بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / اقتصادی جائزہ رپورٹ

اقتصادی جائزہ رپورٹ


مالی سال 2016-17 کیلئے پیش ہونے والی اقتصادی جائزہ رپورٹ امید افزاء اعداد وشمار اور بعض تلخ حقائق کیساتھ حکومتی اقدامات اقتصادی اعشاریوں اور ارضی صورتحال کے درمیان گیپ کی نشاندہی کرتی ہے تادم تحریر مہیا تفصیلات کے مطابق ملکی معیشت 300 ارب ڈالر سے تجاوز کرچکی ہے اور معاشی ترقی کی شرح پانچ فیصد سے بڑھی ہے اسکے ساتھ ہی اگلے مالی سال کے لئے ترقی کا ہدف 6فیصد مقرر کیاگیا ہے درآمدات میں اضافہ اور برآمدات میں کمی ریکارڈ ہوئی ‘مہنگائی4.8 فیصد بڑھی افراط زر میں بھی اضافہ ہوا ملکی قرضے بھی بڑھے فی کس آمدنی بڑھی تو بجلی اور گیس کی پیداوار وترسیل میں بھی اضافہ ہوا معیشت کے استحکام کے لئے حکومتی اقدامات ریکارڈ کا حصہ ہیں تاہم عام آدمی اب بھی ریلیف کا منتظر ہے وزارت خزانہ مہنگائی کی شرح4.8 ہونے پر مطمئن دکھائی دیتی ہے اس کے ساتھ یہ بھی نوٹ کیا جارہا ہے کہ فوڈ آئٹم 3.86 فی صد مہنگے ہوئے دوسری جانب مارکیٹ میں ضروریات زندگی کی اشیاء کے نرخ کتنے بڑھے ہیں ۔

اس کا اندازہ لگانے کیلئے تکنیکی بنیادوں پر سروے کی ضرورت ہے اس میں واضح ہوجائے گا کہ مارکیٹ کیوں حکومتی اعداد وشمار کے مطابق نہیں توانائی کے شعبے میں بجلی اور گیس کی پیداوار میں3.4فیصد اضافے کے ساتھ ترسیل بڑھ گئی ہے تاہم لوگ بجلی کی لوڈشیڈنگ اووربلنگ اور ترسیل کے نظام میں آئے روز کی خرابیوں کے ہاتھوں نالاں ہیں سوئی گیس کنکشن سے متعلق کابینہ کے فیصلے کے باوجود لوگ ابھی تک سروس حاصل کرنے کیلئے سرگرداں ہیں غربت کے خاتمے کے حوالے سے بھی اعشاریے حوصلہ افزاء سہی لیکن نوجوان روزگار کے متلاشی نظر آتے ہیں بنیادی سہولیات کا فقدان اپنی جگہ ہے ایسے میں حکومت کے ذمہ دار اداروں کو سب سے پہلے معیشت کے استحکام کے لئے اٹھائے جانے والے اقدامات کو ثمر آور بنانے کیلئے کام کرناہوگا اس کے بعد قرضوں کی ادائیگی کے ساتھ دیگر چیلنجوں سے نمٹنے کیلئے حکمت عملی دینا ہوگی اس سب کے ساتھ آج پیش ہونے والے بجٹ میں عوامی مشکلات اور توقعات کو مدنظر رکھنا ہوگا‘برآمدات میں اضافہ اور خسارے کو روکنا ازحد ضروری ہے۔

کیا سب اچھا ہوگیا؟

صوبائی دارالحکومت میں دودھ کے 695نمونوں کا تجزیہ ہونے پر 305میں خطرناک کیمیکلز کی تصدیق ہوئی ہے 220میں پانی کی مقدار زیادہ پائی گئی جبکہ170میں چکنائی مقررہ حد سے کم تھی اس حوالے سے متعلقہ حکام کا احساس اور کاروائی قابل اطمینان ہے تاہم اس پر اکتفا کسی طور ممکن نہیں 305 نمونوں میں مضر صحت کیمیکل کی تصدیق انتہائی تشویشناک ہے اس سے باقی کی صورتحال کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے اگر ذمہ دار ادارے پوری مارکیٹ بھی چیک کر لیتے ہیں تو اس بات کی گارنٹی کہاں سے ملے گی کہ حکومتی کاروائی کے بعد دودھ خالص ملے گا صورتحال کا تقاضا ہے کہ مارکیٹ چیک کا مستقل انتظام کیا جائے اس کیلئے کمیونٹی سے مدد لینے کیساتھ خود ڈیری کی صنعت سے وابستہ افراد اور شیر فروشوں کے اپنے نمائندوں کو شامل کیا جاسکتا ہے اس حقیقت سے انحراف ممکن نہیں کہ پشاور کا وسیع وعریض جغرافیہ اور گلی محلے کی سطح پر دکانوں کی چیکنگ دو چار روز کے آپریشن میں ممکن نہیں اور 695نمونوں پر اکتفا کرکے سب اچھا ہے کی رپورٹ نہیں دی جاسکتی اس کے لئے ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