بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / بلدیاتی کونسلوں کیلئے سرکاری دفاتر ندارد

بلدیاتی کونسلوں کیلئے سرکاری دفاتر ندارد

پشاور۔ صوبائی حکومت صوبہ میں نیا بلدیاتی نظام متعارف کرانے اور دو سال گزرنے کے باوجود بلدیاتی کونسلوں کیلئے دفاتر کا بندوبست نہ کرسکی ہے جسکی وجہ سے ہرسال کروڑوں روپے کے فنڈز ناظمین کے دفاترکے کرایوں کی مد میں خرچ ہونے لگے ہیں اس وقت صوبہ بھر میں3339یونین کونسلوں میں صرف230ویلج و یونین کونسل سرکاری عمارات جبکہ باقی3109کرایے کی عمارتوں میں قائم ہیں۔ اس بات کا اعتراف محکمہ بلدیات کی جانب سے صوبائی اسمبلی میں پیش کردہ تحریری دستاویز میں کیا گیا ہے جس کی رو سے ایبٹ آباد میں209ویلج کونسلوں میں12سرکاری197کرایہ کے عمارتوں میں قائم ہیں ۔

اسی طرح بنوں میں110میں14سرکاری،96کرایہ کے عمارت، بٹگرام میں90میں6سرکاری84کرایہ، بونیر میں105میں صرف 2دفاتر سرکاری جبکہ103کرایہ کے بلڈنگ میں بنائے گئے ہیں، سرکاری دستاویز کے مطابق چارسدہ میں146میں15سرکاری131کرایہ، چترال میں100میں5سرکاری95کرایہ، ڈیرہ میں174میں9سرکاری165کرایہ، لوئر دیر198میں5سرکاری اور193کرایہ، اپر دیر کے122میں صر ف2سرکاری اور120کرایہ، ہنگو کے62یونین و ویلج کونسل دفاتر میں10سرکاری اور52کرایہ کی عمارتوں میں قائم ہیں،ہری پور کے180میں24سرکاری اور156کرایہ، کرک کے61میں7سرکاری اور53کرایہ، کوہاٹ کے91میں10سرکاری ۔اور81کرایہ، لکی مروت کے96میں4سرکاری اور92کرایہ۔

ملاکنڈ کے82میں7سرکاری اور75کرایہ، مانسہرہ کے194میں32سرکاری اور162کرایہ، مردان کے231میں16سرکاریاور215کرایہ،نوشہرہ کے153میں11سرکاری اور142کرایہ جبکہ پشاور کے346ویلج و یونین کونسل دفاتر میں11سرکاری اور335دفاتر کرایے کی عمارتوں میں قائم ہیں۔

سرکاری دستاویز کے مطابق شانگلہ کے105میں1سرکاری اور104کرایہ، صوابی کے160میں20سرکاری اور140 کرایہ، سوات کے214میں2سرکاری اور صرف212کرایہ، ٹانک کے70میں5سرکاری اور65کرایہ جبکہ تورغر کے40ویلج اور یونین کونسل دفاتر میں سے کوئی دفتر سرکاری عمارت میں نہیں بلکہ تمام دفاتر کرایہ کی عمارتوں میں قائم ہیں۔