بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / پاکستان کو ایران اورسعودیہ کے مابین ثالثی کا کردار اداکرنا چاہئے ٗ عمران خان

پاکستان کو ایران اورسعودیہ کے مابین ثالثی کا کردار اداکرنا چاہئے ٗ عمران خان

اسلام آباد۔پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان نے کہاہے کہ سعودی عرب میں منعقدہ کانفرنس میں پاکستانی وزیراعظم نوازشریف نے تقریر تیار کرنے میں 6 گھنٹے لگائے تاہم سعودی عرب میں کسی نے پاکستان کا نام نہیں لیا، نوازشریف کیساتھ جیسا سلوک برتا گیا وہ شرمندگی کا باعث ہے ٗبھارت کشمیرمیں ریاستی دہشت گردی کررہا ہے ٗنواز شریف کو کشمیر میں بھارتی مظالم کی بات کرنا چاہیے تھی پاکستان کو ایران اورسعودی عرب کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرنا چاہیے ٗٹرمپ نے پاکستانیوں کا تذکرہ نہیں کیا ٗ بھارت کی تعریفوں میں لگے رہے ۔

آج صبح میڈیا سے بات کرتے ہوئے چیرمین پی ٹی آئی عمران خان نے کہاکہ سعودی عرب میں منعقدہ کانفرنس میں پاکستانی وزیراعظم نوازشریف نے تقریر تیار کرنے میں 6 گھنٹے لگائے لیکن سعودی عرب میں کسی نے پاکستان کا نام نہیں لیا، نوازشریف کے ساتھ جیسا سلوک برتا گیا وہ شرمندگی کا باعث ہے، امریکی صدر ٹرمپ کو پاکستانی وزیراعظم سے ملنے کا خیال آیا اور ناہی قربانیاں دینے والے پاکستان کی یاد آئی جبکہ پاکستان نے امریکا کی جنگ کیلئے 100 ارب ڈالر کا نقصان اور 70 ہزار پاکستانیوں کی جان کی قربانی دی۔

ٹرمپ نے بھارت کی بات کی مگرکشمیر کا نام نہیں لیا جبکہ بھارت کشمیرمیں ریاستی دہشت گردی کررہا ہے ٗنواز شریف کو کشمیر میں بھارتی مظالم کی بات کرنا چاہیے تھی۔عمران خان نے کہا کہ وزیراعظم اگر کانفرنس میں شریک تھے تو وہ پاکستانیوں کی بات ہی کردیتے وہ پاکستان کے وزیراعظم ہیں، نوازشریف کوٹرمپ کی باتوں پرکوئی تو بیان دینا چاہیے تھا، ایران کوتنہا کیا جارہا ہے اور پاکستانی وزیراعظم تماشائی بنے رہے نوازشریف پاکستان کی نمائندگی کررہے تھے انہیں چاہئے تھا کہ وہ پارلیمنٹ میں ساری جماعتوں کی متفقہ قرارداد پیش کرتے اور کہتے کہ پاکستان ایران کو الگ نہیں رکھنا چاہتا ہم فریق نہیں ثالث بنیں گے۔

انہوں نے کہا کہ نوازشریف نے بڑی نیٹ پریکٹس کی لیکن بارہویں کھلاڑی بنا دئیے گئے، سعودی عرب میں انہیں میچ کھلایا ہی نہیں گیا اور ان کو 12 واں کھلاڑی بنا دیا گیا تاکہ بیٹھ کر تالیاں بجاتے رہیں۔چیئرمین پی ٹی آئی نے کہاکہ پاکستان کو ایران اورسعودی عرب کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرنا چاہیے ہمیں مسلمان دنیا کواکٹھا کرنا چاہیے ہمیں فریق نہیں بننا چاہیے دوسروں کی جنگوں میں شرکت پاکستان کے مفاد میں نہیں، ہم نہیں چاہتے کہ مسلمان دنیا میں انتشارکا شکارہوں ٗپاکستان کا کام آگ بجھانا ہونا چاہیے یہ سب باتیں نہیں کرنی تھیں تو نوازشریف کو سعودی عرب جانا ہی نہیں چاہیے تھا۔

انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے کہہ دیا ہے کہ پاناما کیس کرمنل انویسٹی گیشن ہے جس شخص کے خلاف کرمنل انویسٹی گیشن ہو وہ ملک کا وزیراعظم ہے، جس طرح کی پاکستان کی خارجہ پالیسی ہے اس سے ملک کو نقصان ہورہا ہے نوازشریف کواسی پراستعفیٰ دے دینا چاہیے۔عمران خان نے کہاکہ وزیراعظم نوازشریف کو امریکا عرب اسلامک سمٹ میں یہ کہنا چاہیے تھا کہ پاکستان نہیں چاہتا کہ ایران کو تنہا کیا جائے۔عمران خان نے ڈونلڈ ٹرمپ کے خطاب کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ انہوں نے پاکستان کا تذکرہ نہیں کیا جو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن اسٹیٹ ہے بلکہ بھارت کی تعریف کردی۔

انہوں نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے خطاب میں نہ ہی کشمیریوں کا ذکر کیا اور نہ ہی فلسطین میں ہونے والے مظالم کا تذکرہ کیا۔سوشل میڈیا کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ سوشل میڈیا پاکستان میں نیا ہے جہاں ہر کوئی اپنے رائے دے سکتا ہے اور اسے کوئی روک نہیں سکتا۔انہوں نے کہا کہ یہ مہم چل رہی ہے کہ فوج کے خلاف بات کرنے والوں کو پکڑا جائیگا لیکن حکومت نے جتنا فوج کو بدنام کیا اتنا کوئی نہیں کرسکتا۔