بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / طیبہ کو ایس او ایس ویلج میں رکھنے کا حکم

طیبہ کو ایس او ایس ویلج میں رکھنے کا حکم


اسلام آباد۔سپریم کورٹ نے اسلام آباد کے ایڈیشنل سیشن جج کی اہلیہ کے ہاتھوں تشدد کا شکارمعصوم بچی طیبہ کو تا حکم ثانی ایس او ایس ویلج میں رکھنے کا حکم دیا ہے جبکہ بچوں کے تحفظ سے متعلق قوانین کے حوالے سے سول سوسائٹی کے اراکین سے ایک ماہ میں سفارشات طلب کرلی ہیں ۔ منگل کو چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں عدالت عظمی کے تین رکنی بینچ نے ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی ، اس موقع پر، ایڈیشنل اٹارنی جنرل رانا وقارنے عدالت کوآگاہ کیا کہ طیبہ تشدد کیس کا ٹرائل کرنے والے جج جسٹس محسن اختر کیانی نے کیس کی سماعت سے معذرت کرلی ہے اور معاملہ چیف جسٹس اسلام آبادہائی کورٹ کو بھجوا دیا ہے۔

اس دوران ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد میاں عبدالرؤف نے بتایا کہ جسٹس محسن کیانی سول جج راجہ خرم علی کیخلاف محکمانہ کارروائی کر رہے تھے محکمانہ انکوائری میں راجہ خرم کیخلاف کارروائی کی سفارش کی گئی۔ اس دوران سول سوسائٹی کی طرف سے طاہرہ عبداللہ نے کہاکہ طیبہ پر ٹرائل کے دوران بے رحمانہ جرح کی گئی،جس پر چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کاکہنا تھا کہ والدین اپنی مجبوری پر بھی بچوں کو کام پر لگاتے ہیں اور بچوں کو گھر کے چھوٹے بچوں کی دیکھ بال کیلئے ملازمت پر رکھا جاتا ہے، چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ بچوں سے کام کے دوران پلیٹ بھی ٹوٹ سکتی ہے ، کھلونوں سے کھیل بھی سکتے ہیں ، چیف جسٹس نے مزید کہاکہ ان معصوم بچوں کا چاکلیٹ کھانے اور جوس پینے کودل بھی کرتا ہوگا، لیکن ایسا کرنے پرکام کیلئے رکھے گئے ۔

بچوں کو جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے، اس بات پر بھی معاونت کی جائے کہ بچوں کے ذریعے گھر کی کفالت کرنے والے والدین کا کیا کریں ، اس پر انیس جیلانی ایڈووکیٹ نے کہا کہ حکومت اسی بات کو ڈھال بنا کر استعمال کرتی ہے، بیت المال اور زکوۃ سمیت حکومت کے پاس بے پناہ وسائل ہیں انہوں نے کہاکہ اورنج لائن کیلئے وسائل ہیں تو اس کام کیلئے کیوں نہیں ، ۔چیف جسٹس نے کہاکہ اس موضوع پر بات نہ کریں ۔

اس دوران حکومتی وکیل کی جانب سے بچوں کے تحفظ کے قانون کا مجوزہ مسودہ عدالت میں پیش کیا گیا تو عدالت نے طاہرہ عبداللہ کو مسودے پر ایک ماہ میں سفارشات دینے کی ہدایت دی تو طاہرہ عبداللہ نے بتایاکہ اس وقت ملک میں پچیس ملین سے زائد بچے سکول نہیں جاتے چیف جسٹس نے کہاکہ یہ مسئلہ بنیادی حقوق کا ہے اس لئے ایسی بنیاد رکھنا چاہتے ہے جو آنے والی نسلوں کے کام آئے۔ بعد ازاں عدالت نے کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کردی ۔