بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / شریعت کورٹ خاتمہ کی سازشیں کامیاب نہیں ہونگی

شریعت کورٹ خاتمہ کی سازشیں کامیاب نہیں ہونگی


اسلام آباد۔مختلف مسالک اورمذہبی جماعتوں کے قائدین نے کہاہے کہ شریعت کورٹ کوکمزوریاختم کرنے کی کسی بھی سازش کوکامیاب نہیں ہونے دیں گے قاضی صاحبان سپیڈی ٹرائل کرکے مقدمات کاجلدازجلدفیصلے کررہے ہیں جبکہ اس کے مقابلے میں دیگرعدالتوں میں دیوانی اورفیملی مقدمات برسوں سے التواء کاشکارہیں ہم اس نظام کی پشت پر آہنی دیوار کی طرح کھڑے ہیں..شریعت کورٹ کو آئینی حیثیت دی جائے اور قاضی صاحبان کو اپ گڑیڈیشن دی جائے.ان خیالات کااظہاررہنماؤں نے ا پنے ایک مشترکہ بیان میں کیاہے جمعیت علما ء اسلام جموں وکشمیرکے رہنماء مولانانذیرفاروقی ،مولاناعبدالحی ،سیکرٹری جنرل جمعیت علماء مولاناامتیازصدیقی ،دربارعالیہ نیریاں شریف کے سجادہ نشین حضرت پیرسلطان العارفین صدیقی ،مرکزی جمعیت اہل حدیث آزادکشمیرکے رہنماء مولاناعتیق الرحمن شاہ ،جماعت اسلامی کے رہنماء مولاناقاضی شاہدحمیدودیگرنے کہاہے کہ آذاد کشمیرکی ضلعی عدلیہ میں تعینات قاضی صاحبان کی وجہ سے فوجداری اور حدود لاز سے متعلق مقدمات کے جلد فیصلے ہونا خوش آئندہے۔

عدالتوں میں جہاں دیوانی اور فیملی مقدمات برسوں پرانے کیسزالتواء کاشکارہیں وہاں اسی نظام میں کام کرنے والے علمائے کرام بطور قاضی پروسیجرل یعنی ضابطوں کی طوالت کے باوجود سپیڈی ٹرائل کرکے مقدمات کے فیصلے کرتے ہیں لیکن حکومت اور عدلیہ میں بیٹھے کچھ عناصر بغیر دلیل کے یہ پروپیگنڈہ کررہے ہیں کے اس نظام سے وہ فوائد نہیں مل رہے ہیں جو ملنے چاہیے تھے.ہم ان سے پوچھتے ہیں کہ کیا قاضی صاحبان ضابطہ فوجداری اور قانون شہادت کو فراموش کر کے فیصلے کر سکتے ہیں؟..کیا ریاستی قوانین کو قرآن وسنت کے مطابق ڈھالنے کا اختیار ان کو دیا ہواہے؟.اگر نہیں دیا تو پھر یہ صرف اسلامی قوانین،علماء اوردین دشمنی کے علاوہ آپ کے پروپیگنڈے کو کس چیز سے تعبیر کیا جائے ؟ھم اس رویے اور سوچ کی بھر پور مذمت کرتے ہیں.ہم اس نظام کی پشت پر آہنی دیوار کی طرح کھڑے ہیں..شریعت کورٹ کو آئینی حیثیت دی جائے اور قاضی صاحبان کو اپ گڑیڈیشن دی جائے.ہم پہلے دن سے یہ مطالبہ کرتی آرہی ہیں کہ حکومت شریعت کورٹ کواپاہج نہ کرے اورایسے اقدامات سے گریزکرے کہ ایوان انصاف میں انصاف کاقتل عام ہو ایک ہی عدالت میں بیٹھے قاضی صاحبان کے عرسے سے زیرالتواء معاملات حل کرنے کی بجائے دیگرافرادکونوازجارہاہے۔

شریعت کورٹ کے بجٹ سے قاضی صاحبان کوپہلے پوراکرنا انصاف کاتقاضاہے جبکہ معاملہ اس کے برعکس کیاجارہاہے۔کچھ لوگ شریعت کورٹ اورقاضی صاحبان کے خلاف غلط رپورٹیں دے رہے ہیں جن کاحقائق سے کوئی تعلق نہیں ہے وزیراعظم راجہ فاروق حیدرایسے شرپسندعناصرکی آوازوں پرکان دھرنے کی بجائے میرٹ اورقانون کے مطابق فیصلے کریں دینی جماعتیں ان کاساتھ دیں گی ہمارامطالبہ ہے کہ حکومت شریعت کورٹ کواپاہج نہ کرے اورایسے اقدامات سے گریزکرے،انہوں نے کہاکہ حکومت آئندہ بجٹ سے قبل اپنے وعدے کے مطابق قاضی صاحبان کواپ گریڈکرے اورشریعت کورٹ کی قانونی حیثیت قائم کرے ۔