لہر 2013ء کے عام انتخابات میں پی پی پی خیبر پختونخوا کو لے ڈوبی یہ اس لئے درست نہیں کہ پی پی پی کے جیالے پارٹی کیلئے ہرطوفان سے ٹکراجانے کا حوصلہ ‘ جذبہ اور تجربہ رکھتے ہیں اور اگر مذکورہ پانچ سال کے دوران پارٹی قیادت نے ان سے وفا کی ہوتی تو کوئی بھی گروپ انھیں 2013ء کے عام انتخابات میں پارٹی کو کامیابیاں دلانے سے نہیں روک سکتا تھا ،لہٰذااس حوالے سے پارٹی کی اعلیٰ قیادت کو اپنی غلطیاں اور کوتاہیاں آن دی ریکارڈ تسلیم کرنا ہو ں گی ۔

اب جبکہ آصف علی زرداری نے صوبائی دارالحکومت کا ایک سیر حاصل دورہ کیا ہے اور انھوں نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ جلد دوبارہ پشاور آئیں گے اصل سوال یہ ہیں کہ پی پی پی کی اعلیٰ قیادت کا عام انتخابات سے صر ف ایک سال پہلے خیبر پختونخوا کے عام کارکنوں سے رجوع پچھلے نو سال کی بے رخی کا ازالہ کر سکے گا ؟۔کیا اس عرصے کے دوران پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت اور خیبر پختونخوا کے پارٹی ورکرز کے درمیان جو فاصلے پیدا ہو چکے وہ آصف علی زرداری کی جانب سے فقط روشن مستقبل کے خواب دکھانے سے مٹ جائیں گے ؟ کیاآصف علی زرداری کی کارکنوں کوصرف اس تسلی کی بنیاد پر متحرک کرنے کی کوشش کہ’’ آنے والا دور پی پی پی کا ہے‘‘ پارٹی قیادت پر جیالوں کا اعتماد بحال کر سکے گی ؟اور ان میں وہ روح پھونک سکے گی جو انھیں پارٹی کی خاطر سر دھڑ کی بازی لگانے کیلئے تیار کردے؟