بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / َعمران خان سے منی ٹریل کی تفصیلات طلب

َعمران خان سے منی ٹریل کی تفصیلات طلب


اسلام آباد۔سپریم کورٹ نے چیئرمین تحریک انصاف خان سے بنی گالہ میں زمین کی خریداری کی منی ٹریل طلب کرتے ہوئے قرار ہے کہ عمران خان کو ثبوت دینا ہوگا کہ انھوں نے زمین خریدنے کے لئے اہلیہ سے ادھار لیا تھا۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ اہلیہ سے قرض لینے کے اقرار کے بعد بار ثبوت عمران خان پر ہے اگر وہ قرض کے پیسوں کا ٹریل نہیں دے سکیں تو اس کے اثرات کو دیکھنا ہوگا۔

انھوں نے کہا معاملہ ٹیکس اورمیاں بیوی کے درمیان لین دین کا نہیں بلکہ ایک منتخب نمائندے کے ایماندار ہونے کا ہے۔ عدالت نے الیکشن کمیشن کو ہدایت کی ہے کہ وہ بتائے کہ کہ اگرتحریک انصاف پر ممنوعہ طریقے سے فنڈز اکھٹا کرنے کا الزام ہو اور اس پر پولیٹیکل پارٹیز آرڈر مجریہ 2002کے دفعہ 63کا اطلاق ہوتا ہو تو اس پر اختیار سماعت کس فورم کو حاصل ہوگا اور کونسے فورم کو ممنوعہ ذرائع سے حاصل کردہ فنڈز ضبط کرنے کا اختیار حاصل ہوگا۔

چیف جسٹس میان ثاقب نثار نے کہا کہ عمران خان نے تسلیم کیا ہے کہ بنی گالہ میں زمین خریدنے کے لئے رقم کم پڑ گئی تھی اس لئے اہلیہ سے ادھار لیا ادھار کی رقم کن ذرائع سے ان کو پہنچی اور کن ذرائع سے واپس ہوئی اس کا ثبوت دینا پڑے گا جبکہ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ لندن فلیٹ بیچنے کے بعد بھی 12سال تک اف شور کمپنی نیازی سروسز لمٹیڈ موجود رہی اگر کمپنی کے نام صرف ایک جائداد تھی تو اسے بیچنے کے بعد کمپنی برقرار رکھنے کی کیا ضرروت تھی؟۔

منگل کو عمران خان کے وکیل نعیم بخاری نے پچھلی سماعت پر اٹھائے گئے سوالات کے جواب دیے اور کہا کہ ان کے موئکل نے زمین اپنی اہلیہ کے لئے خریدی تھی اور یہ ان کی ملکیت تھی لیکن طلاق کے بعد وہ زمین اپنے پاس نہیں رکھنا چاہتی تھی اس لئے سابق شوہر کو تحفے میں دی اور انتقال کے لئے سیف اللہ سرور کو پاؤ ر اف اٹارنی دیا۔ان کا موقف تھا کہ طلاق کے بعد جمائما کے نام کوئی زمین منتقل نہیں ہوئی اور انتقال میں زوجہ درج ہونے کی وجہ انتقال میں تاخیر ہے جس کے لئے وہ ذمہ دار نہیں۔انھوں نے بتایا کہ زمین کے انتقال کا عمل 2002میں شروع ہوا لیکن پابندی کی وجہ سے اس وقت یہ عمل مکمل نہیں ہوسکا اور 2005میں مکمل ہوا۔نعیم بخاری کا کہناتھا کہ عمران اور جمائما میں طلاق جون 2004میں ہوئی جبکہ بنی گالہ کی زمین کا آخری انتقال 2003 میں ہوا۔عدالت کے استفسار پر انھوں نے بتایا کہ رقم کی ترسیل کے بارے ان کے پاس موجود ثبوت انھوں نے جمع کردئے لیکن جمائما سے رابطہ کرکے ان سے ان کے پاس دستیاب دستاویزات مانگی گئی ہیں ۔

