بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / وزیراعظم کا نوٹس

وزیراعظم کا نوٹس

وزیراعظم نوازشریف نے لوڈشیڈنگ کے موجودہ شیڈول پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے صارفین کو زیادہ ریلیف فراہم کرنے کے لئے قابل عمل حکمت عملی اپنانے کا حکم دیا ہے کابینہ کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ حکومت کو بجلی سے متعلق عوام کی مشکلات کا احساس ہے اور شہریوں کو ریلیف کی فراہمی تک وہ چین سے نہیں بیٹھیں گے وزیراعظم نے یہ احکامات ایسے وقت میں جاری کئے ہیں جب خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں بجلی کی بندش کے خلاف جاری احتجاج شدت اختیار کرچکا ہے اور عین اسی روزجب توانائی بحران سے متعلق کابینہ کمیٹی کا اجلاس جاری تھا درگئی میں انصاف ایس ایف کا کارکن مظاہروں کے دوران جاں بحق جبکہ دس سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے واپڈا دفاتر اور پولیس سٹیشن نذر آتش ہوئے اور حالات پر قابو پانے کیلئے فوجی دستے تعینات کئے گئے مظاہروں میں اسسٹنٹ کمشنر بھی زخمی ہوئے جبکہ ملاکنڈ روڈ چھ گھنٹے بند رہا اسی روز پشاور میں بھی مظاہرہ ہوا‘اسی دن عوامی نیشنل پارٹی نے لوڈشیڈنگ اور بجلی کے کم وولٹیج سے متعلق قرار داد بھی صوبائی اسمبلی میں جمع کرائی خیبر پختونخوا کے وزیر اطلاعات شاہ فرمان کا کہنا ہے کہ وفاق صوبے کو اس کے آئینی حصے کے مطابق بجلی نہیں دے رہا ان کا کہنا ہے کہ اگر خیبر پختونخوا کو اس کا مقررہ کوٹہ دیا جاتا تو لوگ آج سڑکوں پر نہ ہوتے بجلی بحران ایک ایسے وقت میں شدت اختیار کرگیا ہے ۔

جب حکومت اگلے سال لوڈشیڈنگ کو قصہ پارینہ بنانے کا کہہ رہی ہے وزیراعظم کو بتایا جارہا ہے کہ مارچ 2018ء میں 9ہزار107 میگا واٹ بجلی سسٹم میں داخل ہورہی ہے دوسری جانب حکومتی اداروں کی ذمہ داری کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ وزارت پانی وبجلی اور این ٹی ڈی سی شارٹ فال کے حجم پر متضاد بیانات جاری کررہے ہیں منسٹری کا کہنا ہے کہ بجلی کی پیداوار 16ہزار 400میگا واٹ ہے جبکہ این ٹی ڈی سی یہی پیداوار15ہزارمیگا واٹ بتاتی ہے یہ درست ہے کہ طلب کے مقابلے میں رسد کم ہونے پر بحران ضرور پیدا ہوتا ہے تاہم غلط یہ بھی نہیں کہ بحران کی شدت کو بہتر مینجمنٹ کیساتھ کم کیا جاسکتا ہے وزیراعظم کا نوٹس اور ہدایت اسی صورت ثمر آور ہوسکتے ہیں کہ جب مینجمنٹ بہتر بنائی جائے یہ کام تقسیم کارکمپنیوں کے لیول کا نہیں اس کیلئے پالیسی وضع کرنا اعلیٰ سطح کے حکام کی ذمہ داری ہے بصورت دیگر سب کچھ زبانی کلامی ہی رہ جائے گا۔

سرکاری ادائیگیاں‘ٹائم فریم کی ضرورت

اکاؤنٹنٹ جنرل خیبر پختونخوا شریف اللہ وزیر ملازمین کو تنخواہوں اور پنشن کی ادائیگی کا طریقہ کار مزید آسان بنانے کا عزم ظاہر کرتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ سروسز میں بہتری کیلئے سٹاف کی کمی کو بھی دور کیا جارہا ہے اے جی کا احساس وادراک قابل اطمینان سہی تاہم جب تک تمام ادائیگیوں کے لئے ٹائم فریم پر عمل درآمد سو فیصد یقینی نہ ہو اس وقت تک اصلاح احوال ممکن نہیں اکاؤنٹنٹ جنرل آفس کو ون ونڈو آپریشن زیادہ سے زیادہ فعال بنانے کے ساتھ دفتر میں پڑے تمام کیسز قاعدے قانون کے تحت نمٹانے کے لئے ڈیڈ لائن دینا ہوگی جی پی فنڈز اور دیگر ایسے کیس نمٹانے کیلئے کہ جن میں دوسرے دفاتر سے معلومات لینا ہوں خصوصی میکنزم ناگزیر ہے ڈسٹرکٹ دفاتر کو پشاور ہیڈ آفس سے طلب کردہ معلومات جلد ازجلد فراہم کرنے کا پابند بنایا جائے تاکہ کوئی درخواست دہندہ خود اپنے کیس کے لئے مختلف اضلاع جانے پر مجبور نہ ہو۔