بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / خیبر پختونخوا کے رہائشی منصوبے

خیبر پختونخوا کے رہائشی منصوبے

خیبرپختونخوا حکومت اور فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن کے درمیان 10.86 ارب ڈالر کے منصوبوں کا معاہدہ ہوا ہے وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ میں ہونیوالے معاہدے کے تحت ایف ڈبلیو او پشاور ماڈل /سمارٹ سٹی ٹاؤن شپ اور کے پی چائنا انوسٹمنٹ پلان ایم ون سٹی نوشہرہ بنانے کے ساتھ چترال میں تین ہائیڈرو پروجیکٹ‘ہری پور میں سیمنٹ پلانٹ بنانے اورکرک میں سٹیٹ آف دی آرٹ آئل ریفائنری بنائے گی جبکہ ایم ون سٹی کا رقبہ80ہزار کنال پر محیط ہوگا دونوں منصوبوں پر علی الترتیب4.6 اور4.4 ارب ڈالر لاگت کا تخمینہ ہے وطن عزیز کے دوسرے حصوں کی طرح خیبر پختونخوا اور خصوصاً اس کے دارالحکومت میں رہائشی مکانات کی کمی اہم مسئلہ ہے‘ دارالحکومت کے مہیا انفراسٹرکچر پر نقل مکانی کر کے پشاور آنیوالوں اور افغان مہاجرین کے بوجھ نے صورتحال کو مشکل ترین بنا دیا ہے ایسے میں خیبر پختونخوا حکومت کے نئے منصوبے قابل اطمینان ضرور ہیں تاہم ان کا ثمر آور ہونا ان کی بروقت تکمیل سے مشروط ہے ماضی قریب میں بھی پشاور کیلئے بہت سارے رہائشی منصوبوں کے اعلانات ہوتے رہے ہیں ۔

جو آج تک عملی صورت اختیار نہیں کر پائے اس کیساتھ صوبے میں عرصے سے جاری بعض منصوبے التواء کا شکار ہیں اس سب کو مد نظر رکھتے ہوئے حکومت اگر اپنے مجوزہ نئے رہائشی منصوبوں کو بر سرزمین لا کر عوام کی ریلیف کا ذریعہ بنانا ہی چاہتی ہے تو نہ صرف ان کی فنڈنگ کا فول پروف انتظام کیا جائے بلکہ ان کی تکمیل کیلئے اس طرح کا ٹائم شیڈول دیا جائے کہ جس میں تبدیلی کی کوئی گنجائش نہ رکھی جائے ان منصوبوں کو ٹاؤن پلاننگ کے جدید تصورات کے مطابق ڈھالا جائے صوبے میں رہائش کی سہولیات عام کرنے کیلئے پبلک کیساتھ پرائیویٹ سیکٹر کو بھی سپورٹ دی جائے رئیل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کی جائے اس کاروبار پر شہریوں کا اعتماد بڑھانے کیلئے اس کو قاعدے قوانین کاپابند بنایا جائے ‘ صوبے کی حکومت نجی رہائشی بستیوں میں سہولیات کی فراہمی یقینی بنائے اس سب کیساتھ سرکاری ملازمین کیلئے دوران ملازمت اور خصوصاً ریٹائرمنٹ پر رہائش کا انتظام ضروری ہے اس کیلئے بھی خیبرپختونخو ا کو پہل کرنی چاہئے ۔

قومی بجٹ اور عوامی ریلیف

مالی سال2017-18ء کیلئے قومی بجٹ پیش کرنے کی غرض سے اسمبلی اجلاس طلب کر لیا گیا ہے بجٹ سیشن آج شروع ہو گا جبکہ میزانیہ26 مئی کو پیش ہو گا۔ بجٹ میں ڈیویلپمنٹ ورکس کیلئے ریکارڈ رقم مختص کی جا رہی ہے وطن عزیز میں سالانہ میزانیہ عموماً الفاظ کا مشکل ترین گورکھ دھندہ نظر آتا ہے جس میں عام آدمی صرف اپنے اوپر بڑھتے ٹیکسوں کے بوجھ اور حکومت کی طرف سے ریلیف کے اعلانات زیادہ توجہ سے سنتا ہے ٹیکس کا بوجھ اس شہری پرعموماًیکم جولائی سے قبل ہی پڑنا شروع ہو جاتا ہے جبکہ ریلیف کے اثرات تلاش کرنے میں بعض اوقات پورا مالی سال بیت جاتا ہے اپنی اس مدت اقتدار کے آخر ی بجٹ میں حکومت کو ترجیحات کے تعین میں احتیاط کرنا ہو گی اس میں عام شہری کو گرانی سے نجات دلانے کیساتھ روزگارکے مواقع اور بنیادی سہولیات کی فراہمی پر توجہ مرکوز کرنا ہو گی اس کیساتھ سرمایہ داروں کو ملنے والی تمام ریلیف عام شہریوں کو منتقل کرنے کا پابند بھی بنانا ہو گا۔