موصول ہونے پر جمع کردی جائیں گی ۔نعیم بخاری نے کہا کہ عمران خان 1981سے اب تک کا ٹیکس ریکارڈ سر بمہر لفافے میں جمع کردیا ہے ،عدالت اسے دیکھ سکتی ہے لیکن درخواست گزار کو اسے دیکھنے کا حق حاصل نہیں۔نعیم بخاری نے شاہراہ دستور پر گرینڈ حیات کمپلیکس میں فلیٹ کی خریداری کے لئے رقم کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ انکم ٹیکس ریٹرن اور الیکشن کمیشن میں جمع گوشواروں میں رقم کا ذکرکیا گیا ہے لیکن جائداد اس لئے ظاہر نہیں کی گئی کہ ابھی تک اسے الاٹمنٹ نہیں ہوئی۔انھوں نے مزید بتایا کہ لندن فلیٹ کا انک ٹیکس ریٹرن میں اس لئے ذکر نہیں ہوا کیونکہ وہ باہر کمائی گئی رقم سے خریدا گیا تھا لیکن 2000میں ٹیکس ایمنسٹی سکیم کے تحت انھوں نے فلیٹ ظاہر کرکے ٹیکس ادا کردیا اور یہ معاملہ حل ہوگیا کیونکہ سی بی آر نے ان کی درخواست پر اعتراض نہیں کیا تھا۔

جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ ٹیکس ایمنسٹی سکیم سے غلط طور پر فائدہ اٹھایا گیا کیونکہ یہ اس طرح کے اثاثوں کے لئے نہیں تھی ،یہ ملکی اثاثوں کے لئے تھی اور این ایس ایل پاکستان میں نہیں تھی جسٹس عمر عطا بندیا ل نے کہا دیکھنا ہوگا کہ 2002سے پہلے فلیٹ ظاہر نہ کرنے سے قانون کی خلاف ورزی تو نہیں ہوئی اور یہ بھی دیکھنا ہوگا اس طرح اثاثے چھپانے پر کوئی نااہل ہوا یا نہیں؟۔چیف جسٹس نے کہا کہ دیکھنا ہوگا کہ ٹیکس ایمنسٹی سے جائز طریقے سے فائدہ اٹھایا گیا یا نہیں۔اکرم شیخ نے کہا کہ عمران خان نے 1997کے الیکشن کے کاغذات نامزدگی میں لندن فلیٹ کو ظاہر نہیں کیا جس پر چیف جسٹس نے کہا ہم نے یہ نکتہ نوٹ کیا ہے۔

اکرم شیخ نے کہا کہ 2002کے الیکشن میں فلیٹ طاہر کیا گیا اف شور کمپنی نہیں جس پر نعیم بخاری نے کہا کہ فلیٹ کے مالک عمران خان تھے اس لئے کمپنی ظاہر کرنے کی ضرروت نہیں تھی۔جسٹس بندیال نے کہا جب کمپنی کی ضرورت نہیں رہی تھی تو اسے رکھنے کا کیا جواز تھا؟نعیم بخاری نے کہا جمائما خان کو بینک کے ذریعے رقم واپس کی گئی اور کراس چک کے ذریعے ادائیگی ہوئی۔انھوں نے جمائما خان کی طرف سے زیادہ رقم بھیجنے کا اقرار کرتے ہوئے کہا کہ یہ کوئی لین دین نہیں تھا بلکہ میاں بیوی کے درمیاں تعلق کا معاملہ تھا اس میں تیسرے فریق کے کھودنے کی قطعا کوئی ضرروت نہیں۔انھوں نے کہا کہ وہ آج اپنے دلائل سمیٹ لیں گے اور جمائما کی طرف سے ملنے والی دستاویزات موصول ہونے پر جمع کردیں گے۔

عدالت نے سماعت آج صبح تک ملتوی کرتے ہوئے حنیف عباسی کی طرف سے جمع اضافی دستاویزات پر عمران خان کے وکیل سے جواب طلب کرلیا جبکہ الیکشن کمیشن کے نمائندے کو ہدایت کی کہ وہ اٹھائے گئے سوالات پر اپنا جواب جمع کریں اور بتائے کہ کمیشن کی طرف سے کون پیش ہوگا کیس کی سماعت آج تک ملتوی کردی گئی ہے.