بریکنگ نیوز
Home / انٹرنیشنل / ماؤنٹ ایورسٹ پر 3غیر ملکی کوہ پیما ہلاک

ماؤنٹ ایورسٹ پر 3غیر ملکی کوہ پیما ہلاک


دنیا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ کو سر کرنے کے خواہش مند 3 غیر ملکی کوہ پیما ہلاک جبکہ ایک بھارتی کوہ پیما لاپتہ ہوگیا، جس کی تلاش کیلئے ریسکیو کا آغاز کردیا گیا۔

حکام نے تصدیق کی ہے کہ ایک ہفتے کے دوران دنیا کی بلند ترین چوٹی سر کرنے کی کوشش میں مختلف واقعات میں 3 کوہ پیما موت کا شکار ہوئے، جہاں دو سال قبل ایک حادثے میں 18 کوہ پیما ہلاک ہوگئے تھے۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق امدادی سرگرمیوں سے منسلک ایک ہیلی کاپٹر پائلٹ نے بتایا کہ گذشتہ 3 روز کے دوران 8848 میٹر یا 29030 فٹ بلند پہاڑی چوٹی پر سے ایک درجن سے زائد کوہ پیماوں کو ریسکیو کیا گیا۔ ہلاک ہونے والے کوہ پیماوں کے بارے میں بتایا گیا کہ یہ اونچائی کے باعث بیماری کے نتیجے میں ہلاک ہوئے اور ایک سیزن میں ہلاکتوں کی تعداد 5 ہوچکی ہے، یہاں کوہ پیماوں کو غیر متوقع موسم، سخت ہواوں اور غیر معمولی کم ترین درجہ حرارت کا سامنا تھا۔

ان کی لاش 8000 میٹر بلندی پر ملی، پہاڑ کا یہ علاقہ ’ڈیتھ زون‘ کے نام سے معروف ہے، یہاں اس سے قبل ایک امریکی کوہ پیما رولانڈ ائیرووڈ بھی موت واقع ہوئی تھی۔ چوٹی کا یہ حصہ اپنے انتہائی مشکل عراضی اور سخت ہواوں کی وجہ سے جانا جاتا ہے، جہاں فضا میں آکسیجن کی کمی کے باعث اونچائی سے لاحق ہونے والی بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ مقامی میڈیا نے تبت ماؤنٹینگرنگ ایسوسی ایشن کے حوالے سے بتایا کہ ایک آسٹریلیوی کوہ پیما پہاڑی پر تبت کے مقام پر ہلاک ہوا۔

54 سالہ کوئن لینڈ بھی مبینہ طور پر اونچائی کے نتیجے میں بیماری کا شکار ہوئی تھیں، انھوں نے پہاڑی کا 7500 میٹر کا حصہ سر کرلیا تھا اور وہ بیماری کے باعث نیچے واپس آرہی تھیں کہ ہلاک ہوئیں۔ لاپتہ ہونے والے کوہ پیما کے بارے میں بتایا گیا کہ ہفتے کے روز ان سے اس وقت رابطہ منقطع ہوگیا جب انھوں نے چوٹی سر کرلی تھی، ان کے نیپالی گائڈ کو 8000 میٹر کی بلندی پر قائم کیمپ 4 سے بے ہوشی کی حالت میں ریسکیو کیا گیا۔ بھارت کی شمالی ریاست اتر پردیش سے تعلق رکھنے والے لاپتہ کوہ پیما کی تلاش کیلئے سرچ آپریشن کا آغاز کردیا گیا ہے، تاہم بیس کیمپ پر موجود انتظامیہ پیر کی صبح ریسکیو ٹیم سے بھی رابطہ برقرار نہ رکھ سکی۔

اس سے قبل اپریل کے اختتام پر ایک سوئس کوہ پیما یویلی سٹیک ہلاک ہوگئیں تھی جبکہ چوٹی کو سر کرنے کیلئے معمر ترین شخص کا ریکارڈ بنانے کی کوشش میں 85 سالہ بہادر شیرچن اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ یاد رہے کہ اب تک 120 کوہ پیما شمال کی جانب سے چوٹی کو سر کرنے کی کوشش کرچکے ہیں جبکہ تبت کی جانب سے 80 کوہ پیما کوشش کرچکے ہیں۔ دوسری جانب جون میں مون سون کی آمد سے قبل چوٹی کو سر کرنے کیلئے سیکڑوں کوہ پیما انتظار کررہے ہیں اور یہ چوٹی سر کرنے کے انتہائی مختصر سیزن کا اختتام ہے۔

گذشتہ سال ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے کی کوشش میں 5 کوہ پیما ہلاک ہوگئے تھے جبکہ چوٹی کو سر کرنے کیلئے 640 افراد نے کوشش کی تھی۔