بریکنگ نیوز
Home / کالم / قوم انتخابی اصلاحات کی منتظر

قوم انتخابی اصلاحات کی منتظر


مئی 2013ء کے عام انتخابات کے موقع پر الیکشن کمیشن آف پاکستان نے کوشش کی تھی کہ اسے انتخابی امیدوراوں کے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کیلئے کم از کم 14دن کا وقت مل جائے لیکن اس وقت جانے والی حزب اقتدار و حزب اختلاف کے مشترکہ طرز عمل نے ایسا ہو نے نہیں دیا تھا ۔ ٹیکس چوری‘ بینک ڈیفالٹ اور اس قسم کی دیگر قباحتوں کا شکار امیدواروں کو انتخابات میں حصہ لینے سے روکنے کیلئے کمیشن کی کوشش مذکورہ سیاسی جماعتوں کی قیادت کو ایک آنکھ نہیں بھائی‘ نئے کاغذات نامزدگی کا راستہ روکنے میں ناکامی کے بعد مخصوص مقاصد کی تکمیل سیاسی قائدین سے اس امر کی متقاضی تھی کہ الیکشن کمیشن کو جو کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کیلئے 14 دن کا عرصہ مخصوص کرانا چاہتا تھا ایسا کرنے سے روکا جائے تاکہ اسے نئے کاغذات نامزدگی کی مدد سے امیدواروں کی اہلیت جانچنے کیلئے کم سے کم وقت ملے۔بہ الفاظ دیگرکمیشن کو نئی شرائط کی روشنی میں پوری تسلی اور اطمینان کے ساتھ امیدواروں کا ’’حدود اربعہ‘‘ معلوم کرنے کے قابل نہ چھوڑنے کی تدبیر کی جائے تاکہ امیدواروں کیلئے آئین کی دفعہ 62اور63 کی تلوارکے وار سے بچ نکلنے کی صورت نکالی جا سکے ۔اگر اُس وقت نگران وزیر اعظم کی تقرری کے معاملے پرقائد ینِ حزب اقتدار و اختلاف کے درمیان رابطوں کا آغاز بروقت ہو جا تا، اس معاملے کو وقت پر آخری آئینی مرحلے تک پہنچا دیا جاتا اور سابق صدر مملکت نے عام انتخابات کی تاریخ دیتے وقت کچھ خیال کر لیا ہو تا تو کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کیلئے 14دن کی گنجائش نکالناکوئی بڑی بات نہیں تھی۔

‘ مئی 2013ء کے عام انتخابات کے حوالے سے نئی قانون سازی کیلئے الیکشن کمیشن کی سفارشات کو قانونی شکل نہ دینے سے لیکر عام انتخابات کی تاریخ کے اعلان میں تاخیر تک مختلف مراحل پر سابقہ حکومت اور اپوزیشن کا ایکا بتا رہے تھے کہ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کیلئے الیکشن کمیشن کو کم سے کم وقت دینا ’’مشترکہ مفادات‘‘ کے تحفظ کی پالیسی کے تحت تھا۔یوں مئی 2013ء کے عام انتخابات کیلئے جاری ہونے والے انتخابی شیڈول میں بھی امیدواروں کے کاغذات نامزدگی کی چھان بین کیلئے وہی سات دن رکھے جا سکے جو اس سے پہلے اس مقصد کیلئے رکھے جاتے تھے ۔ الیکشن کمیشن کو صرف سات یوم میں یہ پتہ لگا نا تھا کہ انتخابی اکھاڑے میں اترنے والے کون کون سے امیدوارآئین کے ارٹیکلز 62 اور63کے تحت اہلیت کی تعریف پر پورا اترتے ہیں‘وقت کی قلت کے باعث الیکشن کمیشن حسب سابق مذکورہ عام انتخابات میں بھی آرٹیکل 62اور 63پر عمل درآمد نہیں کرا سکا یہ سارا پس منظر بیان کرنے کا مقصد اس معاملے پر روشنی ڈالنا ہے کہ عام انتخابات کے شیڈول میں کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کیلئے مقرر وقت میں خاطر خواہ توسیع کاغذات کی چھان بین کے طریقہ کار کو آئین کے آرٹیکل 62اور 63کے تقاضوں سے ہم آہنگ کر نے کیلئے کس قدر ضروری ہے۔

25 جولائی 2014ء کو قائم ہونیوالی انتخابی اصلاحات کمیٹی اگرچہ بہت سی سفارشات کو حتمی شکل دے چکی ہے تاہم اپنے قیام کے دو سال سے زائد کا عرصہ گزر جانے کے باوجود کمیٹی انتخابی اصلاحات کے حوالے سے اپنا کام مکمل نہیں کر پائی جبکہ ان سفارشات کے حتمی تعین کے بعد انھیں پارلیمنٹ میں پیش کرنا اور قانون سازی کے مرحلے سے گزارنا بھی ابھی باقی ہے‘ یہ سارا کام 2018ء کے عام انتخابات سے بہت پہلے مکمل کرلیا جانا ناگزیر ہے تاکہ الیکشن کمیشن ، سیاسی جماعتوں اور عوام سب پر واضح ہو سکے کہ آیا آئندہ عام انتخابات کے موقع پر آرٹیکل 62اور 63 آئین کا حصہ ہوں گے بھی یا نہیں اور اگر ہونگے تو کیا الیکشن کمیشن ان آرٹیکلز کو صحیح معنوں میں لاگو کرنے کی پوزیشن میں ہو گا ؟