بریکنگ نیوز
Home / انٹرنیشنل / افغان سیکورٹی فورسز کی زمینی اور فضائی کاروائی ،4 طالبان رہنماؤں سمیت 26شدت پسند ہلاک

افغان سیکورٹی فورسز کی زمینی اور فضائی کاروائی ،4 طالبان رہنماؤں سمیت 26شدت پسند ہلاک

کابل ۔افغان سیکورٹی فورسز کی زمینی اور فضائی کاروائیوں میں4طالبان رہنماؤں سمیت 26شدت پسند ہلاک ہوگئے جبکہ مشرقی صوبہ ننگرہار میں شہریوں نے داعش کے دہشتگردوں کو مار بھگایا ،جھڑپ کے دوران 15دہشتگرد اور6شہری ہلاک ہوگئے ، زابل میں پولیس اہلکار نے فائرنگ کرکے 6ساتھی اہلکاروں کو ہلاک کردیا،سیکورٹی فورسز نے جنوبی صوبہ ہلمند میں طالبان کی قید سے5سیکورٹی اہلکاروں سمیت 11افراد کو آزاد کرالیا جبکہ سیکورٹی فورسز نے داعش میں شامل ہونے کی کوشش کرنے والے 3پاکستانیوں کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے ۔

دوسری جانب افغان سیکورٹی فورسز نے مغربی صوبہ ہرات میں دھماکے کا منصوبہ ناکام بنادیا۔اتوار کو افغان میڈیا کے مطابق شمالی صوبہ قندوز میں افغان سیکورٹی فورسز کی زمینی اور فضائی کاروائی میں 2طالبان کمانڈر سمیت 19جنگجو ہلاک ہوگئے صوبائی گورنر کے ترجمان نعمت اللہ تیموری کا کہنا ہے کہ قندوز کے مرکز میں تالوکا کے علاقے میں کلیرنس آپریشن کے دوران 17شدت پسند ہلاک ہوگئے ۔انکا کہنا تھاکہ خواجہ پاک گاؤں اور پہاڑی سے طالبان کا مکمل صفایا کردیا گیا ہے اور دہشتگردوں کے 12ٹھکانے تباہ کردیئے گئے ۔تیموری نے مزید بتایا کہ طالبان کے ہلاک ہونے والے مقامی کمانڈر وں کی شناخت مولوی صابر اور ملا جابر کے نام سے ہوئی ہے ۔زخمی ہونے والے جنگجوؤں میں طالبان کے مقامی لیڈر ہنان بھائی کا بیٹا ملا اختر بھی شامل ہے ۔

دریں اثناء ترجمان صوبائی گورنر نعمت اللہ تیموری نے مزید بتایا کہ طالبان رہنماؤں جن کی شناخت یحیٰ اور کریم کے نام سے ہوئی ہے ضلع چاردرہ میں فضائی کاروائی کے دوران مارے گئے جمعرات کو قندوز میں ڈرون حملے میں تین طالبان رہنماؤں سمیت 13شدت پسند ہلاک ہوگئے تھے ۔طالبان جنگجو ؤں نے جنوبی صوبہ ہلمند میں سیکورٹی چیک پوسٹوں پر حملے کیے ہیں اس دوران جنگجوؤں کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا۔حملہ ضلع سنگین میں سیکورٹی چیک پوسٹو ں پر کیا گیا۔

مقامی حکام کا کہنا ہے کہ سیکورٹی فورسز نے طالبان کے حملے کو ناکام بنادیا اس دوران جوابی کاروائی میں 7جنگجو ہلاک اور 6دیگر زخمی ہوگئے ۔ادھر مشرقی صوبے ننگرہار کی تحصیل آچین میں داعش کے دہشت گردوں اور علاقے کے عوام کے درمیان ہونے والی جھڑپ میں 6 شہری ہلاک ہو گئے ہیں۔ننگرہار کے گورنر دفتر کے ترجمان عطا اللہ ہوگیانی کے مطابق جھڑپ داعش کے دہشت گردوں کے آچین کے گاوں واچکوٹ میں آ کر ایک شہری کو تحویل میں لینے کے بعد شروع ہوئی۔

ہوگیانی کے مطابق جھڑپ 3 گھنٹوں تک جاری رہی اور اس میں داعش کے 15 دہشت گرد اور علاقے کے 6 رہائشی ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ ایک شہری زخمی ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ علاقے کے عوام نے دہشت گردوں کے خلاف جس مزاحمت کا مظاہرہ کیا ہے وہ دوسرے علاقوں کے لئے ایک مثال بنے گا۔واضح رہے کہ دہشت گردتنظیم داعش ، ننگرہار کی تحصیل آچین میں جڑ پکڑ رہی ہے۔امریکی ائیر فورسز نے گذشتہ ماہ آچین میں داعش کے کمپلیکس اور “بڑا ترین غیر جوہری بم شمار کئے جانے والے” GBU-43 کو نشانہ بنایا تھا۔ افغان سیکورٹی فورسز نے مغربی صوبہ ہرات میں دھماکے کا منصوبہ ناکام بنادیا۔

صوبائی پولیس کمانڈنٹ کا کہنا ہے کہ افغان سیکورٹی فورسز ضلع اوبے میں سڑک کنارے سے دیسی ساختہ تین بم ڈیوائسز برآمد کرکے ناکارہ بنادیں۔افغان نیشنل ڈیفنس اور سیکورٹی فورسز نے جنوبی صوبہ ہلمند میں طالبان کی قید سے 11افراد کو آزاد کرالیا۔صوبائی میڈیا آفس کے سربراہ زاہد اتل نے تصدیق کی ہے کہ ان افراد کو افغان سپیشل فورسز نے ایک آپریشن کے دوران چھڑایا۔آپریشن ضلع نادے علی کے گاؤں نقیل آبادمیں کیا گیا۔

انکا کہنا تھاکہ رہا کرائے جانے والے افراد میں 5سیکورٹی اہلکار اور 6شہری شامل ہیں۔جنوبی صوبہ زابل میں پولیس اہلکار نے ساتھیوں پر فائرنگ کرکے 6اہلکاروں کو ہلاک کردیا۔صوبائی پولیس چیف غلام جیلانی نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ واقعہ ضلع شنکائی میں پیش آیا جہاں طالبان کے ایک ساتھی پولیس اہلکار نے اپنے دیگر ساتھیوں پر فائرکھول دیا اور 6اہلکاروں کو قتل کرنے کے بعد فرار ہوگیا۔

دوسری جانب افغان سیکورٹی فورسز نے مشرقی صوبہ ننگرہار سے داعش میں شامل ہونے کی کوشش کرنے والے 3پاکستانیوں کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے ۔مقامی حکام کا کہنا ہے داعش میں شمولیت اختیار کرنے کی کوشش کرنے والے 6افراد کے ایک گروپ کو گرفتار کرلیاگیا ہے جن میں تین پاکستانی بھی شامل ہیں۔صوبائی گورنر کے ترجمان عطااللہ کھوگیانی نے ان اطلاعات کی تصدیق کی ہے اور کہا کہ ان افراد کو ضلع رودت سے گرفتار کیا گیا۔تین پاکستانی اور تین افغانیوں کو پولیس نے ضلع رودت سے حراست میں لیا جب وہ داعش میں شامل ہونے کی کوشش کررہے تھے ۔