بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / بجٹ میں عوام پر ٹیکسوں پر کا بوجھ نہیں ڈالیں گے۔یرویز خٹک

بجٹ میں عوام پر ٹیکسوں پر کا بوجھ نہیں ڈالیں گے۔یرویز خٹک

پشاور۔وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے کہا ہے کہ آنے والا بجٹ عوام دوست اورمتوازن بجٹ ہوگا جس میں تعلیم اور صحت کے بجٹ میں خاطر خواہ اضافہ دیکھنے میں آئے گا جو قوم کو بنانے کیلئے ناگزیر ہے ۔ہم پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے وژن کے مطابق صوبے کے زیادہ وسائل غریب عوام پر خرچ کریں گے تاکہ غریب کے حالت زندگی بہتر ہو ۔میرٹ اور انصاف پر مبنی معاشرہ قائم ہو۔ ہم بجٹ میں عوام پرمزید ٹیکسوں کا بوجھ نہیں ڈالیں گے۔

مرکز سے صوبے کے حقوق کے لیے کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے اور اپنے حق کی ایک ایک پائی وصول کریں گے۔ خیبرپختونخوا کے عوام کے ساتھ 65 برس تک سیاست دانوں نے جو ظلم کیا اسکی مثال نہیں ملتی غریب عوام سے ووٹ لیکر اقتدار کی کرسی تک پہنچ کرسیاست دانوں نے ہمیشہ اپنی تجویریاں بھرنے، ذاتی مفادات کے حصول، لوٹ کھسوٹ اور بد عنوانی کا اتواربازار سجا نے کے سوا کچھ نہیں کیا۔

نوجوان پی ٹی آئی کا سرمایہ ہیں۔ ہماری ساری توجہ نوجوانوں اور غریب عوام کی حالت زندگی بہتر بنانے، سرکاری سکولوں ،ہسپتالوں ،تھانہ اور پٹوار کلچر میں اصلاحات لانے اور غریب عوام کی عزت نفس بحال کرنے پر مرکوز ہے۔ماضی کے حکمرانوں نے ایسا کچھ نہیں کیا۔ اس لیے ہمارے لئے ورثے میں مسائل ہی مسائل چھوڑے ہیں۔اب اس ملک کو ایماندار قیادت کی ضرورت ہے جو عمران خان کی صورت میں موجود ہے اوریہی وجہ ہے کہ تمام سیاسی اور دینی جماعتیں عمران خان سے خوفزدہ ہوکر اتحادوں کی سیاست پر اتر آئی ہیں تحریک انصاف کے غیور کارکن2013 کی طرح2018 میں بھی ان چوروں اورلٹیروں کا صفایا کریں گے ۔

تحریک انصاف چاروں صوبوں کے ساتھ مرکز میں بھی حکومت بنائے گی۔ مولانا فضل الرحمن، اسفندیار ولی، نوا زشریف ۔آصف زرداری اور حیدر ہوتی قوم کوبتائیں کہ انہوں نے غریب عوام کے لئے کیا کیا اوران کے پاس اتنی دولت کہاں سے آئی۔ ان کو حساب دینا ہوگا۔ میں وزارت اعلیٰ سے قبل بھی کرایہ کے مکان میں رہائش پذیر تھا اور وزیراعلیٰ کا وقت پورا ہونے کے بعد بھی کرایہ کے مکان میں رہوں گا۔

پاکستان اب مزید کرپشن برداشت کرنے کے قابل نہیں۔ وہ نوشہرہ کے گاؤں خورد خٹ کلے میں مقامی عمائدین امین اللہ خان اورکچکول خا ن کے استقبالیہ اور تنگی خٹک میں غفار خان خٹک کے عشائیہ کی تقاریب سے بطور مہمان خصوصی خطاب کررہے تھے۔اس موقع پر صوبائی وزیر ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن میاں جمشید الدین کاکاخیل، ضلع ناظم لیاقت خان خٹک، تحصیل نائب ناظم زر عالم خان،جوہر خان ہوتی، واجد علی خٹک، فواد خٹک، گوہر علی شاہ کاکاخیل اور ملک فتح خان اعوان نے بھی خطاب کیا۔ تنگی خٹک میں سیاسی زعماء غفار خان خٹک، لطیف خا ن، واجد علی اور بخت آیاز نے ا ے این پی اور دیگر سیاسی پارٹیوں سے مستعفی ہوکر پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت کا اعلان بھی کیا۔

