بریکنگ نیوز
Home / کالم / زہر امروز میں شیرین�ئ فردا بھر دے

زہر امروز میں شیرین�ئ فردا بھر دے


اس ملک کی آبادی 18کروڑ ہے، 20کروڑ ہے یا اس سے بھی زیادہ؟ وثوق سے کوئی بھی اس سوال کا جواب نہیں دے سکتا کیونکہ گزشتہ 18برسوں سے یہاں مردم شماری ہوئی ہی نہیں، تمام پلاننگ اورترقیاتی منصوبے مفروضوں اور اندازوں پر چلائے جارہے ہیں، ایک بات البتہ طے ہے اور اس میں کسی شک وشبے کی گنجائش نہیں اور وہ یہ ہے کہ اس ملک کی آدھی آبادی یا اس سے تھوڑی کم غربت کی لکیر کے نیچے زندگی کے دن گزار رہی ہے، اس کو دن میں دو وقت کا کھانا میسر نہیں، پینے کو اگر شفاف پانی دستیاب نہیں تو بیماری میں وہ ادویات خریدنے اور ڈاکٹر کی فیس ادا کرنے کی مالی استطاعت نہیں رکھتے لہٰذا یڑیاں رگڑ رگڑ کر مرنا ان کا مقدر بن چکا ہے، بچے ان کے سکول نہیں جاسکتے جس کا نتیجہ یہ ملک چائلڈ لیبر (Child Labour)کی شکل میں دیکھ رہا ہے، اسکے علی الرغم اشرافیہ جیسے کہ اگر بدمعاشیہ کہاجائے تو وہ مزے میں ہے ان کی پانچوں انگلیاں گھی میں ہیں، اپنے مسلح گارڈز کی شکل میں انہوں نے مسٹنڈوں کی ایک فوج ظفر موج پال رکھی ہے، ریاستی ادارے چونکہ سیاسی مداخلت سے کمزور پڑگئے ہیں انہی مسٹنڈوں کے زورپر وہ جس قسم کی بدمعاشی کرنا چاہیں کرسکتے ہیں، پولیس کی کیا مجال ہے کہ ان پر ہاتھ ڈال سکے کیونکہ سیاسی طورپر بھی ان لوگوں کے کافی لمبے ہاتھ ہوتے ہیں اور آج کل تو کوئی پولیس والا نہیں چاہتا کہ ان کو نکیل ڈالنے کی کوشش کرے اور جس کے نتیجے میں خود اس کی پیٹی اتاردی جائے اور اسے لائن حاضر کردیاجائے، اردو زبان کا مشہور محاورہ جس کی لاٹھی اسکی بھینس ہمارے معاشرے پر سوفیصد صادق آرہا ہے۔

عربی زبان کا محاورہ ہے کہ رعایا اپنے بادشاہ کا چلن اپنانا چاہتی ہے یعنی اگر حکمران درویش صفت ہوگا اور سرکاری پیسوں پر اللے تللے نہیں کرے گا اور سادگی اور قناعت کا مظاہرہ کرے گا تو عوام بھی لازماً اس کے نقش قدم پر چلنے کی طرف راغب ہونگے‘ ایک مرتبہ جمعہ کے روز حضرت علی کرم اللہ وجہہ منبر پر خطبہ فرما رہے تھے جبکہ ایک پرانا لباس جس میں بہت سے پیوند تھے آپ کے زیب تن تھا، عبداللہ ابن عباس کے دل میں خیال گزرا کہ یہ حالت امیر المومنین کے شایان شان نہیں اس کیساتھ ہی حضرت علیؓ نے فرمایا کہ ’’میں نے اس قدر پیوند پر پیوند لگائے ہیں کہ اب پیوند لگانے والے سے حیا آنے لگی ہے، علیؓ کو دنیا کی ز ینت اور آرائش سے کیا سروکار جس کا پھول کانٹا اور جس کا شہد زہر ہے میں کیوں کر اس لذت سے خوش ہوسکتاہوں؟ جو تھوڑی دیر میں فنا ہونے والی ہے اور میں کس طرح پیٹ بھر کر کھا سکتا ہوں جبکہ ملک حجاز میں بہت سے پیٹ خالی اور بھوکے ہیں اور بھوک کی شدت سے بیتاب ہیں، میں کس طرح اس بات سے خوش ہوں کہ لوگ مجھ کو امیر المومنین کہیں اور مسلمان اپنا مقتدا اور پیشوا جانیں اور میں سختیوں اور مشکلوں میں ان کا شریک نہ رہوں اور بھوک وتنگی میں اور معاشی احتیاج میں ان کیساتھ مواقف نہ کروں ‘‘ دنیا میں 50سے زیادہ اسلامی ملک ہیں ایک آدھ کو چھوڑ کر ذرا اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر بتلائیں کہ ان میں کس ملک کا حکمران اس طرز کی زندگی گزار رہا ہے یا اس خیال کا مالک ہے ۔

کہ جس کا ذکر ہم نے اوپر کی سطور میں کیا ہے؟ ہم نے تو اپنے اسلاف کی باتیں بھلا دیں اور ایسی ڈگر پر چل نکلے کہ جس کاانجام معاشرے کی تفریق اور بے چینی کے سوا کچھ بھی نہیں، ہم سے تو وہ ماؤزے تنگ اچھا نکلا کہ جس نے جب یہ محسوس کیا کہ ایک عام چینی پیروں ننگا اس لئے پھر رہا ہے کہ وہ نئے جوتے خرید نہیں سکتا تو اس نے بھی یہ قسم کھالی کہ جب تک عام چینی معاشی طورپر اس قابل نہ ہوگا کہ اپنے لئے جوتے خرید سکے وہ بھی نئے جوتے نہیں خریدے گا اور کئی سال چین کی کمیونسٹ پارٹی کے چیئرمین کے جوتے جب پھٹنے لگتے تو موچی اس پر پیوند لگاتا ، اس کالم کے مندرجات کے مطابق ان کا اختتام فیض احمد فیض کی اس دعائیہ نظم کے ساتھ کرتے ہیں کہ جو حسب حال ہے اور جو اس ملک کے ہر ذی شعور اور حساس دل رکھنے والے کے جذبات کی نمائندگی کرتی ہے۔
آیئے عرض گزاریں کہ نگارہستی
زہرامروزمیں شرینی فردا بھردے
وہ جنہیں تاب گراں باری ایام نہیں
ان کی پلکوں پر شب وروز کو ہلکا کردے
جن کی آنکھوں کو رُخ صبح کا یارا بھی نہیں
ان کی راتوں میں کوئی شمع منور کردے
جن کے قدموں کو کسی رہ کا سہارا بھی نہیں
ان کی نظروں پہ کوئی رہ اجاگر کردے