بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / را میٹرئل کی امپورٹ پر ٹیکس وصول کرنیکی تجویز

را میٹرئل کی امپورٹ پر ٹیکس وصول کرنیکی تجویز

اسلام آباد۔فنانس بل 2017میں فاٹا اور پاٹا کے لیے را مٹیرئل کی امپورٹ پر ٹیکس وصول کرنے اور جعلی سگریٹ فروخت کرنے والوں کے لیے 25ہزار جرمانہ اور 5سال قید کی سزا تجویز کی گئی۔ فنانس بل 2017میں ضلعی سطح پر ڈسٹرکٹ ٹیکسیشن آفیسر اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر آڈٹ کی پوسٹیں کی پیدا کرنے کی تجویز کی منظوری دے دی گئی۔

سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے چیئرمین سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی صدارت میں منعقد ہونے والے اجلاس میں فنانس بل 2017کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا اور قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں سیلز ٹیکس کے حوالے سے ایف بی آر کی طرف سے تجاویز کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔

کمیٹی اجلاس میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے ممبر آئی آر پالیسی نے قائمہ کمیٹی کو سیلز ٹیکس کے حوالے سے سفارشات بارے میں تفصیل سے آگاہ کیا ۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ اے ٹی ایل کے حوالے سے کے یہ تیسرے چیئرمین ایف بی آر ہیں جو معاملے کا جائزہ لے رہے ہیں مگر مسئلہ حل نہیں ہوپارہا ۔ آزاد جموں کشمیر کے کاروباری حضرات کو ڈبل ٹیکس ادا کرنا پڑ رہا ہے۔

ایف بی آر اس حوالے سے موثر تجاویز پیش کرے۔قائمہ کمیٹی نے کمشنر کی اپیل کے فیصلے سے پہلے ٹیکس ادا کرنے والے سے 25 فیصد کی بجائے 10 فیصد ٹیکس وصول کرنے کی سفارش کر دی ۔ رکن کمیٹی الیاس بلور نے کہا کہ ڈپٹی کمشنر کئی طرح غلط ٹیکس بھی لگاتے ہیں جو بعد میں غلط ثابت ہوتے ہیں ۔

قائمہ کمیٹی نے ایس آر اوز کی ویلیڈیشن کے حوالے سے فیصلہ کیا کہ اس معاملے کو کیبنٹ کو بھیجا جائے ۔ قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ سن فلاور اور کینولا ہائی بریڈ بیج کی ایمپورٹ کو ٹیکس سے استثنیٰ دی گئی ہے ۔ اور پانچ سال تک پرانی کمبائنڈ ہارویسٹر مشینوں کی ایمپورٹ کی ڈیوٹی 17 فیصد سے کم کر کے 7 فیصد کر دی گئی ہے ۔ کھادوں پر سیلز ٹیکس کو کم کر دیا گیا ہے ۔

جسے اراکین کمیٹی نے سراہا کہ اس سے ریفنڈ کے مسئلے میں بہتری آئی گئی ۔ قائمہ کمیٹی کو یہ بھی بتایا گیا کہ پولڑی کے شعبے میں مشینوں کی ایمپورٹ پر ڈیوٹی کم کر دی گئی ہے ۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ نئی انکم ٹیکس کے بدولت 3.5لاکھ ٹیکس پیئر ٹیکس کے دھارے میں داخل ہوچکے ہیں۔

قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹرز طلحہ محمود ،محسن خان لغاری ،محسن عزیز ، عثمان سیف اللہ ،سعود مجید ،الیاس احمد بلوراور عائشہ رضافاروق کے علاوہ چیئرمین ایف بی آر محمد ارشار ، ممبر پالیسی ایف بی آر ڈاکٹر محمد اقبال ، جوائنٹ سیکرٹری قانون شیخ سرفراز ، ایڈ یشنل سیکرٹری خزانہ و دیگر اعلی حکام نے شرکت کی۔