بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / قومی سلامتی کی خبر لیک کرنیکا ذمہ دار ’’ موٹو گینگ ‘‘ ، مقصد فوج کو بدنام کرنا تھا ، خورشید شاہ

قومی سلامتی کی خبر لیک کرنیکا ذمہ دار ’’ موٹو گینگ ‘‘ ، مقصد فوج کو بدنام کرنا تھا ، خورشید شاہ


اسلام آباد۔اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے کہا ہے کہ قومی سلامتی بارے خبر لیک کرنے کی ذمہ دار حکومت ہے نواز شریف نے ڈگڈگی بجانے کا اشارہ غیر سیاسی عناصر کی طرف ہے ، حکومت سینئر ترین جرنل کو چیف آف آرمی سٹاف بنانے کا نوٹیفکیشن فوری جاری کرے ، حکومت اور فوج کے مابین حالات انتہائی کشیدہ ہیں جس کی ذمہ دار وزیراعظم کے نااہل اور نالائق مشیر ہیں پارلیمنٹ ہاؤس میں اپنے چیمبر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما سید خورشید شاہ نے کہا کہ قومی سلامتی بارے اعلیٰ سطحی اجلاس وزیراعظم ہاؤس میں ہوا تھا اس اہم قومی سلامتی اجلاس کی خبر لیک کرنے کا مقصد پاکستان کے ازلی دشمن ملک کو خوش کرنا تھا۔

اور دہشتگردی کا سارا ملبہ فوج پر ڈالنے کے مترادف ہے خبر لیک کرنے کا معاملہ انتہائی سنجیدہ ہے جس کے بعد حکومت اور فوج کے تعلقات انتہائی کشیدہ ہیں انہوں نے کہا کہ خبر لیک کرنے کی ذمہ دار وزیراعظم ہاؤس کے اندر میڈیا سیل کے موٹو گینگ کو قرار دیا جاسکتا ہے سید خورشید شاہ نے کہا کہ خبر کی اشاعت کے بعد باقاعدہ اداریے تحریر کئے گئے جس میں فوج کے آرمی چیف جنرل راحیل شریف کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھاایک سوال کے جواب میں سید خورشید شاہ نے کہا کہ موجودہ جمہوری سسٹم کو ڈی ریل کرنے کی کوششیں جاری ہیں حالات انتہائی خراب ہیں لیکن ہماری جماعت جمہوریت کو مضبوط کرنے کے حق میں ہے سید خورشید شاہ نے کہا کہ وزیراعظم نواز شریف نے ڈگڈگی بجانے کا اشارہ عمران خان کی طرف نہیں کیا ہے بلکہ غیر سیاسی عناصر کی طرف کیا ہے تحریک انصاف کا جلسہ جلوس اور دھرنا دینا سیاسی حق ہے ۔

لیکن اسلام آباد کو بند کرنا مجرمانہ فعل قرار دیا جائے گا کیونکہ شہر کی بندش سے عام آدمی متاثر ہوتا ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں خورشید شاہ نے کہا کہ نواز شریف کو نہ حکومت کرنا آتی ہے اورنہ سیاست کرنا کا ہنر ہے اس لئے وزیراعظم کومسائل کا علم ہی نہیں ہے نواز شریف کو مشورہ دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ وہ فوری طور پر آصف علی زرداری سے مشاورت کریں اور ان سے حکومت اور سیاست کرنا سیکھیں ایک سوال کے جواب میں خورشید شاہ نے کہا کہ حکومت کے رفقاء خود میڈیا پر اقرار کرتے ہیں کہ وہ اعلیٰ سطحی اجلاس کی مانیٹرنگ کرتے ہیں تاہم قومی سلامتی بارے خبر لیک کرنے سے ملک کی قومی سلامتی کی پالیسی ، قومی سلامتی کے اداروں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے اور یہ خبر لیک کرنا پاکستان کو سیل کرنے کے مترادف ہے حکومت نے خبر لیک کرنے والوں کیخلاف کوئی تادیبی کارروائی کی ہے نہ کرنے کا کوئی ارادہ ظاہر کیا گی اہے ۔ سید خورشید شاہ نے کہا کہ وزیراعظم نواز شریف فیڈریشن کے لئے خطرہ ہیں وہ پنجاب کو پاکستان بنانا چاہتے ہیں۔

پنجاب کے چند شہروں میں اورنج ٹرین ،میٹرو بس منصوبے شروع کرنے سے فیڈریشن کی جڑیں کھوکھلی کردیں ہیں وزیراعظم کو ملک کے اندر ہسپتال اور سکول تعمیر کرنے چاہیے اور خود بھی علاج پاکستان کے ہسپتالوں سے کرانا چاہیے وزیراعظم کو آلو کے بھاؤ کا بھی علم نہیں کیونکہ انہیں اخبارات اور کتابیں پڑھنے کا شوق ہی نہیں ہے مشیر انہیں غلط معلومات دیتے ہیں ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ نواز شریف اپنی غلط پالیسیوں کے باعث فیڈریشن کو کمزور کررہے ہیں اب پاکستانی نہیں بلکہ سندھی ، بلوچی ، پنجابی اور پٹھان شناخت ہے اس کی وجہ سے نواز شریف ہیں جنہوں نے جاگ پنجابی جاگ کا نعرہ لگایا تاہم پاکستان پیپلز پارٹی قومی اتحاد کی علامت سیاسی جماعت ہے سید خورشید شاہ نے کہا کہ نواز شریف عسکری قیادت کے ساتھ مل کر اور اعتماد میں لیکر قومی مسائل حل کریں بالخصوص خارجہ پالیسی بنائیں لیکن افسوس یہ ہے کہ ملک کا وزیر خارجہ بھی نہیں ہے سید خورشید شاہ نے کہا کہ اسلام آباد کو بند کرنے والوں کی جمہوریت کیلئے کوئی کردار نہیں ہے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حکومت کو گھر بھیجنے کیخلاف ہیں تاہم حکمرانوں کو حکومت کرنے کا طریقہ بھی آنا چاہیے ۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف نے ناقص حکمرانی کی مثال قائم کردی ہے ملک میں نہ گیس ہے نہ بجلی نواز شریف کے اقتدار سنبھالتے ہی 480ارب روپے کمپنیوں کودے دیئے گئے لیکن آج بھی لوڈ شیڈنگ 9 گھنٹے ہے کیونکہ یہ حکومت ملک کی تاریخ کی انتہائی کمزور ترین حکومت ہے انہوں نے کہا کہ پانامہ لیکس کی تحقیقات نہ ہوئیں تو دسمبر میں پیپلز پارٹی بھی سڑکوں پر ہوگی حکومت اپوزیشن کے پانامہ بل کی حمایت کرے نواز شریف کرپشن میں پھنسے ہوئے ہیں انہیں چاہیے کہ وہ خود کو پاک کریں پیپلزپارٹی کیلئے نواز شریف اور عمران خان ایک جیسے ہیں دونوں شخصیات انتہائی غیر سنجیدہ ہیں اور جمہوریت کیلئے خطرہ ہیں ملک میں سیاستدانوں کو آصف زرداری کی سیاسی بصیرت سے سیکھنا چاہیے