بریکنگ نیوز
Home / کالم / مال مفت‘ دل بے رحم

مال مفت‘ دل بے رحم


اس خبر نے ہمیں کیا چونکایا پوری قوم کو چونکایا ہوگا کہ صدر مملکت کی تنخواہ میں یکمشت 6 لاکھ روپے اضافہ کر دیا گیا ہے اور اب وہ د س لاکھ روپے کے بجائے16 لاکھ روپے تنخواہ وصول کیا کریں گے یہ وہ بدقسمت ملک ہے کہ جہاں اشرافیہ ‘ مزدور کی کم از کم تنخواہ پندرہ ہزارروپے ماہوار مقرر کرتی ہے اوروہ بھی مزدوروں کے کئی ترلوں اور منتوں کے بعد اور دوسری طرف حکمرانوں کے اللوں تللوں کیلئے انہیں کئی لاکھ روپے ماہانہ بطور تنخواہ دیتی ہے ایوان صد ر کے دیگر اخراجات اس کے علاوہ ہیں جب ضیاء الحق ایوان صدر میں رہائش پذیر تھے تو ایوان صدر کے روزانہ کا خرچہ پچاس ہزار روپے سے اوپر تھا ان کو جب خدا نے اوپر بلا لیا اور غلام اسحاق خان صدر مملکت منتخب ہوئے تو انہوں نے ایوان صدر کے مادر پدر آزاد خرچے پر قدغن لگائی اور گھٹ کر 1900 روپے روزانہ تک آ گیا قائداعظم کے ایک اے ڈی سی نے اپنی یاداشتوں میں لکھا ہے کہ یہ 1948ء کے اوائل کی بات ہے کہ جب ہماری کرنسی کافی وزنی تھی اور مارکیٹ میں سونا بیس روپے تولا ملا کرتا تھا جو آج پچاس ہزار روپے فی تولا سے زیادہ ہو چکا ہے فاطمہ جناح نے گورنر جنرل ہاؤس میں استعمال ہونے والی بعض اشیاء منگوائیں کہ جن پر کل خرچہ 37 روپے تھا جب اس اے ڈی سی نے قائداعظم کو وہ 37 روپے کا بل پاس کرنے کیلئے پیش کیا تو انہوں نے اس میں سے 10 روپے کاٹ کر صرف 27 روپے کا بل پاس کیااور اس اے ڈی سی سے کہا کہ یہ جو 10 روپے کے بعض آئٹمزفاطمہ جناح نے منگوائے ہیں یہ ان کے خیال میں انکے نجی استعمال کیلئے ہیں۔

لہٰذا یہ دس روپے فاطمہ جناح اپنی جیب سے ادا کریں گی کہنے کا مطلب یہ ہے کہ یہ تھا قومی خزانے سے گورنر جنرل ہاؤس پر خرچ کرنے والی رقم میں احتیاط کا عالم‘ آج کل کون اتنی احتیاط کرتا ہے کون اتنی باریک بینی سے دیکھتا ہے کہ ایوان صدر ‘ وزیراعظم ہاؤس‘ گورنر ہاؤسز یا وزرائے اعلیٰ ہاؤسز میں یوٹیلٹی کے نام پر پریا اس کی مد میں جو اخراجات کئے جارہے ہیں ان میں کتنے نجی نوعیت کے ہیں اور کتنے سرکاری نوعیت کے ؟ مال مفت دل بے رحم والی بات ہے سب نے ایوان اقتدار کو حلوائی کی دکان اور دادا جی کا فاتحہ سمجھ رکھا ہے ایک مرتبہ اسی اے ڈی سی نے قائداعظم سے گورنر جنرل ہاؤس کراچی میں اگلے روز ہونے والی کابینہ کے اجلاس کے بارے میں پوچھا کہ سر میٹنگ میں شرکاء کی تواضع چائے سے کی جائے یا کافی سے تو اس کو قائد نے جواب دیا کہ کیا شرکاء گھر سے ناشتہ کرکے نہیں آئیں گے؟ آج کل کے بارے میں تو ہم کچھ نہیں کہہ سکتے ہیں لیکن جب تک چین میں ماؤزے تنگ اور چواین لائی برسر اقتدار تھے اور ان کاحکومت میں عرصہ لگ بھگ بیس سالوں کا تھا اہم اجلاس کے دوران شرکاء کی سبز چائے سے تواضع کی جاتی اللہ اللہ اور خیر سلا ہمارے حکمران اس معاملے میں ماشاء اللہ خوش خوراک ثابت ہوئے ہیں سرکاری اجلاس کے دوران ٹیکس دہندگان کے پیسوں پر شرکاء کی انواع و اقسام کے سنیکس اور کھانوں سے تواضع کی جاتی ہے کہ جن پر بلا مبالغہ لاکھوں روپے کا خرچ اٹھ جاتا ہے دکھ کی بات یہ ہے کہ قومی دولت سے اسراف کرنے والے وہ لوگ ہیں کہ جو اپنی تقریروں میں عوام کو سادگی اختیار کرنے اور قناعت کا بھاشن دیتے ہیں۔

نپولین اتنی سادہ اور کم خور اک کھاتا کہ وہ کھانا تناول کرنے میں پندرہ منٹ سے زیادہ وقت نہ لیتا ایک مرتبہ کھانا بہت لذیذ تھا اور وہ زیادہ کھا گیا اس کی زندگی کے حالات لکھنے والے ایک لکھاری نے لکھا کہ جب وہ زیادہ کھا گیا تو اس نے اپنے باورچی کی سرزنش کی کہ آج اس کی وجہ سے وہ زیادہ کھا گیا او ر اسی وجہ سے اس کا ڈائننگ ٹیبل پر زیادہ وقت گزرا یہ درست ہے کہ ہمارے حکمرانوں‘ ہمارے ججوں اور ہمارے سرکاری اہلکاروں کو اتنا مشاہرہ ضرور ملنا چاہئے کہ و ہ مالی طور پر پریشان نہ ہوں اور ان کو باعزت طور پر دو وقت کا کھانا ملے لیکن ان کو اپنی بودو باش اور رہن سہن میں سادگی اور قناعت کامظاہرہ کرنا چاہئے ۔