پرویز خٹک نے کہا کہ وہ عوام کے ووٹ کی طاقت سے وزیر اعلیٰ بنے ہیں اور انہیں نوشہرہ کے عوام پر فخر ہے کہ انہوں نے ہمیشہ اُن پر اور اُنکے خاندان پر اعتماد کیا۔ انہوں نے کہا کہ نیا صوبائی بجٹ 2017-18 عوام دوست بجٹ ہوگا۔ پہلے بھی صوبے کے وسائل شفاف اور یکساں تقسیم کئے ہیں اور آنے والے بجٹ میں بھی تمام وسائل کی تقسیم صوبے میں منصفانہ طریقے سے کریں گے اور ترقی کے ثمرات صوبے کے کونے کونے تک پہنچائیں گے۔ہم پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے وژن کے مطابق صوبے کے وسائل غریب عوام کی ترقی پر خرچ کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی صوبائی حکومت میرٹ اور انصاف کے ایک نکاتی ایجنڈے پر من و عن عمل کررہی ہے۔۔ تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کی بہتر پالیسیوں سے متاثرہوکر نہ صرف چین اور ملائشیا بلکہ کئی دیگر ممالک صوبے میں صنعت وتجارت سمیت کئی شعبوں میں سرمایہ کاری کے خواہشمند ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہماری بہتر پالیسیوں کی بدولت صوبے میں صنعتی اور زرعی انقلا ب برپا ہوگا اور عوام کو روزگار کے مواقعے ملیں گے۔

تحریک انصاف کے چیرمین عمران خان نوجوانون کواپنے پاؤں پر کھڑا کرناچاہتے ہیں۔انہوں نے ماضی کی حکومتوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سابقہ حکمرانوں نے کرپشن، قومی خزانے کو لوٹنے اور اپنی تجوریاں بھرنے کے سوا کچھ نہیں کیا۔یہی وجہ ہے کہ65 برس گزرنے کے باوجود عوام کے مسائل جوں کے تو ں ہیں۔انہوں نے کہا کہ سی پیک خیبرپختونخوا کی ترقی اور خوشحالی میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔

چین کے ساتھ ہونے معاہدوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے چینی سرمایہ کار خیبرپختونخوا آنا شروع ہوگئے ہیں جس سے صوبے میں 30 بلین ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری ہوگی۔ پرویز خٹک نے کہا کہ ملک اور خیبرپختونخوا میں توانائی بحران کے خاتمے کی طرف ماضی کی وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے کوئی توجہ نہیں دی حالانکہ خیبرپختونخوا کے دریاؤں میں دستیاب وافرپانی سے سستی بجلی پیدا کی جاسکتی ہے اور بیس ہزار میگا واٹ سے زائد سستی بجلی خیبرپختونخوا میں پیدا کرنے کی گنجائش ہے۔ معلوم نہیں کہ وزیر اعظم نواز شریف کیوں پانی سے سستی بجلی پیدا کرنے میں دلچسپی نہیں لے رہے ۔انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت نے چین کے ساتھ پانی سے سستی بجلی پیدا کرنے کے لیے انیس سو میگا واٹ بجلی کی تیاری کا معاہد ہ کیا ہے جبکہ صوبائی حکومت مزید سستی بجلی پیدا کرنے کے کئی منصوبوں پر ازخود بھی کام کررہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ماضی کی حکومتوں نے عوام کے سروں کا سوداکیا ۔ عوام سے ووٹ لیکر عوام کا پوچھا تک نہیں ۔ اے این پی نے سابقہ دور میں حکومت نہیں بلکہ اتوار بازار قائم کیا ہوا تھا۔ ٹھیکوں پر کمیشن لیا جاتا اورتقرریوں اور تبادلوں کی قیمتیں وصول کی جاتی تھیں۔ غریب عوام در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور تھے۔ انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن سے پوچھا جائے کہ اس نے اپنے دور حکومت میں اسلا م کی کتنی خدمت کی ہے۔

