بریکنگ نیوز
Home / کالم / نیرنگی سیاست

نیرنگی سیاست

گرگٹ کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ رنگ بدلتا ہے لیکن ان سیاسی لوگوں کے بارے میں آپ کیا کہیں گے کہ جو ہوا کا رخ دیکھ کر اپنی سیاسی وفاداریاں بدلتے رہتے ہیں اور ان کو رتی بھر اس بات کا خیال نہیں آتا کہ لوگ کیا کہیں گے ؟ قومی ٹیسٹ کرکٹ ٹیم میں اگر کسی نئے کھلاڑی کو چن لیا جائے تو اس کے پہلے میچ میں اسے ٹیسٹ کیپ یعنی ٹوپی پہنائی جاتی ہے جو عموماً سبز رنگ کی ہوتی ہے اس رسم کی دیکھا دیکھی سیاسی پارٹیوں نے بھی اپنی پارٹیوں کی مختلف رنگوں کی ٹوپیاں بنا رکھی ہیں جو پارٹی کا قائد اس سیاست دان کو اپنے ہاتھو ں سے پہناتا ہے کہ جو اس کی پارٹی میں شمولیت کا اعلا ن کرتا ہے اس موقع پر اکثر ایک خصوصی تقریب کا اہتمام بھی کیا جاتا ہے آج کل ٹوپیاں بدلنے کا موسم ہے الیکشن چونکہ نزدیک ہے لہٰذا ٹوپیاں بدلنے کی روش بھی تیز ہوگئی ہے جو پرانے گھاگ اورخرانٹ قسم کی جغادری سیاست دان ہیں وہ اڑتی چڑیا کے پر گننے میں یدطولیٰ رکھتے ہیں ان کو پہلے سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ اب کی دفعہ الیکشن میں کسی سیاسی پارٹی کے جیتنے کے امکانات زیادہ روشن ہیں چنانچہ وہ اس گھوڑے پر بازی لگاتے ہیں کہ جس کے سیاسی ریس میں جیتنے کے امکانات واضح ہوں لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ بھگوڑا ‘ بھگوڑا ہوتا ہے جو اپنے پہلے مالک کا وفادار نہیں بن سکتا وہ بھلا دوسرے مالک کیساتھ کیا وفا کرے گا؟ ایسے لوگ عام آدمی کی نظر میں کوئی دقعت نہیں رکھتے بعض لوگ تو ایسے بھی ہیں کہ جنہوں نے بگھوڑے پن کو ایک آرٹ کی شکل دے رکھی ہے اور اسے انہوں نے اپنا وطیرہ بنا لیا ہے انہوں نے اپنے سیاسی کیرئیر میں ایک سے زیادہ سیاسی پارٹیاں تبدیل کی ہیں ۔

وہ اگر آج آپ کو ایک منڈ پر پر بیٹھے نظر آئیں گے تو کل دوسری منڈ یر پر لیکن مجال ہے کہ ان کو کوئی شرم آتی ہو اور کمال یہ ہے کہ ان کی اس بے وفائی کو وہ قائدین بھی محسوس نہیں کرتے کہ جن کی پارٹی کو یہ بگھوڑے چھوڑ کر چلے گئے ہوتے ہیں اور حالات کارخ دیکھ کر واپس پلٹ کر اپنی اوریجنل پارٹی میں آ جاتے ہیں کہتے ہیں سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا اور نہ ہی اس میں کوئی حرف آخر ہے اس قسم کی سیاست تو پھر سیاست نہ ہوئی دکانداری ہوئی ایک منافع بخش تجارت ہوئی کہ جس میں آڑھتی یا دکاندارروزانہ مارکیٹ کا رخ دیکھ کر اشیائے صرف کی قیمتیں متعین کرتے ہیں اگر اس ملک کے سیاسی منظر نامے پر ایک طائرانہ نظر ڈالیں تو آپ محسوس کریں گے کہ ماسوائے اکا دکا سیاسی پارٹیوں کو چھوڑ کر دیگر تمام سیاسی پارٹیوں کا برا حال ہے اصولوں کی سیاست اب قصہ پارینہ ہے آج اگر اس ملک میں کوئی سب سے زیادہ منافع بخش تجارت ہے تو وہ سیاست ہی ہے اس میں اشرافیہ دل کھول کر پیسہ لگاتی ہے اورپھر دل کھول کر کماتی بھی ہے یہ انگلستان نہیں کہ ٹوری ہمیشہ ٹوری پارٹی کا رکن رہے گا اور لیبر پارٹی کا رکن شاذ ہی اپنی پارٹی چھوڑے گا یہ امریکہ بھی نہیں کہ ری پبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والوں کی علیحدہ سوچ ہے۔

اور ڈیموکریٹک پارٹی کے اراکین کی علیحدہ‘ اورتو اور یہ بھارت بھی نہیں کہ جس میں کانگریس پارٹی کے اتنے حصے بخرے نہ ہوئے کہ جتنے اپنے ہاں مسلم لیگ کے ہوئے او ر نہ ہی کانگریس پارٹی سے تعلق رکھنے والوں نے اس تھوک کے حساب سے اپنی پارٹی چھوڑی کہ جس طرح اس ملک کی اکثر سیاسی پارٹیوں کا حشر ہوا بھگوڑے جانتے ہیں کہ برسراقتدار آنے والی سیاسی پارٹی جائن کرنے میں نہ ہینگ لگے نہ پھٹکڑی اور رنگ بھی چوکھا آئے یہ اور بات ہے کہ خلق خدا کی نظر میں وہ ہمیشہ ذلیل و خوار رہتے ہیں۔ ہمارے ملک میں بدقسمتی سے اقدار نہیں اقتدار کی سیاست ہو رہی ہے 70سال یہی کرتوت ہیں جو کہ بدلنے میں نہیں آرہے جو جدھر گھی شکر دیکھتا ہے ادھر لپک جاتا ہے یہ نہیں کہ صرف ایک سیاستدان ادھر ادھر ہو جاتا ہے یہاں پر تو پارٹی کی پارٹی ہی بھگوڑا ہو جاتی ہے جیسے کہ2000ء میں ن لیگ سے جنرل مشرف نے ق لیگ بنا ڈالی تھی مگر آج پھر وہی سیاستدان ن لیگ کی جھولی میں نظر آرہے ہیں۔