بریکنگ نیوز
Home / کالم / امجد حسین / تلاش ایک قدیم درخت اور ایک ڈھیری کی

تلاش ایک قدیم درخت اور ایک ڈھیری کی


جنوری 2017ء میں اپنی پشاور یاترا کے دوران میں نے پشاور میوزیم ‘ میں بادشاہ کنشکا کے بارے میں اور موجودہ گنج گیٹ سے باہر ان کے بنائے ہوئے ایک سٹوپہ (بدھ مذہب کی عبادت گاہ)کے بارے میں لیکچر دیا تھا، لب لباب یہ تھا کہ دوسری صدی عیسوی میں جب پشاور گندھارا راجدھانی کا دارالخلافہ تھا، یہاں پر بادشاہ کنشکا نے ایک عظیم الشان سٹوپہ تعمیر کرایا تھا جسکی اونچائی تقریباً 500 فٹ تھی اس عظیم الشان عمارت کو دیکھنے کیلئے زائرین دور دور کے ممالک سے آتے تھے، چین سے جوزائرین چوتھی ‘پانچویں اور چھٹی صدی عیسوی میں پشاور آئے ‘ انہوں نے شہر اور سٹوپہ کے بارے میں مفصل تحریریں چھوڑی ہیں، نویں صدی میں یہ عمارت مٹی ہو گئی اور آہستہ آہستہ اس کے اثار مٹتے گئے اور جب مغربی ممالک سے سیاح پشاور آئے تو سترہویں اور اٹھارویں صدی میں نہ صرف وہ عمارت بلکہ اس کے اردگرد سینکڑوں اور عمارتیں بھی زمین بوس ہو چکی تھیں انکے خدوخال محض دو ڈھیروں کی صورت میں موجود تھے جو شاہ جی کی ڈھیریاں کہلاتی تھیں، یہ دراصل دو ٹیلے تھے لیکن مشہور ڈھیریوں کے نام سے تھے عمارتیں مٹی ہوئیں اور ان کیساتھ عمارتوں کے بنانیوالوں کے نام گندھارا سلطنت کے خدوخال اور ایک شاندار ماضی کی داستان بھی لوگوں کے ذہن سے محو ہو گئی اسلام کی وادی پشاور میں آمد کے بعد ہم نے اپنی قدیم تاریخ کو بالکل فراموش کردیا۔

چینی زائرین نے اپنے سفرناموں میں یہ بھی لکھا تھا کہ گوتم بدھ بذات خود پشاور آئے تھے اور شہر میں دریا کے کنارے ایک پیپل کے درخت کے نیچے بیٹھ کر انہوں نے پیشگوئی کی تھی کہ انکی وفات کے چارسوسال بعد ایک بادشاہ ان کی یاد میں ایک عظیم الشان سٹوپہ تعمیر کرائے گاچونکہ پشاور میں بہت سے پیپل کے درخت ہیں اسلئے ماہرین آثارقدیمہ اس بات پر متفق نہ ہوسکے کہ وہ درخت کہاں تھا عالمی شہرت یافتہ محقق مرحوم ڈاکٹر احمد حسن دانی کے کہنے کے مطابق وہ درخت وہی تھا جس کی وجہ سے بازار بزازاں کی پشت پر واقع غلے ‘ دال ‘مصالحہ جات اور گڑ کی منڈی‘ پیپل منڈی کہلائی،یہ درخت دریائے باڑہ سے جو اس وقت موجود شاہی کٹھے کی جگہ بہتا تھا پچاس ساٹھ قدموں کے فاصلے پر واقع تھا سن ستر کی دہائی میں وہ درخت کٹوادیاگیا اس مقام پر اب دکانیں بن گئی ہیں، درخت کے کوئی آثار نہیں ہیں۔

یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ وہ درخت تو نہیں جو اب بھی سبزی منڈی میں کھٹے کے کنارے کھڑا ہے یہ درخت پیپل منڈی سے سبزی منڈی کی طرف آئیں توسو قدم کے فاصلے پر ہے اس کا تنا بہت ہی بڑا ہے اور اس کا سایہ سبزی منڈی اور موچی لڑے پر پڑتا ہے، مشکل یہ ہے کہ ہم 2ہزار سال گزرنے کے بعد اس درخت کی صحیح شناخت نہیں کرسکتے جس کے نیچے بیٹھ کر گوتم بدھ نے اپنی یاد میں ایک سٹوپہ تعمیرہونے کی پیشگوئی کی تھی۔
پشاور کے ایک گرد آور ہمایون اخوند کو پشاور شہر سے جنون کی حد تک محبت ہے اور وہ اس جگہ کا تعین کرچکے ہیں، جہاں کنشکاکا سٹوپہ تعمیر ہوا تھا، جیسا کہ میں اوپر لکھ آیا ہوں جب سٹوپا کے آثار مٹ گئے تو وہاں صرف دو ٹیلے رہ گئے جو شاہ جی کی ڈھیریاں کے نام سے پہچانے جاتے تھے 1908ء میں کھدائی کے دوران نہ صرف سٹوپہ کے آثار ملے بلکہ سٹوپہ کے پلیٹ فارم کے نیچے ایک چھوٹے سے کمرے میں تانبے کی ایک ڈبیہ بھی ملی جس میں گوتم بدھ کی ہڈیوں کے چند ٹکڑے دو ہزار سال سے محفوظ تھے، کھدائی کے بعدوہ زمین سیدمالکان کے حوالے کردی گئی، 1970ء میں مالکان نے اس جگہ پر چھوٹے چھوٹے پلاٹ بنا کر لوگوں میں بیچ دیئے، اس طرح شاہ جی کی ڈھیریوں اور اس کے اردگرد اخون آباد کی آبادی بن گئی۔

گزشتہ فروری کی ایک چمکیلی صبح میں ہمایون اخوند اور ان کے ساتھیوں کے ساتھ شاہ جی کی ڈھیریوں کی تلاش میں نکلا، پھندو روڈ سے ہوتے ہوئے ہم دائیں ہاتھ جانے والی ایک سڑک پر ہولیئے اونچی سطح پر بنی ہوئی آبادی جو اب اخون آباد کہلاتی ہے، شاہ جی کی ڈھیریوں پر تعمیر کی گئی ہے، اس ٹیلے یا ڈھیری کی اونچائی کوئی پچاس یا ساٹھ فٹ ہے، مغرب کی جانب اونچائی سے نیچے آئیں تو ایک چھوٹا سا پارک کسی الہ داد خان کے نام سے موسوم ہے، اس پارک میں بیٹھ کر ہمایون اخوند نے اس علاقے کے خسرے پھیلائے اور گزشتہ دوسو سال کے خسروں کی روشنی میں اس بات کا تعین کیا کہ اخون آباد کی جو آبادی اونچائی پر بنائی گئی ہے وہ شاہ جی کی ڈھیریوں پر واقع ہے، الہ داد پارک ان ڈھیریوں سے ملحق ہے، میرے لئے اس ضمن میں کوئی شک وشبے کی گنجائش نہیں کہ انہی مکانوں کے نیچے کنشکا کے شاندار سٹوپہ کے آثار دفن ہیں‘ ان مکانات کو ہٹایا نہیں جاسکتا لیکن ضروری ہے کہ الہ داد پارک میں ایک بورڈ لگایاجائے جس میں کنشکا کی راجدھانی گندھارا کا ذکر ہو، سٹوپہ کا ذکر ہو اور یہ بھی کہ دوسری صدی میں پشاور ایک مقناطیس تھا جس کی کشش بدھ مت کے زائرین کو ہزاروں میل دور سے یہاں کھینچ لاتی تھی۔

اخون آباد سے آپ مشرق کی طرف اتریں تو سامنے ہمارے شہر کے سیٹھی خاندان کا قبرستان ہے، یہاں پر مجھے پروفیسر اسماعیل سیٹھی کی قبر پر فاتحہ پڑھنے کی سعادت نصیب ہوئی سیٹھی صاحب کا تعلق تعلیم کے شعبے سے تھا اور ایک وقت وہ پشاور یونیورسٹی کے وائس چانسلر بھی رہے تھے اسی قبرستان کیساتھ جنوب کی طرف ہزار خوانی روڈ ہے اور سڑک کے پار ہمارا خاندانی قبرستان۔
ہمایون اخوند کا بھلا ہو کہ انہوں نے نہ صرف شاہ جی کی ڈھیریاں کا صحیح مقام دکھایا بلکہ یہ موقع بھی فراہم کیاکہ میں نے اپنے خاندان کے قبرستان میں اپنے آباؤ اجداد کی قبروں کی زیارت کی اور فاتحہ پڑھا۔