بریکنگ نیوز
Home / کالم / طرز حکمرانی کی اصلاح و مشکلات کا حل!

طرز حکمرانی کی اصلاح و مشکلات کا حل!


سب کی نظریں وفاقی حکومت پر جمی ہیں‘ جس کی دو وجوہات ہیں۔ پہلا تو وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال کا بجٹ پیش کرنا ہے‘ جس کے لئے قومی اسمبلی اور سینٹ کے اجلاس چوبیس اور چھبیس مئی کو طلب کر لئے گئے ہیں۔ اب تک ہوئی منصوبہ بندی کے تحت وزیر خزانہ اسحاق ڈار چھبیس مئی کو قومی اسمبلی میں بجٹ تقریر کریں گے جبکہ اسی دن سینٹ میں بجٹ دستاویزات پیش کر دی جائیں گی۔ حکومت نے ملک میں پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام اور اکنامک سروے کو قریب حتمی شکل دے دی ہے جسکا سب سے اہم باب یہ ہے کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ کیا جائے گا لیکن اس اضافے کی شرح کیا ہوگی‘ یہ طے ہونا ابھی باقی ہے جبکہ عوام کو موجودہ حکومت کے آخری اور آئندہ مالی سال کے بجٹ میں کسی بھی قسم کا ریلیف نظر نہیں آتا جب تک وزیر اعظم خود اس میں مداخلت نہ کریں اور کوئی ایسا ریلیف نہ دیں جس کے ثمرات عام آدمی کو منتقل ہوں۔ وفاقی حکومت سے دوسری توقع طرز حکمرانی کی اصلاح سے متعلق ہے عالمی مالیاتی ادارے نے خبردار کیا ہے کہ پاناما پیپرز کے معاملے نے پاکستان میں سیاسی خطرات کو مزید بڑھا دیا ہے ورلڈ بینک نے ’پاکستان ڈویلپمنٹ اپ ڈیٹ‘ کے عنوان سے ایک رپورٹ جاری کی ہے جس میں مالیاتی ادارے کا کہنا ہے کہ ملک کو اندرونی طور پر ’قدرتی آفات‘ سیاسی معاملات اور دہشت گردی‘ کے مسائل کا سامنا ہے جبکہ آئندہ برس ہونیوالے عام انتخابات ممکنہ طور پر اصلاحات کے عمل اور مائیکرو اکنامک پالیسی کے عمل کو متاثر کرسکتے ہیں۔ ہر چھ ماہ بعد شائع کی جانے والی اس رپورٹ میں مالیاتی ادارے نے معیشت میں ہونے والی حالیہ ترقی اور خطرات کی نشاندہی کی ہے جبکہ مستقبل قریب میں اہم ترقیاتی چیلنجز کا بھی تذکرہ کیا ہے۔

ورلڈ بینک پہلا مالیاتی ادارہ نہیں‘ جس نے پانامہ پیپرز کے حوالے سے جاری تحقیقات کے ممکنہ نتائج بارے پاکستان کو خبردار کیا ہو بلکہ یہ بات کئی ماہرین اقتصادیات کی جانب سے سامنے آ چکی ہے کہ پاناما پیپرزکا معاملہ پاکستان کی تعمیر و ترقی کو مشکلات سے دوچار کرسکتا ہے۔ گذشتہ سال آئی ایم ایف کی صدر محترمہ کرسٹین لغراد نے نشاندہی کی تھی کہ پاکستان میں کرپشن کا تاثر نجی سرمایہ کاری کو متاثر کرسکتا ہے اور اس کی وجہ سے غیر یقینی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے جبکہ یہی ترقی کی راہ میں بھی رکاوٹ ہے انہوں نے تجویز دی تھی کہ شفافیت میں اضافے‘ لوگوں کے احتساب اور بیوروکریسی کی رکاوٹوں کو ہٹانے سے کرپشن کے مسئلے کو حل کیا جاسکتا ہے ماہرین اقتصادیات بار بار کی تاکید سے واضح کرتے ہیں کہ پاناما پیپرز کا معاملہ پاکستان کے سیاسی بحران میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے‘ جیسا کہ سرمایہ کار پہلے ہی سے ’انتظار کرو اور دیکھو‘ کے مفروضے پر عمل کررہے ہیں‘ ان کا کہنا تھا کہ اس کی وجہ پاناما پیپرز کے حوالے سے پائی جانے والی غیر یقینی صورتحال ہے۔ ڈاکٹر اشفاق حسین خان کا کہنا تھا کہ ’’جب سیاسی بحران بڑھتا ہے تو اس سے معاشی ترقی کم ہوجاتی ہے۔‘‘ انھوں نے کہا کہ ’’آئندہ دو سال کے لئے ملک کی معاشی ترقی کے حوالے سے ورلڈ بینک کے خیالات یکساں نہیں ہوں گے۔‘‘ سپریم کورٹ کی جانب سے وزیراعظم نواز شریف اور ان کے خاندان کے اثاثوں کی تحقیقات کے لئے جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم بنانے کے فیصلے پر ماہرین منقسم ہیں کہ آیا کہ اس سے کوئی ٹھوس نتیجہ برآمد ہوسکے گا یا کہ یہ محض آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف تھا۔ ان سب کے باوجود عالمی بینک نے توقع ظاہر کی ہے کہ پاکستان کی معاشی شرح نمو رواں مالی سال کے اختتام پر پانچ اعشاریہ دو فیصد تک پہنچ سکتی ہے ۔ رپورٹ کے مطابق پاکستانی معیشت کی شرح نمو برقرار رہے گی اور یہ مالی سال دوہزار سترہ اٹھارہ میں پانچ اعشاریہ پانچ فیصد اور مالی سال دوہزار اٹھارہ انیس میں پانچ اعشاریہ آٹھ فیصد تک پہنچ جائیگی۔

ورلڈ بینک کی رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ انتہائی ضروری اصلاحات کی سست رفتاری ممکنہ طور پر ترقی کو کمزور اور نجی سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی کرسکتی ہے جبکہ ڈالر کی قیمت میں استحکام کے باعث حقیقی و مؤثر شرح تبادلہ میں اضافہ ہوا جو پاکستان کی برآمدات میں مسابقت کو تباہ کرسکتا ہے۔ اس کے علاوہ عالمی معاشی کمزوریوں‘ خاص طور پر یورپ کے معاملات کے باعث ملک کی برآمدات پر منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں رپورٹ میں ورلڈ بینک کے کنٹری ڈائریکٹر ایلانگو پاچاموتھو نے کہا ہے کہ ’’پاکستان کی ترقی میں اضافہ ایک اچھی خبر ہے اور یہ اعتماد سازی میں کامیابی کی نشاندہی کرتی ہے لیکن اصلاحات کا عمل انتہائی سست ہے‘ تو کیا وفاقی حکومت آئندہ چند ہفتوں میں درپیش ان دونوں چیلنجز سے عہدہ برآء ہو سکے گی‘ جن کا تعلق سخت گیر مالی و انتظامی نظم و ضبط سے بھی ہے اور گورننس سے بھی کیونکہ اب تک کی کوششوں کے خاطرخواہ نتائج برآمد نہیں ہو پا رہے۔ (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر شعیب کریم۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)