بریکنگ نیوز
Home / کالم / چہرے پراتراتی راکھ

چہرے پراتراتی راکھ

میں بھی دنیا کے ہر شخص کی مانند صبح بیدار ہوکر غسل خانے کا رخ کرتا ہوں۔ دانت صاف کرتا ہوں‘ نہاتا ہوں اور فارغ ہونے کے بعد روزمرہ کی روٹین کی بیل گاڑی میں جت جاتا ہوں۔ پہلے تو مجھے اس گاڑی کو کھینچنے میں چنداں دشواری پیش نہ آتی تھی لیکن پچھلے دوچار برس سے میں محسوس کرتا ہوں کہ یہ گاڑی کچھ وزنی ہوگئی ہے اور اسے کھینچتے ہوئے میرا سانس پھولنے کو آتا ہے۔ بہت زور لگانے سے اس کے پہیے حرکت میں آتے ہیں لیکن کیا کروں زندگی کی گاڑی چلانے کے لئے مجھے روٹین کی یہ گاڑی مجبوراً چلانا پڑتی ہے۔ چلئے یہ نقاہت کے زمانے تو عمر کی مسافت کے شاخسانے ہیں لیکن میرے ساتھ ایک اور واقعہ ہوگیا ہے اور یہ بھی دوچار ماہ پیشتر کا قصہ ہے کہ غسل خانے میں گیا ہوں اور دیوار پر پھیلے آئینے میں اپنی شکل دیکھتا ہوں تو وہ دھندلی سی نظر آرہی ہے۔ آئینے میں جن دوسری اشیاء کے عکس ہیں‘ غسل خانے کا دروازہ اس کے ساتھ کھونٹیوں پر ٹنگے کپڑے‘ بجلی کا سوئچ بورڈ یا میری شیو کا سامان وغیرہ تو یہ سب واضح اور صاف نظر آرہا ہے لیکن میری شکل دھندلائی ہوئی سی نظر آتی ہے۔ اچھی طرح صابن رگڑ رگڑ کر چہرہ دھوتا ہوں تو بھی دھندلاہٹ کم نہیں ہوتی۔ پہلے تو میں نے اسے اپنا واہمہ سمجھا اور پھر ایک روز بیدار ہونے پر میں نے اپنے چہرے کو دھونے کی بجائے اسے تولئے سے پونچھا تو کیا دیکھتا ہوں کہ اس پر سرمئی سے ذرے چپکے ہوئے ہیں۔ جیسے چلتی گاڑی کی کھڑکی میں سے سر باہر نکال کر دیکھئے اور اس وقت انجن دھواں اگل رہا ہو تو آپ کے چہرے پر سیاہ ذرے چپک جاتے ہیں لیکن یہاں یہ مسئلہ بھی ہے کہ لاکھ صابن لگانے‘ رگڑنے اور دھونے کے باوجود چہرے کی دھندلاہٹ صاف نہیں ہورہی۔

ایک روز میں نے اپنی بیگم سے کہا‘ تم میرا چہرہ ذرا غور سے دیکھو کیا یہ تمہیں صاف نظر آرہا ہے۔ اس نے عینک لگا کر مجھے ایک عرصے کے بعد غور سے دیکھا اور کہا کہ ہاں صاف نظر آرہا ہے۔ ویسا ہی ہے جیسا کہ تھا لیکن بڑھاپے کے آثار ہیں۔ میں نے اسے وہ تولیہ دکھایا کہ یہ دیکھو اس پر کچھ سرمئی سے ذرے چپکے ہوئے ہیں جو میں نے اپنے چہرے سے پونچھے ہیں تو اس نے حیرت سے کہا‘ تولیہ بالکل صاف ہے چٹا سفید۔ اس پر تو کچھ بھی نہیں۔‘‘ اب یہ دوسرا مسئلہ ہوگیا کہ صرف مجھے اپنا چہرہ دھندلا نظر آرہا ہے۔ دوستوں کی محفلوں میں بیٹھے ہوئے میں ان کے قریب ہو ہو بیٹھتا کہ انہیں تو میرے چہرے پر دھندلاہٹ نظر آجائے گی لیکن مجال ہے کہ کسی نے کچھ بھی کہا ہو تو پھر یہ میرا واہمہ ہے۔ اس عمر میں وہم کے روگ بھی تو لاحق ہوجاتے ہیں لیکن جب چہرہ پونچھتا ہوں تو تولیے پر۔ ہاں اب میں اسے پہچان گیا۔ یہ سرمئی ذرے راکھ کے ہیں جو میرے چہرے کو غیر واضح کرتی ہیں۔ تو کیا کہیں آس پاس کوئی الاؤ بھڑکتا ہے‘ کہیں آگ لگی ہے‘ جس کی راکھ میرے چہرے پر تہہ در تہہ جمتی چلی جاتی ہے اور صرف میں اسے دیکھتا ہوں۔ لیکن سوات‘ وزیرستان اور بلوچستان تو بہت دور ہیں طویل فاصلوں پر واقع ہیں تو اگر وہاں کہیں آگ لگی ہے تو اس کی راکھ یہاں لاہور تک کیسے آسکتی ہے۔ہاں۔ میں اس راکھ کو جان گیا تھا‘ اسے پہچان لیا تھا۔ ایسی راکھ آج سے تقریباً ستر برس پیشتر بھی میرے چہرے پر اتری تھی۔

