بریکنگ نیوز
Home / کالم / عالمگیر آفریدی / پیرا میڈیکس کی خدمات اور مسائل

پیرا میڈیکس کی خدمات اور مسائل

ملک بھرمیں سرکاری اور نجی شعبے میں قائم میڈیکل کالجز کوملنے والی حکومتی سرپرستی اور اس مقصد کے لئے پی ایم ڈی سی اور سی پی ایس پی جیسے مستند بین الاقوامی اداروں کے قیام اور فعالیت کے علاوہ ڈاکٹروں کو سرکاری اور نجی شعبوں میں ملنے والی پذیرائی ان کیلئے ملازمت کے بہتر مواقع متوازن سروس سٹرکچر‘بھاری مشاہرے اور سب سے بڑھ کر بہترین سماجی مرتبہ ایسی خصوصیات ہیں جو صرف ڈاکٹروں کے حصے ہی میں آتی ہیں۔ان مراعات اور خصوصی نوازشات پرنہ تو کسی کو اعتراض ہے اور نہ ہی ایسا کوئی اعتراض ہونا چاہئے کیونکہ ڈاکٹروں کو بلا شبہ ہمارے معاشرے کی کریم سمجھا جاتا ہے اور اس پیشے میں وہی لوگ آتے ہیں جن کی قابلیت اورذہانت وفطانت قابل رشک ہوتی ہے صحت کا نظام ڈاکٹروں‘پیرامیڈیکس‘نرسز فارماسسٹس اور حتیٰ کہ سپورٹ سٹاف کی ٹیم ورک کے بغیر پایہ تکمیل تک نہیں پہنچ سکتا ۔سوال یہ ہے کہ جب اس حقیقت کو عام مریض تک محسوس اور بیان کرسکتا ہے تو آخر کیا وجہ ہے کہ ہمارے صحت کے نظام کے کرتا دھرتا اس سادہ بات کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔

پیرامیڈیکس کے نظر انداز کئے جانے کی اس سے نمایاں مثال اور کیا ہو سکتی ہے کہ ہمارے ہاں قیام پاکستان کے وقت سے میڈیکل ایجوکیشن کوڈاکٹری کے پیشے تک محدود کرتے ہوئے جہاں صرف میڈیکل کالجز کے قیام اور ان کے معیار کی بہتری پر توجہ دی جاتی رہی ہے وہاں اس شعبے کے امدادی شعبے کے طور پر پیرامیڈیکس کو ہمیشہ نظر انداز کیا جا تا رہا ہے اور شایدیہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں میڈیکل ایجوکیشن کی بنیاد تو پاکستان بننے سے پہلے بھی ڈگری سطح کی تعلیم وتربیت تھی لیکن پیرامیڈیکس کے لئے نہ تو کوئی تعلیمی معیار مقرر تھا اور نہ ہی اس ضمن میں کوئی ریگولیٹری ادارہ موجود تھا اس پس منظر میں ایک مڈل یا میٹرک پاس پیرامیڈیکس سے کسی بہتر پیشہ ورانہ خدمات اور نتائج کی توقع یقیناً خام خیالی ہی تھی۔پیرامیڈیکس در اصل صحت کی گاڑی کا وہ پہیہ ہے جس کی شمولیت کے بغیر صحت کے مطلوبہ نتائج کا حصول اگر ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔پیرامیڈیکس کے حوالے سے یہ بات خوش آئند ہے کہ خدا خدا کر کے اب نہ صرف اس شعبے کی اہمیت کو تسلیم کیا جانے لگا ہے بلکہ اس ضمن میں سرکاری سرپرستی میں بعض اقدامات بھی اٹھائے جارہے ہیں۔اس سلسلے میں پہلی لائق تحسین بات پیرامیڈیکس کے تعلیمی اور تربیتی معیار کی جانب توجہ دیتے ہوئے پہلی دفعہ ایف ایس سی پری میڈیکل کی تعلیمی شرط کاعائد کیاجانا ہے۔ دوسری اہم بات پیرامیڈیکس کی تعلیم وتربیت کیلئے چار سالہ بی ایس پیرا میڈیکس ڈگری پروگرام کا اجراء ہے جس میں کلا س روم کی تعلیم کے ساتھ ساتھ ہسپتالوں میں ایم بی بی ایس کے طلباء وطالبات کی طرح عملی تعلیم وتربیت کا بندوبست بھی کیا گیا ہے۔یہ بات ہر طرح کے شک وشبے سے بالاتر ہے کہ جب کسی شعبے کی تعلیم وتربیت کا معیار بلند ہوگا تو اس کے نتیجے میں خدمات کی فراہمی کے معیار میں بھی خاطرخواہ بہتری آئیگی اسی طرح پیرامیڈیکس کے حوالے سے دوسری اہم پیش رفت سرکار کی جانب سے پیرامیڈیکس کی افادیت کو سرکاری سطح پر تسلیم کرتے ہوئے ایک نسبتاً بہتر اور متوازن سروس سٹرکچر کی فراہمی ہے۔

جس سے اس نظر انداز شعبے میں طبی خدمات انجام دینے والے ہزاروں پیرامیڈیکس کونہ صرف گریڈ بیس تک ترقی کے مواقع دستیاب ہونگے بلکہ اس سے ان کے پیشہ ورانہ سماجی اور مالی حیثیت پر بھی خوشگوار اثرات مرتب ہونگے۔ البتہ پیرامیڈیکس کو دیئے گئے سروس سٹرکچر کے حوالے سے پیرا میڈیکس کی اکثریت میں پائی جانے والی یہ تشویش قابل توجہ ہے کہ یہ لوگ پچھلے دو ڈھائی عشروں سے سخت مشکل حالات اور دورافتادہ مقامات پر انتہائی کم تنخواہ اور معمولی گریڈوں میں خدمات انجام دیتے رہے ہیں اور جن کی سروس چونکہ ریٹائرمنٹ کے قریب ہے اور ریٹائرمنٹ کے ان اآخری ایام میں ان کا مروجہ سروس سٹرکچر کے مطابق ترقی کے مواقع سے مستفید ہونا ممکن نہیں ہے لہٰذا حکومت کوان پیرامیڈیکس کی ریٹائرمنٹ کے ایشوکومدنظر رکھتے ہوئے ان کیلئے مختص بیس فیصدمحکمانہ کوٹے کواگلے دوتین سال تک چالیس فیصد تک بڑھا دینا چاہئے جس سے نہ صرف ریٹائرمنٹ کے قریب سینکڑوں پیرامیڈیکس ترقی سے مستفید ہو سکیں گے بلکہ اس سے حکومت کی نیک نامی میں بھی اضافہ ہوگااسی طرح حکومت کو ہائر ایجوکیشن کمیشن کیساتھ الحاق شدہ اداروں کی پیرامیڈیکس ڈگریوں کی تصدیق کے معاملے میں بھی پیرامیڈیکس کے جائز اور مبنی بر انصاف مطالبے پر ہمدردانہ غور کرنا چاہئے جس پر ہزاروں پیرامیڈیکس یقیناً حکومت کے ممنون احسان ہونگے۔