بریکنگ نیوز
Home / انٹرنیشنل / ایران القاعدہ کی معاونت میں ملوث ہے،امریکہ

ایران القاعدہ کی معاونت میں ملوث ہے،امریکہ

ریاض۔امریکی سیاسی رہنماؤں اور مغربی عہدیداروں نے ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ دہشتگردی کے خلاف اپنے مشکوک اور پراسرار طرزعمل کو ختم کرے اور کھل کر بتائے کہ وہ دہشت گردوں کے ساتھ ہے یا ان کے خلاف لڑنے والوں کی صف میں کھڑا ہے۔انہوں نے ایران پر زور دیا کہ وہ دہشت گرد اور انتہا پسند گروپوں کی پشت پناہی ترک کرنے کا کھل کر اعلان کرے عرب ٹی وی کے مطابق ریاض میں انسداد انتہا پسندی فورم کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے امریکی سیاسی رہنماوں اور قایدین نے ایران کی دہشتگردی کے حوالے سے مشکوک پالیسی کو کڑی تنقید کانشانہ بنایا۔

امریکی وزارت خزانہ کی سابق خاتون مشیر کیتھرین پاور نے غیر ملکی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہاکہ ایران دہشت گردتنظیم القاعدہ کا معاون اور دہشتگردوں کاسہولت کارہے۔تہران کی جانب سے ایک پالیسی کے تحت القاعدہ کے دہشتگردوں کو نہ صرف پناہ دی جاتی رہی ہے بلکہ انہیں سفری سہولتیں فراہم کی جاتی رہی ہیں۔ایک سوال کے جواب میں امریکی وزارت خزانہ کی سابق خاتون مشیر کا کہنا تھا کہ القاعدہ کے ساتھ ایران کے دوستانہ مراسم 11 ستمبر 2001 کو امریکا میں ہونے والے دہشت گردانہ واقعات سے پہلے سے چلے آ رہے ہیں۔

ایران القاعدہ کے دہشت گردوں کو رقوم کی منتقلی،سفر سہولتیں بالخصوص شمالی ایشیائی ممالک سے خلیجی ملکوں تک آمد ورفت میں ان کی مدد کرتا رہا ہے۔انہوں نے ایران کی جانب سے لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کی مالی معاونت کی شدید مذمت کی اور کہا کہ ایران خطے میں اپنے اثرو نفوذ کے قیام کے لیے القاعدہ کو مالی تعاون فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ تنظیم سے وابستہ افراد کے لیے جعلی سفری دستاویزات بنانے میں بھی ملوث رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردانہ سرگرمیوں کے لیے حزب اللہ ایران کی معاونت سے منی لانڈرنگ، منشیات کی اسمگلنگ حتی کی انسانی تجارت جیسے مکروہ دھندے میں بھی ملوث رہی ہے۔ ان تمام جرائم کا مقصد تنظیم کے لیے زیادہ سے زیادہ رقوم اور اسلحہ کاحصول ہے۔