بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاج میں شدت

لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاج میں شدت


ماہ رمضان کے آغاز پر گرمی کی شدت میں اضافے کیساتھ خیبر پختونخوا کے طول وعرض میں لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاج میں تیزی آتی جارہی ہے ملاکنڈ میں احتجاج کے دوران ایک شخص کے جاں بحق ہونے اور املاک کو نقصان کی اطلاع بھی ہے دوسری جانب پانی وبجلی کے وفاقی وزیر خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ بجلی چوری کرنے والے جتنے جلوس نکالیں انہیں بجلی نہیں دی جائیگی مسئلے کا حل وہ یہ تجویز کرتے ہیں کہ تاجروں کو چاہیے کہ وہ اپنی دکانیں جلد بند کریں تاکہ بجلی کی بچت ممکن بنائی جاسکے جبکہ وزیر اعظم نوازشریف نے بجلی بندش کے موجودہ شیڈول پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے خبررساں ایجنسی کے مطابق وطن عزیز میں بجلی کا شارٹ فال6700میگا واٹ پر پہنچ گیا ہے وزارت پانی وبجلی یہ شارٹ فال 4ہزار میگا واٹ بتارہی ہے جبکہ اگلے سال سب اچھا ہوجائے گا بھی کہا جاتا ہے ‘تربت میں درجہ حرارت54 ڈگری سینٹی گریڈ کی ریکارڈ حد تک پہنچ چکا ہے محکمہ موسمیات کے ترجمان کا کہنا ہے کہ رمضان المبارک کے پہلے پندرہ دنوں میں موسم گرم ہی رہے گا ۔

یہ گرمی ملک کے تقریباً80 فیصد علاقے میں ہوگی جہاں تک لوڈشیڈنگ کا تعلق ہے تو موسم گرما یا رمضان المبارک اچانک نہیں آئے اس صورتحال سے قبل موثر منصوبہ بندی سے گریز کیاگیا جہاں تک ریکوری کا سوال ہے تو اعداد وشمار کے مطابق وفاق اور صوبائی حکومتوں نے بجلی بلوں کی مد میں 123ارب جبکہ نجی صارفین نے 526ارب روپے سے زائد دینے ہیں وزارت پانی وبجلی کے ترجمان ایک بار پھر کہتے ہیں کہ شہروں میں بجلی کی بندش کادورانیہ4 سے6 اور دیہات میں8گھنٹے ہے جہاں تک بجلی کی قلت کا مسئلہ ہے تو اس کے حل کیلئے اقدامات کیساتھ لوڈمینجمنٹ واپڈا کی ذمہ داری ہے اس مینجمنٹ میں بزنس کمیونٹی کو اعتماد میں لینا ہے جہاں تک ریکوری کا سوال ہے تو یہ بھی متعلقہ دفاتر کی ذمہ داری کا حصہ ہے اس میں کمیونٹی سے تعاون لیا جاسکتا ہے بجلی کی پیداوار بڑھانے ‘لوڈ مینجمنٹ اور ریکوری کے ساتھ ترسیل کے نظام میں بہتری اور اضافی بلوں کی روک تھام مسئلے کاحل ہیں جس کے لئے اقدامات نہ اٹھائے گئے تو مزید نقصان کا اندیشہ ہے۔

سرکاری منصوبوں میں تاخیر؟

وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے پشاور ریپڈ ٹرانزٹ منصوبہ6ماہ میں مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے وزیراعلیٰ نے واضح کردیا ہے کہ پراجیکٹ پر کام اگست میں شروع ہوکر دسمبر میں مکمل ہونا چاہیے سرکاری منصوبوں کی تکمیل کے لئے ٹائم فریم کی ضرورت سے متعلق بار بار نشاندہی کی جاتی رہی ہے کسی بھی پراجیکٹ میں تاخیر نہ صرف اس کے اخراجات میں اضافے کا موجب بنتی ہے بلکہ تعمیراتی کام کے باعث شہریوں کو رکاوٹوں اور مشکلات کاسامنا رہتا ہے پشاور میں حیات آباد کے قریب فلائی اوور کے لئے ٹائم فریم دیاگیا جس کے نتیجے میں منصوبہ عملی شکل اختیار کرکے آسانی کاذریعہ بن گیا وزیراعلیٰ نے رپیڈ ٹرانزٹ منصوبے کے لئے بھی ٹائم فریم دے دیا ہے تاہم ایسا صرف ایک منصوبے کیلئے ناکافی ہے صوبے میں جاری تمام پراجیکٹس کا جائزہ لیکر ان میں تاخیر کے ذمہ داروں سے پوچھ گچھ کیساتھ ادھورے منصوبوں کی تکمیل کے لئے ڈیڈ لائن ضروری ہے ضروری یہ بھی ہے کہ پراجیکٹس پر کام کرنے والوں کو ادائیگیاں بھی بروقت ہوں تاکہ کام رکنے نہ پائے اس سب کے ساتھ تمام متعلقہ محکموں کے درمیان باہمی رابطہ بھی ناگزیر ہے تاکہ سرکاری خط وکتابت میں کم وقت صرف ہو۔