بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / چیمبر آف کنسٹرکشن انڈسٹری کے قیام کا فیصلہ

چیمبر آف کنسٹرکشن انڈسٹری کے قیام کا فیصلہ

پشاور۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کی طرز پر چیمبر آف کنسٹرکشن انڈسٹری خیبرپختونخوا کے قیام کی تجویز سے اتفاق کیا ہے ۔ کنٹریکٹر ز نہ صرف معاہدوں پرمذاکرات کیلئے کنسورشیم تشکیل دیں گے بلکہ کنسٹرکشن انڈسٹری کے شعبے میں غیر ملکی سرمایہ کار کمپنیوں کے ساتھ مشترکہ منصوبوں کے اجراء کے بھی قابل ہو جائیں گے ۔ وزیراعلیٰ نے یقین دلایا کہ صوبائی حکومت حقیقی ٹھیکیداروں اور انکی معیاری کمپنی سے تعاون کرے گی مگرعندیہ دیا کہ حکومت عوامی مفاد میں تعمیر کئے جانے والے منصوبوں کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔

وہ وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں کنٹریکٹر ز ایسوسی ایشن خیبرپختونخوا کے نمائندہ وفد سے گفتگو کررہے تھے ۔ وزیراعلیٰ کے مشیر برائے مواصلات و تعمیرات اکبر ایوب اور دیگر متعلقہ حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔ وزیراعلیٰ نے صوبے میں کنسٹرکشن انڈسٹری کے بہتر مستقبل اور معیار کو بلند کرنے کیلئے چیمبر کے قیام کی تجویز سے اتفاق کیا اور اس سلسلے میں سمری لانے کی ہدایت کی ۔انہوں نے ایسوسی ایشن کی طرف سے غیر ملکی سرمایہ کاروں کے ساتھ مشترکہ منصوبوں کیلئے نجی کنسٹرکشن انڈسٹری کو آن بورڈ لینے کی تجویز سے اتفاق کیا اور اس پر عمل درآمد کیلئے طریقہ کار وضع کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ یہ ایک اچھی تجویز اور بہت ضروری ہے۔

صوبائی حکومت خود بھی نجی سرمایہ کاروں ، تاجروں اور کنسٹرکشن کمپنیوں کو آگے لانا چاہتی ہے ۔ صوبائی حکومت کے بیجنگ میں انوسٹمنٹ روڈ شو میں بھی نجی سرمایہ کاروں اور تاجروں کو شرکت کا موقع دیا گیا جنہوں نے وہاں اربوں ڈالرز کے معاہدے کئے۔وزیراعلیٰ نے مقامی کنسٹرکشن انڈسٹری پر زور دیا کہ وہ اپنا معیار بہتر بنائیں ۔ مقامی ٹھیکیداروں کا معیار نہ ہونے کی وجہ سے ٹینڈر منسوخ کرنے پڑتے ہیں جس کی وجہ سے وقت اور وسائل کا ضیاع ہوتا ہے وہ بذات خود چاہتے ہیں کہ مقامی ٹھیکیدار آگے آئیں مگر مطلوبہ معیار نہ ملنے کی وجہ سے کسی دوسرے تسلی بخش ادارے کا انتخاب ناگزیر ہوتا ہے۔

اگر کوئی مقامی یا نجی ٹھیکیدار معیار پر پورا اُترے تو کوئی اعتراض نہیں ہے۔ وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ وہ صوبے کا سوچتے ہیں ۔ انکی نیت صاف ہے یہی وجہ ہے کہ قوانین سازی کے اکثر عمل میں کیسز عدالت میں گئے مگر ہم جیت گئے کیونکہ ہمارا مقصد نیک اور نیت صاف تھی۔ وہ صوبے کی خاطر کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں ۔ صوبائی حکومت نے مختلف محکموں میں آزاد بورڈ ز اور بااختیار اتھارٹیاں بنائی ہیں جن کے سربراہان نجی شعبہ سے لگائے گئے ہیں۔

وزیراعلیٰ نے کیپرا کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں کنٹریکٹرز ایسوسی ایشن کو نمائندگی دینے کی تجویز سے بھی اتفاق کیا اور اس سلسلے میں سمری جلد پہنچانے کی ہدایت کی ۔ ٹینڈر سے پہلے فنڈز کی دستیابی اور جاری سکیموں کیلئے وسائل کی فراہمی کے حوالے سے وزیراعلیٰ نے کہا کہ آئندہ سالانہ ترقیاتی پروگرام میں جاری سکیموں کو ترجیح دی جارہی ہے اور 80 سے 90 فیصد وسائل جاری سکیموں کو دے رہے ہیں کیونکہ حکومت خود بھی صوبے میں جاری سکیموں کو بروقت مکمل کرنا چاہتی ہے ۔ وزیراعلیٰ نے اس موقع پر محکمہ مواصلات و تعمیرات کو ہدایت کی کہ وہ اپنی مانیٹرنگ ٹیم تشکیل دے جو کنسلٹنٹس کی کوالیفکیشن چیک کرے اور باقاعدگی سے مانیٹر کرے۔

کنسلٹنٹس کا معیار یہ ہونا چاہیئے کہ گاڑیاں، دفاتر اور دیگر سہولیات خود اس کے پاس موجود ہوں تاکہ وہ ٹھیکیدار سے نہ مانگے ۔ یہ ساری سہولتیں جس کنسلٹنٹ کے پاس موجود ہوں وہی کوالیفائی کرے گا۔ ہر محکمہ یہ ضروریات کنسلٹنٹس کی کوالیفکیشن میں ڈال دے۔ وزیراعلیٰ نے دس فیصد پرفارمنس بانڈ بینک گارنٹی کی بجائے ریٹنگ انشورنس کمپنی میں رکھنے کے مطالبے پر ہدایت کی کہ اس کے لئے قانونی طریق کار دیکھیں اور فول پروف سسٹم دیں بصورت دیگر کسی کی جانبداری پر یقین نہیں رکھتے کیونکہ وہ صوبے کے ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے ٹھیکیداروں کو Retentation money پر منافع کی ادائیگی کی تجویز سے بھی اتفاق کیا اور کہاکہ وہ حکومتی اُمور اور تمام تر ترقیاتی اقدامات میں صوبے کے مستقبل کا سوچتے ہیں۔

انہوں نے اس سلسلے میں ایف ڈبلیو او کے ساتھ مختلف منصوبوں پر معاہدوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت دس فیصد مفت منافع لے گی کیونکہ یہ ہماری ضرورت ہے ہم نے صوبے کو آگے لیکر جانا ہے ۔