بریکنگ نیوز
Home / کالم / تضحیک سے گریز

تضحیک سے گریز

کوئی بھی ہتھیار ہو اس کے استعمال سے اس کی افادیت کا پتہ چلتا ہے۔ چھری ایک ایسا ہتھیار ہے کہ جس کا استعمال اچھا ہونا یا برا ہونا اس شخص کے پاس ہے کہ جس کے ہاتھ میں وہ ہے۔اس کے ساتھ وہ کوئی سبزی بھی کاٹ سکتا ہے اور سالن بنانے کے لئے گوشت بھی کاٹ سکتا ہے اور اسی چھری سے وہ کسی کا گلہ بھی کاٹ سکتا ہے اگر کسی کا گلا کاٹتا ہے تو اس میں چھری کا کوئی قصور نہیں ہے انسان نے سائنسی ترقی سے جو فوائد حاصل کئے ہیں اسکی وجہ سے دنیا ایک گلوبل ویلج بن چکی ہے۔ کہاں وہ وقت کہ ایک شخص کو گاڑی نو میل فی گھنٹہ چلانے پر چالان کیا گیا کہ اس نے قانون کی خلاف ورزی کی ہے اسلئے کہ گاڑی کی زیادہ سے زیادہ رفتا ر تین میل فی گھنٹہ مقرر تھی پھر قانون بنایا گیا کہ گاڑی کی رفتار پندرہ میل فی گھنٹہ تک ہو سکتی ہے یعنی حد رفتار پندرہ میل فی گھنٹہ مقرر کی گئی پھر یہ رفتار زیادہ سے زیادہ ساٹھ میل فی گھنٹہ مقرر کی گئی ہماری چوتھی جماعت کے حساب کا ایک سوال کچھ یوں تھا کہ ایک ریل گاڑی اگر ساٹھ میل فی گھنٹہ کی رفتار سے چاند کی طرف سفر کرتی ہے تو وہ کتنی مدت میں چاند پر پہنچ جائیگی یعنی ہماری چھوتھی جماعت کے دور تک کسی بھی گاڑی کی حد رفتا ر ساٹھ میل فی گھنٹہ تھی اسی طرح ذرائع ابلاغ میں صرف اخبار کا راج تھا اور اس میں بھی خبروں کا حال یہ تھا کہ جب تک کوئی خبر اخبار تک پہنچتی اور وہ اسے چھاپ کر عوام تک پہنچاتا تو خبر باسی سے بھی بد تر ہو جاتی وجہ محض یہ تھی کہ اخبار تک خبر پہنچانے کے ذرائع بہت ہی محدود تھے ہمارے بچپن میں جو چیزیں ہمیں حیران کیا کرتی تھیں آج کے بچوں کے وہ کھلونے ہیں ۔

خبروں کے تیزی سے اخبارات اورٹی وی پر آنے کا ایک نقصان یہ ہوا کہ لوگوں نے اس میں مقابلہ شروع کر دیا اور بہت سے ایسے واقعات جن کے پوشیدہ رہنے میں عوام کی بہتری ہے وہ بھی عام ہونا شروع ہو گئے۔یہاں تک کہ حکومتوں کی بھی پگڑیاں اچھالی جانے لگیں اس کا بہت کچھ نقصان ہو ا بھی اور نقصان کا اندیشہ بھی ظاہر کیا گیا ۔ چنانچہ اخباروں او ر دیگر ذرائع ابلاغ پر حکومتوں کی طرف سے کچھ قدغنیں لگنی شروع ہو گئیں اس کیلئے باقاعدہ ملکی آئین میں ایسی شقیں رکھی گئیں کہ کوئی کہاں تک اپنی آزادی کا حق استعمال کر سکتا ہے۔ آزادی رائے کا اور آزادی اظہار کا باقاعدہ غوغا اٹھایا گیا اور حکومتوں نے اس آزادی پر ایک حد مقرر کر دی۔ یہ دراصل ایک ایسے واقعے سے بات چلی کہ جب امریکہ نے انگلینڈ سے آزادی حاصل کی تو ایک شخص اپنی لاٹھی گھماتے ہوئے سڑک پر جارہا تھا کہ اس کی لاٹھی دوسری طرف سے آنے والے شخص کی ناک زخمی ہو گئی جس شخص کی ناک زخمی ہوئی اس نے عدالت میں مقدمہ دائر کیا تو لاٹھی والے شخص نے جج کو کہا کہ میں آزاد ہوں اسلئے جیسے چاہوں لاٹھی گھما سکتا ہوں۔تو جج نے فیصلے میں لکھا کہ ’’تمہاری آزادی وہاں ختم ہو جاتی ہے جہاں سے میری ناک شروع ہوتی ہے‘‘ اور یہ فقر ہ امریکہ کے آئین میں موجود ہے۔

اب ذرئع ابلاغ میں لیپ ٹاپ اور موبائل کا اضافہ ہو چکا ہے اور اس کیلئے ایک نئی اصطلاح ’’ سوشل میڈیا ‘‘ایجاد ہو گئی ہے۔ اور اس میڈیا کو نہایت آزادی سے استعمال کیا جارہا ہے او راس پر لوگوں کی پگڑیاں اچھالی جا رہی ہیں ہماری رائے میں آپ کی آزادی وہاں ختم ہو جانی چاہئے جہاں میری ناک شروع ہوتی ہے۔ ہمارے آئین میں بھی یہ درج ہے کہ ہم اپنی اظہار رائے کی آزادی کہاں تک استعمال کر سکتے ہیں۔ حکومت کے کچھ ادارے ایسے ہیں کہ جن پر تنقید نہیں کی جا سکتی ہمارے آئین کے مطابق ہم مذہب کے خلاف بات نہیں کر سکتے۔ہم اپنے حفاظتی اداروں کیخلاف بات نہیں کر سکتے اور اگر کوئی پاکستان میں رہ کر آئین کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اس کو اس کی سزا کے لئے بھی تیار رہنا چاہئے۔سوشل میڈیا کے استعمال کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ہم اپنے اداروں یا مذہب کی تضحیک کرتے پھریں۔