یہ خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت ہے جس نے تعلیمی اداروں میں ناظر ہ قرآن کے ساتھ ساتھ باترجمہ قرآن کی تعلیم لازمی قرار دی۔ مولانا فضل الرحمن کو اقتدار کے سوا کچھ نظر نہیں آتا۔ آصف زرداری کا دورہ خیبرپختونخوا بالکل ناکام رہا۔ خیبرپختونخوا کے دورے سے ان کو اپنی حیثیت کااندازہ لگ چکا ہے۔ عوام باشعور ہیں اور وہ تبدیلی چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ جس کے پاس ماضی میں گدھا گاڑی بھی نہیں تھی وہ آج لینڈ کروز میں گھوم رہے ہیں۔ جو کرایہ کے گھروں میں تھے وہ آج کوٹھیوں اور جائیداوں کے مالک ہیں یہ دولت ان کے پاس کہا ں سے آئی۔ ان کو اس کا حساب کتاب دینا ہوگا۔

وزیراعلیٰ نے کہاکہ بجٹ میں سرکاری ملازمین کو ریلیف دیا جائے گا۔ اب تک 45 ہزار اساتذہ این ٹی ایس کے ذریعے میرٹ پر بھرتی کئے گئے ہیں۔جبکہ سکولوں میں فرنیچر کی فراہمی، اضافی کمروں اور چاردیواری کی تعمیر پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے۔ اب اساتذہ سکولوں اور ڈاکٹر ہسپتالوں میں باقاعدہ حاضری دے رہے ہیں۔ نئے تعلیمی نصاب سے غریب کا بچہ بھی امیر کے بچوں کے مقابلے کے قابل بن جائے گا۔پرویز خٹک نے کہا کہ ہمارا صوبہ طرز حکمرانی میں دیگر تمام صوبوں سے بہترہے اور یہی وجہ ہے کہ دوسرے صوبے خیبرپختونخوا کی تقلید کررہے ہیں۔ یہاں کسی چیز کی کمی نہیں اگر کمی ہے تو صرف ایماندار قیادت کی ہے اور وہ صرف عمران خان ہی ہیں سیاسی لوگ مجرم ہیں جنہوں نے اداروں پر سیاست کی۔

واحد تحریک انصاف ہے جس کو غریب عوام کا غم اورملک کی فکر ہے۔تحریک انصاف نے خیبرپختونخوا میں چار سال کے مختصر عرصہ میں بگڑے ہوئے نظام کو درست کیا اور اداروں کو بحال کیا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ تحریک انصاف میں لوگوں کی جوق درجوق شمولیت اس امر کی عکاسی کرتا ہے کہ عوام اب بھی تحریک انصاف کو چاہتے ہیں۔ہمارے تمام تر اصلاحاتی اقدامات اور ترقیاتی سرگرمیوں کا مرکز و محور غریب عوام ہیں۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جب انہوں نے صوبے میں حکومت سنبھالی تو صوبے کا نظام تباہ حال تھا۔ہم نے ایمرجنسی بنیادوں پر اصلاحات کا عمل شروع کیا، بہترین بلدیاتی نظام دیا، قانون سازی کی اور صوبے کے طول و عرض میں ترقیاتی کام شروع کئے جو انشاء اللہ 2018تک مکمل کر لیں گے۔

صو بے میں بے روزگاری کے خاتمے کے لئے صنعتی بستیاں بنائی جارہی ہیں۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ کارخانوں کے بغیر روزگار کا مسئلہ حل نہیں ہو سکتا کیونکہ سب کو سرکاری نوکری نہیں مل سکتی۔ انہوں نے 2010 کی سیلاب کی تباہ کاریوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت کا ایک تاریخی کارنامہ یہ ہے کہ وادی پشاور اور پورے نوشہرہ کو سیلاب کی تباہی سے محفوظ بنانے کے لئے اربوں روپے کی لاگت سے دریائے کابل کے دونوں کناروں پر حفاظتی پشتوں کی تعمیر کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے ۔

انہوں نے عوام پر زور دیا کہ وہ مفاد پرست اور عوام کے سروں کاسود اکرنے والوں کے دھوکے میں نہ آئیں اور جس طرح2013 کے انتخابات میں عوام نے پی ٹی آئی کو صوبے میں بھاری مینڈیٹ دیا۔ اسی طرح2018 کے انتخابات میں بھی عوامی طاقت سے نہ صرف خیبرپختونخوا بلکہ چاروں صوبوں اور مرکز میں پی ٹی آئی کی حکومت ہوگی اور عمران خان ہی اس ملک کے وزیر اعظم ہوں گے۔ عوام ہمارا ساتھ دیں ۔ انشاء اللہ فتح ہماری ہوگی۔