یہ 1947ء کے زمانے تھے۔ شہر میں ایک سیاہ خوف بچھا ہوا تھا۔ بدامنی بہت تھی۔ اس کے باوجود روزمرہ کی زندگی جاری تھی۔ میں رنگ محل مشن ہائی سکول میں اپنی کلاس کے بچوں کے ہمراہ بیٹھا ہوں اور یکدم کلاس ٹیچر اعلان کرتی ہے کہ شہر میں فساد شروع ہوگیا ہے اور کرفیو لگنے کو ہے اس لئے تمام بچے فوری طور پر اپنے گھروں کو لوٹ جائیں۔ یہ اطلاع ملنے پر کہ کرفیو نافذ ہونے کو ہے بیشتر بچوں کے والدین یا عزیز انہیں لینے کے لئے سکول سے باہر رنگ محل چوک میں منتظر ہیں لیکن مجھے وہاں کوئی بھی شناسا چہرہ نظر نہیں آتا اور پھر مجھے یاد پڑتا ہے کہ کوچہ و بازار سنسان پڑے ہیں۔ ہر جانب ویرانی ہے اور میں اپنا بستہ سنبھالتا اس ویرانی میں بھاگتا چلا جارہا ہوں اور میں بلند آواز میں روئے چلا جارہا ہوں۔ موچی دروازے کے باہر سرکلر روڈ پر ایک شخص سڑک پر اوندھا پڑا ہے اور اس کے گرد خون کا ایک چھوٹا سا تالاب ہے جس پر مکھیاں بھنبھنا رہی ہیں اور وہ شخص وہاں سے اٹھتا ہی نہیں‘ اوندھا پڑا رہتا ہے جیسے سڑک کو سونگھ رہا ہو۔ تب میں دیکھتا ہوں کہ موچی دروازے کی گھاٹی کی جانب سے میرے رشتے کے ماموں علی احمد میری تلاش میں بھاگتے چلے آرہے ہیں اور وہ مجھے گھر لے جاتے ہیں۔پھر وہی شاہ عالمی جس کے تنگ بازار میں سے گزر کر میں ہر روز سکول جایا کرتا تھا‘ دھڑ دھڑ جل رہا ہے۔آگ کے شعلے آسمان کو چاٹتے ہیں۔ حویلیاں‘ گھر‘ بازار ایک بڑے الاؤ کی صورت بھڑک رہے ہیں اور یہ آگ کئی روز تک جلتی رہتی ہے۔ رات کے وقت لاہور کا آسمان اس کی حدت سے سرخ نظر آتا ہے اور آگ کی خونی زبانیں رات کی تاریکی میں لپکتی ہیں۔ سرخ سانپوں کی مانند لہراتی ہیں۔ بہی کھاتے‘ کتابیں‘ سکول کی کاپیاں اور ان کے ساتھ کیسی محبتیں‘ الفتیں اور زندگیاں راکھ ہورہی ہیں۔

احاطہ قادر بخش کے نزدیک چیمبر لین روڈ پر واقع ہم اپنے سہ منزلہ مکان کی چھت پر سوتے۔ صبح بیدار ہوتے تو سفید چادریں اور کھیس آسمان سے اترنے والی راکھ سے اٹے ہوتے اور یہ راکھ ہم سب کے چہروں پر بھی لگی ہوتی اور یہ دھونے سے دھل جاتی لیکن اگلی سویر ہم سب کے چہروں پر پھر سے راکھ پوتی ہوئی ہوتی۔ یہ تاریخ کے جبر کی راکھ تھی اور اس میں بربادی کے سندیسے تھے۔ پھر پاکستان وجود میں آگیا۔ شاہ عالمی کی آگ بجھ گئی اور ہمارے چہرے پہلے کی مانند شفاف ہوگئے اور اب اتنے برسوں بعد پھر اسی نوعیت کی راکھ میں ہر صبح اپنے چہرے پر اتری ہوئی دیکھتا ہوں اور میرے خدوخال اس میں دھندلاتے ہیں۔ البتہ ایک فرق ہے کہ وہ راکھ سب کو نظر آتی تھی اور دھونے سے دھل جاتی تھی لیکن یہ راکھ جو ہمارے ملکی حالات کے الاؤ سے جنم لے رہی ہے۔ طویل فاصلے طے کرکے میرے چہرے پر آن اترتی ہے۔ اس راکھ کو اور کوئی نہیں دیکھتا اور نہ ہی دھونے سے دھلتی ہے۔ کیا پتہ میرے آس پاس بھی آگ بھڑکنے لگے۔ اس میں سے مزید راکھ جنم لے اور وہ اتنی زیادہ ہو کہ میں اس میں دفن ہوجاؤں۔ کیا پتہ۔ میں راکھ کا ایک ڈھیر ہوجاؤں جس میں ایک بھی چنگاری نہ ہو۔