بریکنگ نیوز
Home / کالم / نمائشی بجٹ

نمائشی بجٹ


وفاقی حکومت نے اپنی موجودہ آئینی مدت کا آخری بجٹ پیش کردیا ہے جس میں مسلم لیگ (نواز) نے ہر قسم کے خدشات کو بالائے طاق رکھنے اور پیداواری سٹریٹجک اپنانے کا فیصلہ کیا ہے جو کہ ویسا ہی نمائشی اقدام ہے جیسا ان کی حکومت کا چار سالہ دور رہا ہے۔ یہی وہ پارٹی ہے جس نے معیشت کو درپیش چند انتہائی اہم مسائل کے حل کرنے کے وعدے کیساتھ عام انتخابات میں حصہ لیا تھا‘ جیسے لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ اور معیشت میں پیداوار کو بڑھانے جیسے کام شامل تھے مگر اس پارٹی کے دور حکومت نے یہ بھی ثابت کر کے دکھایا کہ وہ بھی پچھلی حکومت سے کچھ مختلف نہیں ہے۔ نمائشی طور پر ہاں لیکن معنی خیز طور پر نہیں۔ پی پی پی کی گزشتہ حکومت بیرون ملک پارٹنرز کیساتھ بڑا معاہدہ ختم کرنے کے دہانے پر پہنچ چکی تھی۔ جن معاہدوں کو انہوں نے ختم کیا‘ اس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ وہ معاہدے غیر معیاری تھے‘ لیکن اس کی وجہ سپریم کورٹ تھی جو ہر اس غیر ملکی کمپنی سے معاہدے میں رکاوٹ بنی جن کو وہ روک سکتی تھی۔

موجودہ حکومت کو ایسا کوئی مسئلہ درپیش نہ تھا۔ وہ معاملات کو دھرنوں تک آسانی اور آرام سے چلا رہی تھی لیکن یہ دھرنے بھی صرف تاخیر کا باعث بنے مگر پھر بھی ایسی کسی دائمی رکاوٹوں کا باعث نہیں بنے جن رکاوٹوں سے پی پی پی اپنے پورے دور اقتدار میں نبردآزما رہی تھی۔ مسلم لیگ نواز کی حکومت کا آغاز بے تحاشا گردشی قرضوں‘ جنہیں بڑی عقلمندی کے ساتھ دوہزار تیرہ کے مالی سال کے آخر سے قبل ختم کر دیا گیا تھا‘ کے خاتمے ساتھ ہوا‘ یوں خسارے پر پڑنے والے اثرات کا سہرہ گزشتہ حکومت کو دیا جا سکتا ہے ایک ہی بار میں ان قرضوں کے خاتمے کی وجہ سے‘ خسارہ آٹھ فیصد جی ڈی پی سے بھی تجاوز کر گیا اس انتہاء کے بعد تو شرح صرف ہی کم ہی ہو سکتی ہے۔ آج‘ یہ فخر کیساتھ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ خسارے کو اس انتہاء سے نیچے لا کر چار فیصد تک پہنچا چکے ہیں‘ جیسے خسارے کو آدھا کرنا مالیاتی انتظامیہ کی کامیابی ہو۔ایسا نہیں۔یہ اکاؤنٹنگ کا کمال ہے۔ اس بات کے بھی قوی امکانات نظر آ رہے ہیں کہ حکومت اپنی مدت ختم ہونے سے قبل ایک اور بھاری گردشی قرضوں کا خاتمہ کرے گی‘ یوں حالات ایک بار پھر ویسے ہی ہو جائیں گے جیسے گزشتہ حکومت میں تھے۔ مالیاتی ڈھانچے میں تھوڑی بہتری ضرور ہوئی ہے۔ اس کے ساتھ بیرون ملک ذرائع مبادلہ کے ذخائر میں بھی بے تحاشا اضافہ ہوا جو کہ ان کے اقتدار سنبھالنے کے وقت ایک ماہ کے امپورٹ کوریج کے برابر تھے۔ حکومت کی جانب سے توانائی کے شعبے جیسے اہم شعبوں میں اصلاحات اور قیمتوں کے حوالے سے اصلاحات نہ کرپانے کی وجہ سے گردشی قرضے ایک بار پھر سر پر سوار ہو گئے۔ ٹیکس کا جال وسیع نہیں ہوا مگر ٹیکسوں کا بوجھ ان افراد پر زیادہ سے زیادہ پڑنے لگا جو پہلے سے ہی ٹیکس ادا کر رہے تھے۔ زر مبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوا مگر وہ بھی زیادہ تر ادھار کی مرہون منت اور کبھی کبھار غیر شفاف عمل کے تحت کسی ’’برادرانہ ملک کی جانب سے ’تحفے‘ کی صورت میں جو اپنا نام ظاہر نہیں کرنا چاہتا‘‘ جی ہاں سعودی عرب۔ ان دنوں چند افراد کا ماننا تھا کہ یہ پیسے بغیر کسی احسان کے تبادلے میں نہیں دےئے جا رہے لیکن ریاض میں ہونے والی کانفرنس کے موقع پر پاکستان کا خوشامدی رویہ دیکھ کر ہمیں ان ایک اعشاریہ پانچ ارب ڈالر کی رقم یاد آ گئی جو مشکل گھڑی میں آسمان سے من و سلویٰ کی مانند نازل ہوئی تھی۔

اب ان پیسوں کو لوٹانے کا وقت آ پہنچا ہے اور یہ قرضہ صرف پیسوں سے ہٹ کر دیگر صورتوں میں ادا کرنے کا مطالبہ کیا جائے گا۔ ان سب باتوں کیساتھ‘ چین کیساتھ ہماری شراکت داری ایک کہانی کی صورت میں فروغ پاتی رہی جو سنانے کے ساتھ ساتھ بڑی بھی ہوئی۔ حقیقت میں‘ ہم اگلے سال کے ترقیاتی بجٹ میں مختص کردہ رقوم کے پیچھے چھپے اصل کھیل کو دیکھ سکتے ہیں اور یہ دکھنے میں کوئی نیا کھیل بھی نہیں۔ مثلاً بجلی سب کے لئے اور صاف پینے کا پانی جیسے پروگراموں کیلئے مختص کی جانے والی پچیس ارب روپے کی رقم۔ پینے کا صاف پانی پروگرام میں زیادہ تر چند حلقوں میں فلٹریشن پلانٹس قائم کرنا ہی شامل تھا اس لئے تین ماہ کے لئے کام کرنے والے فلٹرز سے علاقے کی قیادت‘ لوگوں کو صاف پانی فراہم کرنے پر مہم چلا سکے گی۔ عام انتخابات ہوجانے کے بعد‘ ہم دیکھ لیں گے۔ لگتاہے کہ بجٹ کافی حد تک قلیل مدت جاری رہنے والی اور عام انتخابات تک مصنوعی سکھ کی حامل سکیموں اور منصوبوں سے بھرپور گزشتہ جیسا ہی ہے۔ معاشی سروے پر آج رات کی پریزنٹیشن میں مزید ابھرتی ترقی کے خواب شامل ہوں گے‘ جو پُرکشش تصویروں سے آراستہ نہیں ہوگی بلکہ پرکشش اعداد و شمار سے بھرپور ہو گی‘ حالات ویسے کے ویسے ہیں جو کہ ایک موڑ لینے سے نہیں بدل سکتے۔ (بشکریہ: ڈان۔ تحریر: خرم حسین۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)