بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / عالمی عدالت انصاف کا فیصلہ

عالمی عدالت انصاف کا فیصلہ

انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس نے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کی سزائے موت کے خلاف بھارتی درخواست پرفیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ کیس کے حتمی فیصلے تک بھارتی جاسوس کلبھوشن کو پھانسی نہیں دی جاسکے گی، عالمی عدالت نے کورٹ کے دائرہ اختیار سے متعلق پاکستان کا اعتراض مسترد کرتے ہوئے کہا کہ عالمی عدالت سماعت کا اختیار رکھتی ہے، عدالت کا کہنا ہے کہ اس کے پاس ویاناکنونشن کے آرٹیکل ون کے تحت تفریق پر فیصلہ دینے کا اختیار ہے، اٹارنی جنرل کے دفتر سے جاری اعلامیہ کے مطابق عدالت نے موجودہ صورتحال برقرار رکھنے کا عبوری فیصلہ دیا، عدالتی فیصلے سے پاکستان کا یادیو سے متعلق موقف کسی صورت تبدیل نہیں ہوا، یادیو کے پاس رحم کی اپیل کیلئے وقت ہے، دفتر خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ عالمی عدالت انصاف کے دائرہ کار کے حوالے سے اعلامیہ جمع کرایاجاچکا ہے ، ان کا کہنا ہے کہ قومی سلامتی کے معاملات پر عالمی عدالت انصاف کا دائرہ تسلیم نہیں کرتے ‘وزیردفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوسکتا اور کلبھوشن کے کیس میں سلامتی کو ہی مدنظر رکھ کر فیصلہ کیاجائیگا، ان کا کہنا ہے کہ بھارتی ایجنٹ پاکستان کے امن کو تباہ کرنے کیلئے سرگرم رہا ہے،ا ب اس کیلئے کسی قسم ریلیف کا کوئی امکان نہیں، بھارتی جاسوس کو 16مارچ 2016ء کوبلوچستان سے گرفتار کیاگیا۔

گرفتاری کے چند روز بعد ہی اس نے اعترافی بیان دیا، یادیو کو اپنے دفاع کیلئے لیگل ٹیم فراہم کی گئی اور تمام الزامات ثابت ہونے پر اسے سزائے موت سنائی گئی، عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کیساتھ دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ بھارت اپنے جرائم سے دنیا کی توجہ ہٹانے کی کوشش کررہا ہے لیکن اس کے حقیقی چہرے کو دنیا کے سامنے بے نقاب کیاجائیگا، اس مقصد کیلئے ٹھوس حکمت عملی کی ضرورت ہے اور یہ حکمت عملی سیاسی قیادت کی مشاورت سے طے ہونی چاہئے، اس میں حزب اختلاف کے موقف کو سننا اور اس کے اعتراضات کو دور کرنا بھی ضروری ہے، جن کا اظہار قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے بھی کیا ہے، یہ ایک قومی مسئلہ ہے اور وطن عزیز کی قیادت ہمیشہ قومی سلامتی کے معاملات پر یک آواز ہی رہی ہے۔

کنٹرول روم کا قیام

پشاور کی ضلعی انتظامیہ نے رمضان المبارک کے دوران شہریوں کی ریلیف اور قیمتوں کو قابو میں رکھنے کیلئے کنٹرول روم قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، مارکیٹ کنٹرول کیلئے اسی طرح کے مرکز کے قیام کی تجویز پر عمل درآمد قابل اطمینان اور ایڈمنسٹریشن کے احساس کا عکاس ہے، اب اگلے مرحلے میں اس کو موثر بنانے اور عوامی شکایات پر واقعی میں ایکشن لیتے ہوئے کاروائی یقینی بنانا ضروری ہے، اس کیساتھ اس طرح کے کنٹرول رومز ہر ڈسٹرکٹ میں قائم کرکے صوبے کی سطح پر خصوصی مرکز قائم کرکے اس سے منسلک کرنا ناگزیر ہے، اس وقت مارکیٹ کی صورتحال ہر قاعدے قانون سے آزاد نظر آتی ہے، مہنگائی اور ملاوٹ کی روک تھام کیلئے سرکاری سیٹ اپ ناکافی ہے، اس میں اختیارات اور موقع پر فیصلہ سازی کا ممکن نہ ہونا بھی ایک سوال ہے تاہم جب تک اس مقصد کیلئے مجسٹریسی نظام بحال نہیں ہوتا، موجودہ انتظامی سیٹ اپ کو اختیارات اور وسائل دے کر عوامی ریلیف کیلئے اقدامات اٹھائے جاسکتے ہیں۔